بچوں کو کیسے ٹریننگ دیں؟ رضوان اللہ خان

سر آپ چھ سات گھنٹے بچوں کو کیسے ٹریننگ دے لیتے ہیں؟ ان میں بدتمیز بچے بھی تو ہوتے ہوں گے؟
جواب: آسان سا نسخہ ہے: بچوں کو ٹریننگ دیتے، سکھاتے اور سمجھاتے ہوئے اپنا ''ٹرینر ٹائٹل'' چھپا کر انہی جیسا بچہ بن جانا ہوتا ہے۔

جب بچے کو یہ احساس ہونے لگے کہ سکھانے والا استاد سے بڑھ کر دوست ہے، تو وہ آپ کی ہر بات مانتا چلا جاتا ہے۔ ہم مری میں بچوں کی ''لیڈرشپ'' ٹریننگ میں مصروف تھے۔ ان میں چھٹی کلاس سے میٹرک تک کے بچے شامل تھے۔ سب سے شرارتی بچے کی نشاندہی پہلے دس منٹ میں ہوچکی تھی (اب شرارتوں کو مثبت رخ دینا باقی تھا)۔ یاد رہے شرارت ایک ''انرجی'' ہے۔ غلطی وہاں سے شروع ہوتی ہے؛ جب ہم اس انرجی کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے انرجی دو صورتیں اختیار کرتی ہیں۔
1) بے چینی
2) بدتمیزی
شرارت اور بدتمیزی کے درمیان محض باریک سی لکیر ہے۔

میں اس باریک لکیر کو ''بے چینی'' کی لائن کہتا ہوں۔ اگر آپ بچے کو پہلی ہی بار میں اس لکیر یا لائن سے آگاہ کردیں؛ تو بچہ آپ کی انگلی تھام کر چل پڑتا ہے۔
اس لائن کو کراس کرنے سے بچانے کے لیے، آپ کو بچے کی بنیادی شرارت کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ یہ شرارت بچے کا حق ہے۔ جب آپ اس کے جائز حق کو دباتے ہیں، تو بچہ ''بے چینی'' کی لائن پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد دو ہی راستے ہیں:
»یا تو آپ اسے واپس بنیادی انرجی کی جانب لوٹا دیں
»یا ''انرجی برسٹ'' ہونے سے بچہ ''بے چینی'' کی لائن عبور کرے اور پازیٹیو انرجی، بدتمیزی یعنی نیگیٹو انرجی میں بدل جائے۔

بنیادی انرجی کو دبایا نہیں جائے گا۔ بلکہ اسے مثبت رخ دینا ہوگا۔ جس بچے کی بات سے آغاز کیا وہ کسی طور قابو میں نہ آتا تھا۔ مجھے ٹریننگ شروع کرنے سے پہلے آگاہ کردیا گیا تھا۔ میں نے اس بات کو بالکل بھی توجہ نہ دی بلکہ سیشن شروع کرتے ہی اس شرارتی بچے کی ''شرارتی حس'' کو چھیڑا۔ وہ اکیلا نہ تھا مگر سب کا لیڈر وہی تھا۔ یعنی مین سوئچ کو کنٹرول کرنے سے دیگر دس بچے آٹومیٹکلی کنٹرول ہوتے ہیں۔

پہلی شرارت بچے کی بجائے میری جانب سے تھی اور اگلا لمحہ ''بے چینی'' کی باریک لائن سے آگاہ کرنے کا تھا۔ ہم نے بچوں کو سو فیصد شرارت کرنے کا حق دیا مگر اس بات کے ساتھ:
''شرارتی بچے میرے فیورٹ ہوتے ہیں۔ زندگی میں شرارتیں لازمی ہونی چاہیے۔ لیکن۔۔۔۔۔ (میں آنکھیں مکمل کھول کر سب کو شرارتی نظر سے گھورتا ہوں۔ سب مسکرانے لگتے ہیں)
لیکن شرارت اور بدتمیزی میں صرف ایک باریک لائن ہے اور وہ استاد کا اشارہ ہے۔ یعنی جب شرارت پر استاد منع کردے اور آپ اسے دہرائیں تو یہ بدتمیزی بن جاتی ہے۔ شرارت بہترین چیز ہے جبکہ بدتمیزی بدترین عمل۔

اب بتائیں آپ شرارت کریں گے؟
اکثر بچوں کا جواب ''نہ'' میں ہوتا ہے۔ (تب میں کہتا ہوں)
ارے شرارت کے بغیر تو مزہ نہیں آئے گا۔ شرارت تو کرنی ہے مگر کب تک؟
سب جواب دیتے ہیں: جب تک استاد منع نہ کردے''

یہیں سے ہمارے دوستانہ تعلق کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ہم شرارت پر غصہ نہ کرتے۔ نہ ہی شرارت کو دبانے کی کوشش کرتے۔ بلکہ اشاروں ہی اشاروں میں شرارتی انرجی کی سمت سیکھنے کی جانب شفٹ کردیتے۔

صبح نو بجے شروع ہونے والی ٹریننگ جب شام پانچ بجے اپنے اختتام کو پہنچنے کو تھی۔ اس وقت سب نے اس شرارتی لیڈر کو ہر بچے کے سامنے سے ''چائے'' کے ڈسپوزایبل کپس اٹھاتے دیکھا۔ سیشن کے اختتام پر ووٹنگ اور مارکنگ کی بنیاد پر جس بچے کو سب سے زیادہ ایکٹیو پارٹیسیپیشن پر انعام ملا، وہ یہی بچہ تھا۔

سب سے زیادہ شرارتی بچے کو اپنے ساتھ الائن کرنے کے لیے ڈانٹ ڈپٹ یا سزا اسے ''بے چینی'' کی لائن کراس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ محبت اور پیار سے ایسے بچے کو باقاعدہ نام لے کر پکاریں۔ مثلا:
اب خرم سے پوچھتے ہیں۔
خرم صاحب کچھ آپ بھی جواب دیں۔
مجھے یقین ہے خرم بہترین جواب دے گا۔
خرم کا دماغ بڑا تیز ہے، یہ شرارتوں کے ساتھ پڑھائی پر توجہ دے تو سب سے آگے نکل جائے گا۔

بچے کا نام محبت، پیار اور خلوص سے لیں گے تو وہ الائن ہوتا چلا جائے گا۔ وگرنہ وہ آپ سے خوف کھائے گا اور دور ہوتا چلا جائے گا۔ ایسے بچے کو گروپس کا لیڈر بنائیں۔ عمومی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ شرارتی بچے کو ایکٹیو رول نہیں دیا جاتا۔ آپ ایسے بچے کو ایکٹیو رول دیں۔ مثبت کاموں میں مین رول دیں تب یہ بچہ آپ کے قریب ہوتا چلا جائے گا اور بدتمیزی کی گھٹا سے بچتا چلا جائے گا۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.