خود ساختہ مظلومیت، الزام تراشی کے پردے میں چھپی نا اہلی - ام حبیبہ

الزام تراشی اور احساس مظلومیت، ایسے ہے جیسے موت کے کنواں میں ڈرائیونگ، جتنی مرضی مہارت دکھا لیں اور خطرہ مول لیں، جہاں سے شروع کیا تھا، وہیں اختتام ہوگا۔ تماشائی تب تک تالیاں بجائیں گے جب تک دلچسپی برقرار رہے گی۔ شو ختم ہوگا تو آپ منزل پر نہیں ہوں گے۔ عقل مندی ایسے سفر نہ کرنے میں ہے۔

انفرادی سطع پر لوگ کچھ اس طرح اپنی خودساختہ مظلومیت اور ناکامی کی داستان سناتے ہیں: دنیا ظالم ہے، رشتے دار خود غرض اور حاسد ہیں، قسمت خراب ہے، جادو ہے، ستارے گردش میں ہیں، باس بدمزاج ہے، بےروزگاری، حکومتی پالیساں اور معاشی حالات، کسی نے جادو کروا دیااور یہ فہرست طویل سے طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔

بخدا ! یہ جذباتی کہانیاں ہیں جس کے سہارے ہم اپنی نااہلیت کو چھپاتے ہیں۔ ہر "احساس ِمظلومیت" کے شکار شخص کے پاس ایک خودساختہ مظلومیت کی داستان ہوتی ہے۔ جس میں اس کا کردار تو بس کسی بےجان پتھر جیسا ہوتا ہے۔ اُس کے لیے دنیا بس ختم ہو چکی ہے۔ اپنی مصیبتوں اور مشکلات کا موردالزام دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ اللہ نےجو عقل و فہم، ارادہ و عمل اور اختیار جیسی جو نعمتیں انسان کو عطا کی ہیں، ان سے جیسے اجنبیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اپنے آپ پر ظلم کی داستان کو آپ جتنا مرضی رنگین و سنگین کر دیں، آنسوؤں اور اشکوں سے درد ناک بنا لیں، آپ کا درد کم ہونے والا نہیں ہے، لوگوں کے خلاف جتنے مرضی زبانی کلامی الزام اور دہائیاں دے لیں، نجات ملنے والی نہیں ہے۔

سب سے سستا اور زہریلا نشہ احساسِ مظلومیت اور الزام تراشی ہے۔ ہر دوسرا شخص ِاس مرض میں خوشی سے مبتلا ہے۔ ہم کچھ کر نہیں سکتے ہیں، کیونکہ ذمہ دار کوئی اور ہے۔ برا محسوس کر سکتے اور کروا سکتے ہیں۔ مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے بہت سا وقت مسائل پر بحث کرنے میں ضائع کرتے ہیں۔ معاشرے میں الزام تراشی اور احساس مظلومیت کا کلچر جس تیزی سے رواج پا رہا ہے، اس میں ہمارا واحد کام صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کس کی غلطی ہے اور کون سزاوار ہوگا ۔ذاتی، سماجی، سیاسی معاملہ کوئی بھی ہو، ہمارا ردعمل رونا دھونا، واویلا کرنا، ہولنا اور بری سے بری تصویر بنا کر پیش کرنا رہ گیا ہے، عملی قدم صرف انگلیاں اٹھانا ہے۔ محاسبہ سے زیادہ ہم احتساب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ساری توانائی رونے دھونے اور جذباتی عمل میں خرچ ہو جاتی ہے۔ باقی معاملہ کے نتائج سے پرَامن حل کی طرف جانے کا ُرجحان ابھی پروان ہی نہیں چڑھاہے۔ وہ طاقت جو ہمارے پاس مختلف صورتوں میں موجود ہوتی ہے اس کے ادراک اور استعمال کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ہے۔

الزام تراشی اور احساسِ مظلومیت سہل پسند رویہ ہے، ایک غفلت ہے، موت سے پہلے ایک موت ہے۔ِ اس مدہوشی سے باہر آئیں اپنی زندگی کو ٹاک شو نہ سمجھیں۔ اینکر تو پیسے کھرے کر کے چلے جاتے ہیں۔ آپ اشرف المخلوقات ہیں شعوری قدم اٹھانا سیکھیں، ذمہ دار رویہ ا پنائیں۔ معاشرتی رویوں کی ُدھند سے باہر نکل کر دیکھیں تو پتہ چلے گا اس طرح کی رکاوٹیں اور رویے ہرشخص کی زندگی کا حصہ ہیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ناکامی یہ نہیں ہے کہ مسائل ہیں اور آپ کو حل نہیں سمجھ آرہا۔ ناکامی یہ ہے کہ آپ اپنے مسائل کے لیے دوسروں کو الزام دیں اور احساس ِمظلومیت کاشکار رہیں۔ اپنے حالات کے ذمہ دار بہت حد تک ہم خود ہوتے ہیں۔ زندگی کے مسائل پر ہمارا ردعمل ہماری قسمت کا تعین کرتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے اعمال کا ہی جواب دینا ہے مطلب کچھ اللہ نے عطا کیاہے ُاس کا ہی سوال ہوگا۔ روکاوٹوں میں ہمارا عزم درکار ہوگا۔

ہر شے کی ایک قیمت ہوتی ہے، اپنی زندگی کی بہتری کی قیمت ّرب پر یقین، ذمہ دارنہ رویہّ، حکمت اور شعوری اقدامات میں ہے۔ مشاہدہ کریں سڑک پر موجود سگنلز آپ کو دیر کرانے کےلیے نہیں ہوتے، سپیڈ بریکر کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ آپ لاپروا ہیں، زیبرا کراسنگ آپ کو تنگ کرنے کے لیے نہیں ہوتی، جگہ جگہ راستہ بتانے کے نشان اس لیے نہیں کہ آپ بھلکڑ ہیں۔ ایک ٹریفک کا نظام ہے جس کے تحت بہت سے لوگوں کو آسانی اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچنے کے لیےآپ تدبیر اور عمل دونوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وقت کا حساب کتاب رکھتے ہیں۔ متبادل راستوں اور ممکنہ خطروں پر نظر رکھتے ہیں اور ہاں بالفرض کوئی ناگہانی حادثہ یا ناگوار صورتحال پیش آجائے تو اس سے نبٹتے ہیں اور سفر مکمل کرتے ہیں۔ آپ کا اپنا ردعمل سفر میں بہت اہم ہوتا ہے، کبھی اچھا بھی ہوتا کبھی برا بھی ہوتا ہے۔ پر منزل نظروں سے اوجھل نہیں ہوتی ہے۔ پھر کیوں یہی رویہ ہم عملی زندگی کے سفر اور معاملات میں نہیں اختیار کرتے ہیں؟ زندگی کا سٹیئرنگ ویل ہمیشہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ سگنلز سے الجھنے، سپیڈ بریکر کو کوسنے اور دوسری گاڑیوں کو بد دعائیں دینے کے بجائے اپنی ڈرائیونگ سکلزز کو بروئے کار لائیں۔

جب آپ سوچ بدلتے ہیں تو آپ کی زندگی بدل جاتی ہے۔
* Nick Vujicic ایک ہاتھ اور پاؤں کے بغیر بچہ پیدا ہوا اور آج دس ملین کے بزنس کا مالک ہے، خوبصورت بیوی کا شوہر اور ایک صحت مند بچے کا باپ بھی ہے۔ پوری دنیا کے لیے عزم و ہمت کا شاہکار ہے اور ثابت کرتا ہے کہ جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے، وہ صرف زندگی کا ایک فیصد ہے۔ زندگی کا نو فیصد وہ ہے جوکچھ آپ کرتے ہیں اس کے ردعمل میں جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔

* Helen keller نے دوسال کی عمر میں سماعت اور بصارت کھو دی، پر حالات کے آگے ہار نہیں مانی، وہ دنیا کی مشہور author ،speaker، اور social activist کے طور پر جانی مانی جاتی ہے۔

جو آپ کےساتھ پیش آتا ہے وہ اہم نہیں ہے، زندگی کی حقیقت آپ کی ردعمل سے وجود میں آتی ہے۔ آپ کی زندگی جس طرح بھی ہے اچھی یا بری صرف اور صرف آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ ہم اپنے اردگرد کے حالات اورلوگوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے، لوگ مسلسل مایوس کریں گے، ناکامیاں آتی رہیں گی، ہمارے کنٹرول میں صرف ہمارا اپنا ردعمل زندگی کے مسائل پر ہوتا ہے، سڑک پر روکاوٹ ہونا، سڑک کے اختتام کی دلیل نہیں ہے، اشارہ ہے کہ متبادل راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگر اب تک جو آپ جو حاصل کرنا چاہتے تھے وہ نہیں کر پائے تو چانسز زیادہ اس بات کے ہیں کہ وجہ آپ کے اردگرد کی چیزوں میں نہیں، آپ کے اندر ہے۔

پس ارادہ کرلیں سوچنے کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔اپنی زندگی کا چارج خود لینا ہے اور دوسروں پر الزام نہیں دھرنا اور خود کو بےبس نہیں سمجھنا، بدترین حالات میں مثبت ردعمل کا اظہارکریں گے تو یہ زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہر مسئلہ اپنے اندر ایک موقعہ رکھتا ہے اور ہر تنگی اپنے ساتھ دو اسانیاں لاتی ہے۔