ڈپریشن کو فورا دور کرنے کے 5 بہترین کام‎ - میاں جمشید

کسی بھی مشکل معاشی و معاشرتی حالات کی وجہ سے، من چاہا نتیجہ نہ ملنے کی صورت میں یا پھر کسی اچانک نقصان کی صورت میں ڈپریشن ہو جانا فطری بات ہوتی ہے۔ جس کے وجہ سے جہاں آپ حوصلہ ہار جاتے ہیں وہیں پر ذہنی و جسمانی طور پر بھی کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہر بندہ کسی بھی مشکل حالات میں اس کا شکار ہو سکتا ہے ۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے صاحب ، کہ آپ نے کتنے اچھے طریقہ سے اس حالت پر قابو پا کر خود کو مضبوط بنایا ہے ۔ تو جناب اسی حوالے سے ذیل میں 5 بہترین آزمودہ کاموں کا ذکر ہے جن کو اختیار کر کے آپ اپنے آپ کو ڈپریشن کی حالت سے فوری باہر نکال سکتے ہیں ۔ ان شا اللہ

1۔ بلا وجہ جاگنا ختم کریں:
اگرچہ اس حالت میں نیند لینا تھوڑا مشکل ہو جاتا مگر پھر بھی آپ کو چاہے نیند آے یا نہ آے ۔ چاہے اداسی والی لا تعداد منتشر سوچیں ساتھ ہوں مگر پھر بھی آپ نے سونے کے اوقات میں بستر پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنی ہے ، مطلب کہ آپ کو اپنی نیند مکمل کرنی ہے ۔ ایسا بالکل نہیں کرنا کہ پوری رات اداسی کے گانے سنتے میں گزار دیں، موبائل پر ٹائم پاس کریں یا کسی کے ساتھ اداسی والی باتیں کرتے رہیں۔ ایسے کاموں کو سائیڈ پر رکھتے ہوے رات کو لازمی نیند لیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس عادت کو اپنائیں۔

2۔ کھانا کھانے سے نہیں بھاگنا:
مثبت سوچوں کو اجاگر کرنے اور صحت مند ذہن رکھنے کے لیے مناسب کھانا بہت ضروری ہے ۔ بھوک نہ بھی لگے مگر پھر بھی اپنی روٹین کے مطابق آپ نے لازمی کھانا ہے ۔ اسی وجہ سے آپ کے اندر انرجی پیدا ہو گی ۔ خاص کر ناشتہ بالکل نہیں چھوڑنا ۔ آپ کے پیٹ کو آپ کے ڈپریشن کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ کتنی کے دیر بھوکے رہ لیں گے آپ؟ جب پیٹ بھرنا مجبوری ہی ہے تو پھر کھانا چھوڑنا ہی کیوں صاحب ۔ اس لیے صحت مند غذا سے اپنے وقت پر کھانا کھانے کی روٹین برقرار رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹینشن لینے کا نہیں - ام عمار

3۔ ذہن کی صفائی کریں:
یقین مانیں کہ ساری بات مضبوط ذھن کی ہوتی ہے ۔ اپنی لا تعداد و منتشر سوچوں پر قابو پانے کی ہوتی ہے۔ اس لیے اپنے ذھن کو خالی کریں اور اپنی سوچوں کو اس میں قید مت کریں ۔ آزاد کریں ان کو۔ پر سکوں ہو ذرا ۔اس کے لیے بہترین کام اچھے سے وضو کر کے نماز ادائیگی ہے۔ جس کے دوران اپنا فوکس ان الفاظ و تراجم پر مرکوز کریں جو نماز پڑھتے ہم ادا کرتے ہیں ۔ اپنے مکمل شعور کے ساتھ نماز کے ہر رکن کو ادا کریں اور پھر مکمل عاجزی و آنسؤں کے ساتھ دعا کریں ۔ قرآن کی تلاوت کریں۔ ان سب سے ڈپریشن میں بہت تیزی کے ساتھ کمی آے گی اور اطمینان میسر ہوگا ان شاءاللہ ۔ اس کے علاوہ سانس کی آمد و رفت پر فوکس رکھنے والا مراقبہ بھی بہت مفید ہے۔

4۔ باہر نکلیں ، گھومیں پھریں ، واک کریں:
آپ بالکل ٹھیک سوچ رہے ہیں کہ ایسی حالت میں کہیں جانے کو ، کسی سے ملنے اور بات کرنے کو دل نہیں کرتا ۔ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے آپ بھی کریں مگر صرف وقتی طور پر، مگر پھر کمرے سے باہر آئیں ، لوگوں سے ہلکی پھلکی باتیں کریں۔ واک کے لیے جائیں۔ مقصد بس خود کو حرکت میں لانا ہے تبھی ذہن کھلتا ہے، اردگرد کی ہلچل سے سوچوں کا رخ بدلتا ہے۔ جسم میں انرجی آتی ہے جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے چاہے خاموش رہ کر اکیلے ہی گھومیں پھریں یا واک و ورزش کریں، کوئی مسلہ نہیں مگر بس خود کو حرکت میں لانا ہے۔

5۔ توجہ کا فوکس بدلیں:
جس وجہ سے آپ کو ڈپریشن ہوا، اس بارے میں اب بہت سوچ لیا جناب ۔ اب ذرا دھیرے دھیرے سوچوں کا رخ "حل" کی تلاش میں لگائیں۔ اپنے آپ سے مثبت خود کلامی کرتے اور اللہ سے صبر و رہنمائی کی دعا مانگتے اپنے ذہن کو مسلہ و پریشانی سے نکلنے کے راستوں پر لگائیں۔ اپنوں اور اچھے دوستوں سے مشورہ کرنے یا مدد مانگنے سے مت ججھکیں۔ برین سٹورمنگ کرتے تمام متوقع حل کو لکھیں اور پھر مناسب حل پر عمل کریں۔ یاد رکھیں کہ ڈپریشن کا بہترین حل آپ کا "عمل" کرنا ہے نہ کہ صرف پریشانی کو ہی بار بار سوچنا۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹینشن لینے کا نہیں - ام عمار

تو دوستو یہ وہ 5 اہم کام ہیں جن کے کرنے سے آپ جلد ہی ڈپریشن کی حالت سے باہر آ سکتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ یہ سب آپ کے اپنے چاہنے پر ہی ہے۔ کوئی دوسرا آپ کو پکڑ کر سیٹ نہیں کرے گا ۔ اگر الجھن زیادہ ہو، خود سے کچھ سمجھ نہ آے تو کسی اچھے ماہر نفسیات سے مل کر کونسلنگ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے نہ ہی کوئی معیوب بات ہے کیوں کہ اس وقت میں آپ کو صرف بھرپور توجہ سے سننے اور سمجھنے والا چاہیے ہوتا ہے۔

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.