عزم و یقین کا سفر - محمد نجم الدین

کہتے ہیں کہ قرن اول میں جب اسلام اپنے ابتدائی اشاعت کے مراحل سے گزر رہا تھا تو اس کی تبلیغ و اشاعت کرنے والوں کے دلوں اور خاطروں میں جوش ایمانی کا نظارہ ہی دیدنی تھا۔ مگر از رفتہ عصر تساہل اور تسہیل پسندی نے اس ایمانی قوت میں شگاف ڈال دیا ہے۔ اس کی ابتدائی محتويات میں کثرت مادیت پرستی اور اس کے نقصانات جنہیں آج کی دنیا مختلف شکل میں بھگت رہی ہیں ، سبب الاصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب یہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اسی مادیت پرستی نے اللہ پہ توکل اور یقین کی کیفیت کو کمزور اور متزلزل کر دیا ہے۔

تجربہ شدہ حقیقت ہے کہ انسان ہر حال میں اپنے مفاد کی تکمیل وتحفیظ چاہتا ہے اور اسی کے حصول میں وہ اپنی زندگی کے کئی قیمتی اوقات و ادوار صرف کر دیتا ہے۔ مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کسی بھی طرح کا مفاد مبنی بر کامیابی و کامرانی کے لیے سخت محنت اور کٹھن دور سے گزر کر ہی ، کسی منزل مقصود پہ پینچنا ممکن ہے۔ جہاں سے ابتداِ کوشش ہوئی وہاں سے حصولِ کامیابی تک جن مراحل و ادوار سے انسان گزرتا ہے، اس دوران ناامیدی، یاس، خوف اور سُستی وکاہلی اُسے اپنی قید میں رکھتا ہے اور کسی بھی طرح اسے آزادیِ فکر اور ہمت و جوش عطا نہیں کرتا۔ مگر جن کے عزم و استقلال میں ایمانی قوت شامل ہو اور حصول منزل کی لگن انہیں چین و آرام سے مقعد پہ جلوس کی اجازت نہ دیتا ہو یعنی بےمقصد بیٹھے رہنے کی فرست ہی نہ دیتی ہو، وہ وہیں سے اپنی ساری ہمت و طاقت اس منزلِ مقصود کے پانے میں لگا دیتا ہے یعنی regeneration of inner energy کے ذریعے سے۔ تب کہیں متعین راہ کی نشانیاں انہیں عروج تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوتیں ہیں۔

اس امر سے کسی کو اختلاف اور مفر نہیں کہ وہ یہ خیال کرے کہ اسے ہر طرح چین و سکون نصیب ہو۔ اگر گنجائشِ فکر ہو تو آسائش سے بھری زندگی کا حصول کہہ لیں۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں پریشانی، دباؤ اور مایوسی کا گزر بھی نہ ہو۔ مگر باوجود اس کے یہ حالات ماحول کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں دخل دیتے رہتے ہیں۔ اب جن کے ہاں منزل کا تعین واقعیت میں واضح ہوں، وہ ان تمام گرداب مصیبت کو اپنے لیے سیڑھی کی مانند خیال کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور اپنی جدوجہد میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ کٹھن اور سختی انھیں آگے بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ ان سخت حالات میں انساں کو اپنی قوت برداشت اور صلاحیت صبر کا اندازہ ہوتا ہے۔ یعنی کہ مشکل صورتحال میں بھی استقامت کی راہ پرگامزن رکھتا ہے۔

یہی وہ خیالی اور فکری کوشش ہو گی ، جو ہم سب کو جذبہ و جنون فراہم کرے گا کہ ہم جہد مسلسل کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور متعن منزل کی جانب بڑہتے رہیں، جب تک کہ ''نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں'' کا عملی نظارہ نہ ہو۔ اس کی ایک بدیہی شکل یہ ہے کہ ہم یقین و توکل سے مبین منزل کی طرف بڑہیں اور امید واثق رکھیں کہ کامیابی و کامرانی کے بند دروازوں پر لگے ہوے مقفل پاش پاش ہو کر دریا برد ہو جائیں گے اور ہر مشکل آسانی میں بدلے گی۔ یعنی (إن مع العسر يسرا) سختی کے بعد سہولت کا فلسفہ واضح اور متعن ہو کر یقین و ایمان کے باب میں اضافہ کا ذریعہ بنے۔