اس کے بھی نمبرز دیں - جہانزیب راضی

پانچویں جماعت کے پانچ سیکشنز تھے اور میں چار میں پڑھاتا تھا۔ بریک کے دوران جس سیکشن میں میری ڈیوٹی ہوتی وہ بڑا عجیب تھا۔ اس سیکشن کے بچے بہت دلچسپ تھے۔ بریک کی گھنٹی کے ساتھ ہی یہ اپنے لنچ بکس کھولتے اور سیدھا میرے پاس آکر کھڑے ہوجاتے۔ اول تو بچوں کا لنچ لینا مجھے غیر اخلاقی لگتا تھا اور دوسرا یہ کہ میرے اپنے پاس خود کا لنچ بھی موجود ہوتا تھا، لیکن پھر بھی وہ بچے چاروں طرف سے مجھے گھیر لیتے اور دو ٹوک الفاظ میں کہتے کہ "سر ! آپ نے نہیں لیا تو ہم لنچ شروع نہیں کریں گے"۔ اور اس طرح بادل نخواستہ مجھے ان کا لنچ چکھنا پڑجاتا۔ اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ تھی کہ اگر ان کی کلاس میں کوئی بچہ لنچ نہ لاپاتا تو پوری کلاس اس کی دعوت کرتی اور وہ شاید لاکر اتنا نہ کھاپاتا، جتنا اس کے دوست اس کو بغیر لائے کھلا دیتے تھے۔ وہ کلاس اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ اس سیکشن کے تمام بچے اساتذہ کی بہت عزت کرتے تھے۔ استادوں کے آگے پیچھے گھومنا، کبھی پیار سے ان کا ہاتھ پکڑنا، کبھی تھکے ہوئے آؤ تو پانی لاکر دینا، پھر پوری خاموشی اور ادب کے ساتھ استاد کی ڈانٹ اور بات دونوں سننا۔
لیکن میرے لیے دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پانچوں سیکشنز میں سے یہ سیکشن سب سے زیادہ "نالائق" تھا ۔ کچھ نہ کچھ اس کلاس میں ضرور فیل ہوجاتے، بڑی تعداد پاسنگ مارکس لے پاتی اور بہت تھوڑے بچے امتیازی نمبر حاصل کرپاتے تھے۔ اسی کے ساتھ دوسرا سیکشن تھا۔ وہاں کے نوے فیصد بچوں کے مارکس نوے فیصد سے زیادہ آتے۔ پوری کلاس "ایجوکیٹڈ" تھی لیکن لنچ ٹائم پر لنچ شیئر کرتے ہوئے ان بچوں کی حالت غیر ہوجاتی تھی۔ سارے بچے علیحدہ علیحدہ ڈیسکوں پر بیٹھ کر لنچ کرتے۔ اگر کوئی بچہ لنچ نہ لاتا تو دل پر پتھر رکھ کر یہ بچے اس کو "خیرات" دیتے اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بچہ بھی دوسری کلاس میں نظر آ رہا ہوتا۔

اس وقت مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ اصل میں تعلیم، گریڈز اور قابلیت کے نام پر ہم نے جو تماشہ لگا رکھا ہے، یہ سارا ڈھونگ ہے۔ اصل چیز تربیت ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے نام پر تربیت سے دور کر دیا ہے۔ معاشرے میں اچھے گریڈز سے کہیں زیادہ اچھے انسانوں کی ضرورت ہے۔ میں نے اکثر گھرانوں میں دیکھا ہے اور مجھے کئی ماؤں نے اس بات کی شکایت کی کہ ہمارے جو بچے، بچیاں پڑھنے میں اچھے ہیں وہ ہماری بات نہیں مانتے ہیں، نافرمانی کرتے ہیں یا بدتمیز ہیں، ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، اور بچہ پڑھنے میں اچھا نہیں ہے جس کا کوئی اچھا گریڈ نہیں آتا، وہ سب سے زیادہ فرمانبردار اور اطاعت گذار ہے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ مہینے میں کسی دن ایک ایسی پی ٹی ایم بھی ہونی چاہییے کہ جس میں والدین اپنے بچوں کے بارے میں بتائیں۔ ان کے اخلاق، ان کے کردار، مہمانوں سے تعلق، بڑوں کا ادب، چھوٹوں کا احترام، والدین کی فرمانبرداری کے بارے میں اور پھر نمبروں کا فیصلہ اس بنیاد پر بھی ہونا چاہیے اور اس کی بھی پرسنٹیج متعین ہو۔ اسکولوں میں ایک "عملی مضمون" ایسا بھی ہونا چاہیے جس میں بچوں کے اخلاق و کردار کو جانچا جائے۔ اس بچے کو نمبرز دیے جائیں جو اپنا لنچ دوسروں سے شیئر کرتا ہے۔ باقاعدہ اس بات کے مارکس رکھے جائیں کہ کون سا بچہ اپنی پاکٹ منی میں سے دوسروں کی کچھ نہ کچھ مدد کرتا رہتا ہے۔ ہر کلاس میں وہ کون سے بچے ہیں جو صرف اپنے نمبروں اور پوزیشنز کے لیے خود غرض نہیں ہیں۔ وہ اپنی پوری کلاس کے بچوں کی مدد کرتے ہیں۔ انھیں ہوم ورک کرواتے ہیں اور اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

اس بات کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ وہ کون بچے ہیں جو کتابی کیڑے بنے رہنے کے بجائے دوسروں سے گھل مل جاتے ہیں ۔اپنے جذبات اور احساسات کو کبھی قلم اور کبھی زبان کے ذریعے دوسروں تک منتقل کرتے ہیں ۔ اس صلاحیت کے بھی نمبرز ضرور ہونے چاہئیے ہیں کہ وہ کون سے بچے ہیں جو سلیبس اور کورس کی لگی لپٹی کتابوں کے علاوہ بھی کتابیں پڑھتے ہیں۔ اخبار ، رسائل اور جرائد کا مطالعہ کرتےہیں ۔ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھتےہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہے ۔ اس بات کا امتحان لینا بھی ضروری ہے کہ وہ کون بچے ہیں کہ جن کے اندر گھسے پٹے طے شدہ چھ مضامین کے علاوہ بھی کچھ نیا تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ اور وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

پچھلے دنوں عباسی شہید اسپتال کے ڈین نے حکومت سندھ کی وزارت تعلیم کو خط لکھا اور کہا کہ "میرے پاس صرف ایک دن میں 100 بچے ایسے آئے ہیں جن کی گردن اور کمر میں صرف اس لیے درد ہے کہ ان کا بستہ ان کے اپنے وزن سے زیادہ ہے ۔اس لیے خدارا! اس اہم ایشو پر توجہ دیجیے"۔ آغا خان اسکول کی ایک بچی نے صرف اس لیے نیند کی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی کیونکہ اس کا ایگزیمینیشن فارم روک لیا گیا تھا۔ میڈیکل کے آخری سال کے طالبعلم نے خود کو اس لیے پھندہ لگا لیا کیونکہ ایگزیمنر نے دیر سے آنے کی وجہ سے اس کو کمرہ امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا۔ اس کی موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔ نسٹ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نوجوان نے گولی مار کر اپنا خاتمہ کرلیا کیونکہ اس کو نوکری نہیں مل پا رہی تھی۔ ہندوستان میں 24 گھنٹوں میں 26 خودکشیاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات ڈپریشن اور اسٹریس کی وجہ سے کرلیتے ہیں۔ اس وقت برطانیہ شدید پریشانی کا شکار ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں خو کشیوں کی شرح آئے دن بڑھتی چلی جارہی ہے۔

کراچی کا ایک نامور "اسلامک" اسکول جو "خلیفۃ اللہ فی الارض" کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔ ایک تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بنی ہوئی چیز کو آپ دوبارہ کیسے بناسکتے ہیں؟ اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ کا بچہ ڈھائی سال سے عمر میں زیادہ ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر خلیفۃ اللہ بننے کا اہل نہیں ہے۔ مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ اگر آپ کے بچے کی پیدائش ستمبر میں ہے تو مشکل ہے کہ آپ کے بچے کا داخلہ ہو۔ ہاں اکتوبر والے کا چانس زیادہ ہے کہ اس کو "خلیفہ" بنانے کے لیے اسکول تیار ہوجائے۔

اس سب کے بعد بھی آپ ہمارے معاشرے کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ مقابلے کے امتحان میں شریک ہونے والے نو ہزار سے زائد امیدواروں میں سے صرف ڈھائی سو لوگ امتحان پاس کر سکے اور نتیجہ 2 اعشاریہ 57 فیصد رہا۔ مزید یہ پتہ چلا کہ ان میں سے اکثریت ایک سنگل پیراگراف بھی انگریزی میں لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اس میں 26 ہزار سے لے کر 6 ہزار والے سبھی اسکولز شامل ہیں۔ یہ مقابلے کا نظام تعلیم بچوں میں نقل کلچر کو بھی عام کر رہا ہے۔ بچے گریڈز کے لیے اخلاق اور کردار کو پس پشت ڈال کر رشوت سمیت ہر ہر غیر اخلاقی و غیر قانونی کاموں میں ملوث ہورہے ہیں۔ اور اساتذہ کی بھی پوری توجہ ان کی تربیت کے بجائے سلیبس مکمل کروانے پر مرکوز ہے۔ یہ نظام تعلیم چیٹرز ٹیچرز اور بچے پیدا کر رہا ہے۔ "لیڈر ان می" کی ایشیاء پیسفک کی ڈائریکٹر جنیتا اینڈرسن نے بتایا کہ صرف اٹلانٹا میں بہت بڑی تعداد میں ایسے استادوں کا انکشاف ہوا ہے جو بچوں کو نقل کا مواد فراہم کرتے ہیں یا پہلے سے ہی ان تک پیپرز پہنچادیتے ہیں تاکہ ان کی ساری کلاس پاس ہوجائے اور انتظامیہ کی نظر میں وہ اچھے بن جائیں۔ یہ امریکہ جیسے "مہذب" معاشرے کا حال ہے۔

اس لیے میری سوچ ہے کہ روحانیت اور تعلق باللہ کو باقاعدہ نصاب کا بلکہ عملی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ بچوں کو یہ باور کرایا جائے کہ بیٹا! تمھاری زندگی، موت، خوشی غمی اور رزق دنیا کے کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ خوشی، سکون، اطمینان اللہ تعالی نے مادی چیزوں میں نہیں رکھا ہے۔ اچھی تنخواہ، اچھی گاڑی اور شاندار بنگلے سے کہیں زیادہ ضروری تمھارا کردار ہے۔ یہاں کے امتحان میں فیل بھی ہوگئے تو خیر ہے لیکن اگر وہاں کے امتحان میں ناکام ہوئے تو انجام بہت برا ہے۔ یہاں کے زبانی مضامین میں پاس نہ ہوسکے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر تمھارا کردار "فیل" ہے تو پھر تم واقعی ناکام ہو۔ نمبروں میں پیچھے رہ گئے تو کوئی بات نہیں ہاں مگر نیکی اور بھلائی کے کاموں میں سب سے آگے رہنا ہے۔ بچوں کو ترجیحات متعین کر کے دیں۔ اسکول میں نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مقابلے کی فضا پیدا کریں۔ گریڈز، پوزیشنز اور رینکنگ کو حسن اخلاق، خوش مزاجی، ملنساری، دوسروں کا خیال رکھنا، ڈسپلن، دوسروں کی مدد، تخلیقیت اور روحانیت سے جوڑیں۔ تاکہ بچے نیکی، بھلائی، مغفرت اور جنت کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر کریں نہ کہ ایک دوسرے کو گرانے اور نیچا دکھانے کی۔