گھریلو ملازم بچوں پر تشدد - رانا اعجاز حسین چوہان

ہمارے ملک میں ایک بڑا المیہ بچوں سے مشقت کا عام رواج ہے، جہاں معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم جیسے مسائل کے باعث بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جارہی ہے ۔ جبکہ بچوں کی جبری مشقت کو ہمارے ہاں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ، بلکہ ملازم پھول جیسے بچوںپرشدید تشدد کی خبریں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ جابجا معصوم پھول جیسے بچے گھروں میں ملازمت کرتے، چوراہوں پر بوٹ پالش سے لے کر ہوٹلوں،چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں،چھوٹی فیکٹریوں ، موٹر گاڑیوں کی کنڈیکٹری، پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے سمیت دیگر بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی لاہور کے علاقہ گجر پورہ چائنہ سکیم کے بلاک ڈی میں ایک اور معصوم گھریلو ملازمہ کو بدترین تشدد کانشانہ بنایا گیا، جہاں گیارہ سالہ ملازمہ سمیرا کو مالکن حنا ء اسکا شوہر اور بیٹاکام میں تاخیر پر گرم استری لگا کر جھلساتے اور زخمی کرتے رہے۔اہل علاقہ کے مطابق چھ سال قبل معصوم سمیرا کے والدین اسے ملازمت کے لیے چھوڑ گئے تھے، جبکہ ڈری اور سہمی ہوئی زخمی سمیرا روتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ والدین دوبارہ کبھی ملنے یا لینے نہیں آئے۔

روزبروز بڑھتی غربت، بے روزگاری، مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کے لئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے جہاں معیاری تعلیم کو فروغ دیا وہاں تعلیم کو اس قدر مہنگا کر دیا کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں، ایسے میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات برداشت کریں ، یہی وجہ ہے کہ غریب بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلوا پاتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش بچے نہیں ہوتے، ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہیں لیکن صرف وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں ’’چھوٹے‘‘ بن کر رہ جاتے ہیں۔ جبکہ آئین پاکستان کاآرٹیکل گیارہ اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ انہیں کارخانوں، کانوں اور دیگر پرخطر ملازمتوں پر نہیں رکھا جائے گا۔ گو ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 اور ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز 1995 جیسے ایکٹس بچوں کے حالات کار کو ضابطہ اخلاق میں لاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ چائلڈ لیبر قوانین تو بنے ہیں لیکن آج تک کسی کو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے سخت سزا نہیں سنائی گئی اور عملاً صورت حال سب کے سامنے ہے۔ امیر لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حالات کار سب سے برے ہیں جن پر شدید تشدد کے واقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں، اس کے علاوہ بیشتر کاروباری مقامات اور ورکشاپش میں محنت کش بچوں پر معمولی معمولی بات پر پر تشدد واقعات معمول بن چکا ہے۔ دیہات میں اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں جبکہ شہروں میں سڑکوں اور ورکشاپوں اور چھوٹے کارخانوں میں پابندی کے باوجود معصوم بچوں سے مشقت لی جاتی ہے۔ اس طرح ان ننے ہاتھوں میں قلم کی جگہ اوزاروں نے لے لی ہے۔

معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہوکرہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں تویقینا اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پا رہا ہوتا ہے، پاکستان میں موجودمعاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کوجنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتاچلاجا رہا ہے۔ امیر کے امیرتر اور غریب کے غریب تر ہونے پرقابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوںکوابتدا سے ہی کام پرلگادیں تاکہ ان کے گھروں کاچولہا جلتا رہے اور ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، چاہے ایسا کرنے سے قیمتی زندگیاں داؤ پر لگی رہیں۔ بلاشبہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے غریب خاندانوں کواپنے بچے محنت و مشقت پر لگانا ان کی مجبوری بن چکا ہے لیکن یہ بھی جائز نہیں ایسے موقع پر معاشرہ کوئی کردار ہی ادا نہ کرے ، معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ بچوں سے محنت و مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم ،صحت اور خوراک کیلئے ان کے والدین کو مناسب سپورٹ کیا جائے ۔ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر تے ہوئے موثر ترین کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ متاثرہ بچوں سے مشقت کی بجائے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */