جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کی عظیم شخصیت - اشفاق پرواز

سال ۲۰۱۶ء میں جب پہلی بار میری ملاقات جماعت اسلامی جموں کشمیر کے قیم ضلع بڈگام (ب) محترم ریاض احمد صوفی ندوی سے ہوئی، چونکہ ان کو میرا قلمی تعارف پہلے سے ہی تھا، انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے شہید جمال الدین ساکن اوگمونہ ٹنگمرگ کی سوانح حیات قلم بند کرنے کی ترغیب دی۔ مجھے ان ہی دنوں جیل سے رہائی ملی تھی۔ ذہن تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ بڑی مدت تک میں ایک کالم بھی نہیں لکھ پایا۔ یہ میری زندگی کی پہلی گرفتاری تھی، ذہنی کوفت سے گزرنا لازمی امر تھا۔ محترم ریاض صاحب جب سفر محمود پر روانہ ہوئے تو میں کچھ نوجوانوں کے ہمراہ موصوف کو رخصت کرنے ان کے گھر گیا۔ اس بار پھر محترم ریاض صاحب نے مجھے شہید جمال الدین کی تحریک اسلامی کے تئیں لگن پر قلم اٹھانے کی یاد دہانی کروائی اور اس بار شاید ہی کوئی عنصر ایسا نہیں تھا جو مجھے شہید جمال صاحب کی داستانِ سرفروشی پر قلم اٹھانے سے روک پاتا۔ ۲۸ جولائی ۲۰۱۷ بروز جمعتہ ُالمبارک میں نے اپنے عزیز دوست غازی جہانگیر احمد لون صاحب کے ہمراہ شہید جمال صاحب کے آبائی گاؤں اوگمونہ کا دورہ کیا اور ان کے اہل خانہ سے مفصل بات کی۔ عزم، استقلال اور سرفروشی کی جو داستان سامنے آئی، اسے یہاں قلم بند کر رہا ہوں۔

شہید جمال الدین ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۷ء کو چک فرستہ ریشی تحصیل کارہامہ ضلع بارہمولہ میں پیدا ہوئے۔ اپنے گاؤں میں ضروری سہولیات کا فقدان دیکھتے ہوئے آپ اوگمونہ تشریف لے آئے اور تمام عمر یہیں رہے۔ ۱۷ کتوبر ۱۹۴۸ء میں فوج میں ملازمت اختیار کی۔ جمال صاحب کو مطالعہ قرآن کا انتہائی شوق تھا ، اس لیے دوران ملازمت ہی قرآن پاک کے کئی پارے حفظ کر لیے تھے۔ انہوں نے ملازمت کے دوران ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ دوران ملازمت مختلف عہدوں پر فائز رہے، ۳۱ اکتوبر ۱۹۷۶ کو صوبے دار کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے فوراً بعد آپ ۱۹۷۸ء کو سفر محمود پر روانہ ہوئے۔ جمال صاحب کا نکاح کھور پٹن میں ہوا تھا، ان کی تین بیٹیاں ہیں۔

جمال صاحب ایک دین پسند شخص تھے۔ وہ اقامت، اشاعت و تبلیغ دین کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ دوران ملازمت وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے لیکن جب ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو ان کی ملاقات تحصیل ٹنگمرگ کے کچھ ارکان جماعت سے ہوئی۔ روابط مسلسل بڑھتے رہے اور نزدیکیاں بڑھتی گئیں۔ وہ جماعت اسلامی کے مقصد، طریق کار اور نصب العین کو دیکھ کر اس سے متاثر ہوئے۔ اس وقت کے امیر تحصیل محترم غلام رسول پرواز صاحب نے جب جمال صاحب کی تحریک کے ساتھ ہمدردی اور دلچسپی دیکھی تو آپ نے اوگمونہ میں جماعت کا حلقہ قائم کیا اور جمال صاحب کو ناظم حلقہ کے فرائض سونپ دیے۔ اس وقت کے مرکزی زعیم سید علی شاہ گیلانی صاحب کے ساتھ جمال صاحب کے قریبی تعلقات تھے۔ مراسم بڑھتے گئے اوریوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمال صاحب تحریک اسلامی کے روح رواں بن گئے۔ تحصیل ٹنگمرگ میں اس وقت صرف محترم پرواز صاحب اور شہید سلام صاحب رکن جماعت تھے۔ پھر جب جمال صاحب بھی اسی صف میں شامل ہوگئے تو یہ تعداد تین تک پہنچ گئی۔ ٹنگمرگ میں تحریک اسلامی کی دعوت کو عام کرنے میں شہید سلام صاحب، غلام رسول پرواز صاحب اور شہید جمال صاحب نے کلیدی رول نبھایا ہے۔ صف اول کے کارکن جمال صاحب نے تحریک اسلامی کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ آپ ایک کامیاب مبلغ، امام و مقرر، مخلص داعی اور متحرک کارکن تھے۔ تحریک اسلامی کے تئیں لگن، خلوص اور جذبے کو دیکھ کر ۱۹۸۹ء کو جمال صاحب ’امیر تحصیل ٹنگمرگ‘ منتخب کیے گئے۔ وہ اس ذمہ داری پر ایک سال تک فائز رہے۔

جماعت اسلامی جموں کشمیر کے صف اول کے کارکنان کو باطل نے اتنی اذیت پہنچائی کہ اس کی مثال دینا راقم کے لیے ممکن نہیں۔ انہیں شہید کیا گیا، تہاڑ، کورٹ بلوال اور سنٹرل جیل کی فضا آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ تحریک اسلامی سے وابستگان کو یہاں کتنی اذیت پہنچائی گئی۔ ان کے گھروں کو تہس نہس کیا گیا۔ متعدد وابستگان آج بھی گمنام قبروں میں مدفون ہیں۔ قید و بند کی صعوبتیں روزِ اول سے ہی تحریک اسلامی سے وابستگان کا مقدر رہا ہے۔
وہی قاتل، وہی شاہد ، وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر

شہید جمال صاحب چونکہ فوج میں ملازم رہے تھے اس لیے ان کو کبھی بھی ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں کبھی گرفتار کیا گیا تھا۔ شاید دشمن طاقتوں کی پالیسی ہی کچھ ایسی تھی، نہ گرفتاری اور نہ ہی کوئی ٹارچر، بلکہ ۸ دسمبر ۱۹۹۳ء دن کے تین بجے جمال صاحب کو منحرف بندوق برداروں نے اٹھا لیا اور چندی لورہ ٹنگمرگ میں دن دھاڑے بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کر دیا۔ اس طرح ایک داعی دین، مبلغ و امیر ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔
امن و اماں کی باتیں جو کرتے تھے ہر طرف
نکلے انہی کے پاس سے خنجر لہو لہو

جو جمال صاحب کے ساتھ امن و امان کی باتیں کرتے تھے، ان ہی کے پاس سے خون سے لت پت خنجر نکلے۔ کچھ نوجوانوں نے جمال صاحب کو شہید کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان جوانوں نے کہا کہ جمال صاحب کو شہید کر دینے سے پہلے ان سے کہا گیا کہ آپ کسی اخبار میں اشتہار شائع کریں اور جماعت اسلامی سے لاتعلقی کا اظہار کریں۔ تبھی آپ ہماری گولیوں سے بچ سکتے ہیں۔ شہید جمال صاحب نے یہ پیشکش یکسر ٹھکرا دی اور ان بدبخت بندوق برداروں نے جمال صاحب کو گولیوں سے چھلنی کر کے موقع پر ہی شہید کر دیا۔ جس وقت جمال صاحب کے قریبی دوست بشیر احمد وار صاحب اور ان کی بیٹی شکیلہ بانو عزیمت اور سرفروشی کی یہ داستان بیان کر رہے تھے، وہ زار و قطار رو رہے تھے۔ منظر ایسا تھا جیسے جمال صاحب کو چند لمحات پہلے شہید کردیا گیا تھا۔

جمال صاحب کی شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ کو کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بچے معصوم تھے، شہادت کے وقت ایک بیٹی تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔ بڑی مدت کے بعد پنشن ملنا شروع ہوگیا جس سے بڑی حد تک مالی مشکلات کا ازالہ ہوگیا۔ ایک سوال کے جواب میں جمال صاحب کی بیٹی نے راقم سے کہا کہ ابو کی شہادت کے بعد تحریک اسلامی کے ذمہ داروں نے ہم سے سارے روابط منقطع کیے اور ہمیں بےسروساماں چھوڑ دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے امیر ضلع بڈگام شہید محمد اسماعیل صاحب نے ہمیں مالی مدد کی یقین دہانی کی تھی لیکن دشمنانِ حق کے بندوق برداروں نے اسماعیل صاحب کو بھی اسی ہفتے شہید کر دیا۔ شہید محترم کی بڑی بیٹی شکیلہ بانو نے کہا کہ ہم جماعت کے ذمہ داروں سے ضرور خفا ہیں کیونکہ جس وقت ہمیں سہارے کی ضرورت تھی، اس وقت ہمیں بے سہارا چھوڑ دیا گیا، لیکن ہم تحریک اسلامی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ ہم نے اس تحریک کو دل سے قبول کیا ہے اور مرتے دم تک ہم اس کی آبیاری کرتے رہیں گے۔ واضح رہے جمال صاحب کی یہ بیٹی تحریک اسلامی تحصیل ٹنگمرگ کے خواتین شعبے کی تحصیل ناظمہ بھی رہی ہے۔

بے باک، نڈر، صبر و استقامت اور عزم و استقلال کی یہ داستان یہیں نہیں رکتی۔ شہید جمال صاحب کے نواسے شیخ صہیب احمد نے راقم کو ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ ایک بار یوں ہوا کہ شہید جمال صاحب کو اپنے محکمے نے ڈاڑھی منڈوانے کے احکامات صادر کیے۔ آپ نے صاف انکار کیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ عدالت نے آپ کے نام حکم جاری کیا کہ اگر ڈاڑھی کو منڈوایا نہیں گیا تو ان کو فوج سے برطرف کیا جائے گا۔ شہید جمال صاحب نے ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سر کٹوانا برداشت کروں گا لیکن سنتِ رسول ﷺ پر آنچ آجائے، یہ میں قطعی سہنے کو تیار نہیں۔ شہید جمال صاحب کا فیصلہ سن کر عدالت نے جمال صاحب کو ایک بار پھر عدالت حاضر ہونے کی سمن بھیجی۔ آپ حاضر ِعدالت ہوئے، اور جج صاحب نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا کہ جو شخص اپنے مذہب کو دھوکہ نہیں دے سکتا، وہ قوم کے لیے کتنا وفا شعار ہوگا۔ ایسے ہی افراد کے ہاتھوں میں قوم ترقی کے منازل طے کر سکتی ہے۔ عدالت نے جمال صاحب کو جرات مند قرار دے کر اسے ڈاڑھی اور ملازمت برقرار رکھنے کے احکامات صادر کیے۔ اتنا ہی نہیں عدالت نے جمال صاحب کے عزم، استقلال اور جرات مندی کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کو ایک بہترین انعام سے نوازا۔ یہ انعام آج بھی شہید محترم کے گھر میں صحیح سلامت موجود ہے۔

صف اول کے رکن جماعت، مایہ ناز خطیب اور سابق امیر تحصیل ٹنگمرگ عبدالجبار گنائی صاحب کے جمال صاحب کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات تھے۔ جمال صاحب کی تحریکی اور دعوتی زندگی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے راقم اپنے عزیز رفیق غازی جہانگیر احمد لون کے ہمراہ جبار صاحب کے گھر گیا۔ وہاں محترم نے کہا کہ ان کی جمال صاحب کے ساتھ ۱۹۸۵ء میں پہلی ملاقات ہوئی جب آپ پہلی بار ان کے گاؤں اوگمونہ جمعہ خطاب کرنے گئے۔ جبار صاحب کے بقول شہید جمال صاحب شروع سے ہی انقلابی خیالات کے حامی، بہادر، نڈر، عالی ظرف، بردبار اور عزیمت کا پہاڑ تھے۔ آپ کو تحریک اسلامی کے تئیں کافی ہمدردی تھی۔ انہوں نے حالات بد میں بھی جماعت سے وابستگی کااعلان کیا۔ وہ ایک بےباک اور قدآور شخصیت تھے۔ ہمہ وقتی کارکن ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بنا کسی معاوضے کے تحریکی فرائض انجام دیے۔ انہوں نے ہر ذمہ داری انتہائی خوش اسلوبی اور خلوص دل سے نبھائی۔ شہید جمال صاحب بار بار کہتے تھے کہ موت انسان کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ وہ اجتماعات میں جماعت سے وابستگان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آزمائش و مصائب پر صبر کی تلقین کرتے تھے۔ محترم جبار صاحب نے کہا کہ جب مجھے جیل سے رہا کیا گیا اور جب میں گھر پہنچا تو شہید جمال صاحب کو میں نے اپنے کمرے میں دیکھا، میں نے سوال کیا کہ حضور آپ یہاں کیسے؟ جوابا جمال صاحب نے فرمایا کہ میں یہاں آپ کا انتظار پچھلے دو دنوں سے کر رہا تھا۔ انتظار کیوں نہ کرتا، آپ کو اس نصب العین کی آبیاری کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا تھا، جس نصب العین کے لیے ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی نہیں کترائیں گے۔

راقم نے محترم جبار صاحب سے سوال کیا کہ کیا وجہ تھی کہ جمال صاحب کی شہادت کے بعد جماعت کی ضلعی اور تحصیلی قیادت نے ان کے اہل خانہ سے روابط منقطع کیے، اور انھیں بے آسرا چھوڑ دیا گیا؟ محترم نے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت حالات انتہائی نامساعد تھے۔ کارکنان و ہمدردان پر انتہائی دباؤ تھا۔ تحصیل میں صرف جمال صاحب، سلام صاحب اور پرواز صاحب رکن جماعت تھے۔ ان تین ارکان میں سے جمال صاحب اور سلام صاحب کو شہید جبکہ پرواز صاحب کو سرینگر سے کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کیا گیا تھا۔ اس ماحول کو دیکھتے ہوئے جماعت سے وابستگان پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ مشکل سے ایک دوسرے سے ملاقات کر پاتے تھے۔ اگر ہم ان کے گھر جاتے تو شاید دشمن ان کے اہل خانہ کو بھی عتاب کا شکار کرتے۔ حالات کی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے جمال صاحب کے گھر وقتی طور آنا جانا چھوڑ دیا لیکن جمال صاحب کی بیش بہا خدمات کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے جماعت کو یہاں بام ِعروج تک پہنچایا۔ ایسے میں ہم ان کے اہل خانہ کو کیسے نظر انداز کرتے۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی ہی کچھ ایسی تھی کہ ہمیں کنارہ کشی میں ہی ان کے اہل خانہ اور جماعت کی بھلائی نظر آئی۔

خدائے تعالی کی زمین پر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگیوں میں خدا پرستی، انسان دوستی اور آخرت پسندی کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں۔ شہیدجمال صاحب انھی خوش نصیب انسانوں میں شامل تھے جو نظام الہیہ کو قائم کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ خاموش طبیعت، خدا ترس اور مثالی کارکن شہید جمال صاحب نے تحریک اسلامی کی دعوت و خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کے گاؤں گاؤں تک جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام پہنچایا۔ خدائے تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہید جمال صاحب کی شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین!

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.