کیا آپ کو واقعی اختلاف کا حق ہے؟ محمد فیضان

محافلِ بحث برائے سیاسیات میں اکثر ہوتا ہے کہ دست و گریباں ہوئے لوگوں کے دلائل جب ہمارے کانوں میں پڑتے ہیں تو ہمیں اپنی جانب طلسماتی طاقت سے کھینچنے لگتے ہیں۔ شیطان ہمیں بھی کچھ دلائل سُجھاتا ہے کہ اگر فلاں فلاں بات کہہ دی گئی تو بحث ختم ہوجائے گی، مخالف لاجواب ہوجائے گا اور دانشوری کی ٹرافی بھی ہمارے نام ہوجائے گی، یعنی ایک تِیر سے تین شکار حاصل ہوں گے۔ سو ہم لپک کر اس بھٹّی میں خود بھی چھلانگ لگا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں دیکھ کر کوئی اور یہی ارادہ کرنے لگتا ہے، نیز یہ گھن چکر رُکنے کے بجائے مزید بڑھتا چلا جاتا ہے۔

مشہور نعرہ تو یہی ہے کہ ہم اپنے کسی حق کے حصول کے لئے کسی دوسرے شخص کو اُس کے حق سے محروم نہیں کر سکتے۔ لیکن یہاں ابھی آپ نے اپنا نکتۂ نظر بیان کرنے کا سوچا نہیں اور وہاں کوئی آپ سے 'حقِ اختلاف' کو استعمال کرنے کی قسم کھا لیتا ہے۔ آپ حقیقی زندگی میں کسی بھی مجلس یا انفرادی گفتگو کے تجربہ کو دیکھ لیجیے، 'اختلاف کرنے کا حق' بنیادی انسانی حقوق میں سرِ فہرست نظر آئے گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اختلاف کرنے کا حق آزادئ رائے کا دوسرا نام اختیار کرچکا ہے۔ اس غیر متوازی رویّہ کی بنیادی وجہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے ٹاک شوز میں بار بار دہرائے جانے والا وہ بیانیہ ہے کہ جس میں آزادئ اظہارِ رائے کو ملک کے تمام مسائل میں مرکزی حیثیت دی جا چکی ہے۔ رہی سہی کسر کو سوشل میڈیا پر لوگوں کی بے لگام طبیعتوں نے پورا کر دیا۔

آزادی اظہار کے عنوان سے ہمیں جو حق حاصل ہے اس کی ساخت آخر ہے کیسی..؟ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے کسی بھی پہلُو، موضوع یا عنوان پر ہم اپنی ایک آزاد رائے رکھ سکتے ہیں، اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں، اس کی تبلیغ کر سکتے ہیں، اس کے لیے تحریک چلا سکتے ہیں اور فنڈ ریزنگ بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ سب کرنے کا حق ہمیں قانون و اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے حاصل ہے۔ کسی کو اپنی بات یا خیال کا اظہار کرتا دیکھ کر فوراً اُس کو رَد کرنے پر تُل جانا، دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لئے طنز و لعن طعن کی ہر حد سے گزر جانا اور ساتھ ساتھ گردانتے جانا کہ مجھے اختلاف کا حق ہے، یہ سب باتیں انسانی حقوق کی عقیدت کے عنوان سے خارج ہیں - اپنی رائے رکھنا اور کسی دوسرے شخص کی رائے کو غلط ثابت کرنے کے لیے بحث میں الجھنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں- پہلے کا حق سب کو ہے، جبکہ بات بے بات الجھنے کو اخلاقی بیماری کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

ہر شخص کا یہ بھی بنیادی حق ہے کہ اس کی عزت و تکریم کی جائے اور اسے ایسے کسی تجربے سے نہ گزارا جائے کہ جس میں اسے اپنی عزتِ نفس مجروح ہوتی محسوس ہو۔ لیکن تجربے اور مشاہدے میں مسلسل یہ آ رہا ہے کہ رائے کے اظہار کا حق مانگنے والے دوسروں کی عزتِ نفس کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بحث مباحثے بڑھتے جارہے ہیں، یہاں تک کہ پرانے رشتہ داریوں اور دوستیوں میں بھی دراڑیں پڑتی جا رہی ہیں۔ خصوصاً مذہبی اور سیاسی موضوعات پر ہونے والی گفتگو میں لوگوں کی قوتِ برداشت تقریباً معدوم ہوگئی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ان بحث و تکرار میں چھوٹے بڑے کا فرق بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب نہ چھوٹوں کو احساس رہا ہے کہ کن الفاظ اور جملوں کو انہیں بڑوں کے سامنے تو کجا چھوٹوں سے بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی بڑے اپنے مقام کا احساس کرتے ہوئے بحث و تکرار سے بچنا چاہتے ہیں۔ گویا ہر کوئی ایک ہیجان کی سی کیفیت میں گرفتار ہے۔

واصف علی واصف نے فرمایا کہ "عَمل خاموش رہے گا جبکہ عِلم بحث کرے گا"۔ بحث مباحثے ہمارے ماحول کو مکدر کرتے جا رہے ہیں جسے بچانے کی ہمیں فکر کرنی چاہیے۔ ماحول کو آلودہ کرنا کسی بھی غلط رائے کے حامل ہونے سے زیادہ کراہت والا معاشرتی جُرم ہے۔ سو میری رائے میں ایک پُر سکون معاشرتی ماحول سازی کے لیے ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ اپنے مطالعے کو بڑھائیں اور مختلف آراء کو اس دنیا کی ضرورت سمجھیں۔ خاموشی کے ذریعے لوگوں کی رائے کو سمجھنے اور اسے عزت دینے کو ترجیح دیں۔ اپنی رائے کو قیمتی جانیں۔ مخالف سوچ رکھنے والوں کے سامنے اپنی رائے کے اظہار کو بالکل روک لیں تاکہ 'تعلق' بچایا جا سکے۔ لوگوں سے غیر متنازعہ موضوعات پر گفتگو کرنے کی عادت ڈالیں، خصوصاً سیاسی اور مذہبی موضوعات پر بالکل اختلافی گفتگو نہ کی جائے۔ کسی منفی اور تخریبی گفتگو سے کنارہ کشی اختیار کرنا دانستہ کوشش ہونی چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */