اسرائیل سے پاکستان تک، جہاز کہانی - فہد کیہر

ایک طیارہ اسرائیلی شہر تل ابیب سے اڑا اور پڑوسی ملک اردن کے دارالحکومت عَمّان میں اترا اور کچھ ہی دیر بعد ایک مرتبہ پھر فضاؤں میں نظر آیا۔ اگر جہاز کی منزل بھارت یا چین تھی تو اس کو اُردن میں رکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ وہ براہ راست بھی جا سکتا تھا؟ اور ایسے چارٹرڈ طیارے بہت طویل سفر بھی بغیر رکے کر لیتے ہیں یہاں تک کہ اسٹاک ہوم سے مالدیپ تک کا بھی۔ تو پہلا شک تو جہاز کے اردنی دارالحکومت عَمّان میں مختصر قیام سے ہی پیدا ہو گیا کہ اس کے نتیجے میں کوڈ تبدیل ہوا اور تکنیکی طور پر پرواز کا نقطہ آغاز تل ابیب نہیں، بلکہ اردنی دارالحکومت شمار ہوا کیونکہ مبینہ طور پر جہاز کی منزل ایسی جگہ تھی کہ جہاں براہ راست جانا اُس کے لیے مسئلہ تھا، میں یہاں جان بوجھ کر اسلام آباد کا نام نہیں لے رہا۔

یہ ذہن میں رکھیں کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست کوئی پرواز نہیں جا سکتی کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سفارتی تعلق موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طیارے نے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اردنی دارالحکومت میں مختصر قیام کرنا پڑا۔ پھر یہ جہاز ہمیں اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اوپر سے ہوتے ہوئے خلیجِ عمان پر پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے کہ جہاں غالباً انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہ ریڈار سے غائب ہو ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ ریڈار پر دوبارہ نظر آتا ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحدی علاقوں پر دکھائی دیتا ہے اور اس بار یہ چالیس ہزار فٹ پر نہیں بلکہ بیس ہزار فٹ کی بلندی پر ہے، یعنی یہ نیچے آ رہا ہے اور اس کا رُخ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ہے لیکن کچھ ہی دیر میں یہ ایک مرتبہ پھر ریڈار سے غائب ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انصاف کا, ایک تلخ حقیقت - امیر حمزہ

اب ذرا سوچیں کہ اگر جہاز کو ہندوستان جانا تھا تو پہلے تو اسے اردن میں رکنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور پھر یہ بھی کہ اس کا رُخ پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرف نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر اسے چین بھی جانا تھا تو اس کی بلندی تیس ہزار فٹ سے اوپر ہونی چاہیے تھا کیونکہ آگے ہمالیہ و قراقرم کے بلند پہاڑی سلسلے ہیں۔

بہرحال، دس گھنٹے کے طویل وقفے کے بعد یہ جہاز ایک مرتبہ پھر ریڈار پر نظر آتا ہے اور اس بار یہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے اوپر چالیس ہزار فٹ کی بلندیوں پر اُڑتا دکھائی دیتا ہے اور اس کا رُخ ایک مرتبہ پھر خلیجِ عُمان کی طرف ہے۔ یہ وہی پرانا راستہ اختیار کرکے ایک مرتبہ پھر اردنی دارالحکومت پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے تل ابیب۔ واپسی پر بھی اردن رکنے کی وجہ وہی کہ وہ کسی ایسی جگہ سے آیا ہے جہاں سے اسرائیل کے لیے براہ راست پرواز نہیں کی جا سکتی۔ اب ایسے ممالک دو ہی ہیں کہ جہاں اسرائیلی جہاز براہ راست نہیں جا سکتا، ایک پاکستان اور دوسرا ایران لیکن ایران جانے کے لیے اسے پاکستانی فضائی حدود میں آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، اس لیے یہ شک مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ اس جہاز کی منزل پاکستان تھی۔

بلاشبہ ڈیٹا سے اس کی سو فیصد تصدیق تو نہیں ہوتی کہ یہ طیارہ واقعی پاکستانی دارالحکومت میں اُترا بھی ہے یا نہیں لیکن شک ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک طیارہ جو بلاشبہ کسی اسرائیلی شخص کی نجی ملکیت ہے، جس نے ٹیکس بچانے کی خاطر اسے ایک 'ٹیکس ہیون' آئل آف مین میں رجسٹر کرا رکھا ہے، اس جہاز کا گزشتہ فلائٹ ریکارڈ بھی یہی بتاتا ہے کہ یہ تل ابیب سے اڑتا ہے اور دنیا جہاں سے گھوم کر واپس تل ابیب ہی آتا ہے، وہ پاکستانی حدود میں descend کرتا نظر آتا ہے اور اتنی بلندی پر ہے کہ اس کی منزل پاکستانی ہوائی اڈے کے علاوہ کوئی اور جگہ نظر نہیں آتی۔ یہی نہیں بلکہ وہ ریڈار سے غائب بھی پاکستانی حدود میں ہوا اور 10 گھنٹے بعد نظر بھی پاکستانی حدود میں ہی آیا۔ یہ تمام چیزیں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں اور کیونکہ معاملہ اسرائیل کا ہے اس لیے یہ شکوک سنگین خدشات میں بدل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

سول ایوی ایشن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کوئی اسرائیلی طیارہ پاکستان میں نہیں اترا کیونکہ جہاز نہ ہی اسرائیل میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی وہ براہ راست اسرائیل سے آ رہا تھا یعنی تکنیکی طور پر تو وہ اسرائیلی جہاز ہے ہی نہیں لیکن یاد رکھیں کہ وہ اُڑا تل ابیب سے ہے اور واپس بھی وہیں گیا ہے، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون سی شخصیت یا شخصیات تھیں جو اس جہاز میں سوار تھیں اور یہی وہ اصل سوال ہے کہ جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔

ایسا بالکل ممکن ہے کہ یہ جہاز پاکستان کے کسی ہوائی اڈے پر اُترا ہی نہ ہو، کیونکہ ریڈار ڈیٹا سے اس کی صد فی صد تصدیق نہیں ہو رہی، لیکن محض شک نے ملک میں جس بحث کو جنم دے دیا ہے اور بدقسمتی سے چند حلقوں نے پاک-اسرائیل کے سفارتی تعلقات کے حق میں مہم چلائی ہے وہ المناک بلکہ شرمناک ہے۔ آخر ہر معاملے کو اپنی سیاسی وابستگی سے ہٹ کر وسیع تناظر میں دیکھنا کب شروع کریں گے؟ کوئی اسرائیلی شخصیت پاکستان آئی ہو یا نہ آئی ہو، لیکن اس خبر نے کچھ حلقوں کو ننگا کرکے ضرور رکھ دیا ہے۔