میں پنجاب یونیورسٹی جمعیت کے ساتھ ہوں - عمران زاہد

حالیہ واقعے میں جمعیت پر بےتحاشا تنقید ہوئی ہے۔ بہت سے احباب اور دوستوں نے بڑے خلوص اور دل سوزی سے کی ہے۔ میں ایسی تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں، لیکن ناقدین کی اس اقلیت کو چھوڑ کر باقی تنقید کرنے والوں کا مسئلہ کچھ اور ہے۔

مسئلہ تشدد نہیں ہے، نہ ہی مسئلہ حقوق کا ہے، نہ ہی مسئلہ میاں میاں بیوی کے ملنے کا ہے، مسئلہ صرف اور صرف اسلامی جمعیت طلبہ ہے، بلکہ بہت سے حلقوں کے لیے مسئلہ محض "اسلام" ہے۔ جمعیت نے پاکستان کی جامعات میں ایک نظریاتی لڑائی لڑی ہے اور سوشلزم کے متوالوں کی ناک رگڑی ہے۔ اس لیے سرخ احباب کی جمعیت سے پرانی دشمنی ہے۔ اب وہ سرخے لبرل ہو گئے ہوں تو بھی پرانی وابستگیاں آسانی سے کہاں جاتی ہیں۔

جمعیت والوں سے غلطیاں ضرور ہوتی ہیں۔ ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ جمہوری معاشرہ ہے، تنقید کی بھی جاتی ہے۔ تنقید کو جمعیت والے ہمیشہ مثبت لیتے ہیں۔ اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ لیکن تنقید کے نام پہ حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ جیسا کیس میڈیا میں بنا کر پیش کیا جاتا ہے حقاَئق ویسے نہیں ہوتے۔ وہاں جمعیت سے سراسر زیادتی کی جاتی ہے۔ پروفیسر افتخار بلوچ جیسے بدکردار پروفیسر کے کیس میں بھی کامران شاہد جیسے اینکر پروگرام کرتے رہے۔ وہ تو ایک طالبہ کھل کے اس کی دست درازیوں کے خلاف سامنے آ گئی تو تب کہیں جا کر اسے ٹھنڈ پڑی۔ بلوچ طلبہ والے ایشو میں ان طلبہ نے مل کر جمعیت کے ایک طالب علم پر تشدد کی انتہا کر دی۔ اس کی ویڈیو بھی آ گئی، لیکن میڈیا نے اسے بالکل الٹ رنگ دیا؛ اسے جمعیت والوں کی طرف سے بلوچ طالب علم پر تشدد قرار دیا۔ سوشل میڈیا بھی اس ویڈیو کو جمعیت کا قصور بنا کر شئیر کرتا رہا۔ حقیقت واضح ہونے پر کسی نے دو سطر کی معذرت تک گوارا نہ کی۔

اب اس کیس میں بھی حقائق مختلف ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی اسے ایک تشدد کا رنگ دینا محض کسی کی سیاسی مجبوری ہو سکتی ہے۔ رئیسِ جامعہ کا اس پر بیان آ چکا ہے۔ انہوں نے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ میڈیا کی کہانی سے سراسر مختلف ہیں۔ ویسے بھی مجھے جب یہ پتہ چلا کہ جن "شوہر" صاحب پر مبینہ تشدد ہوا، وہ صاحب وہ صحافی ہیں جن کی ویڈیو چند ہفتے پہلے ٹریفک وارڈن سے جھگڑے پر وائرل ہوئی تھی تو ان سے میری ہمدردی بالکل جاتی رہی۔ اس کی جھگڑالو طبعیت اس ویڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جو شخص ایک ٹریفک وارڈن کے سامنے اکڑ رہا تھا؛ یہ جاننا چنداں مشکل نہیں کہ ایک یونیورسٹی وارڈن کو وہ کس طرح سے ٹریٹ کر رہا ہوگا۔ جمعیت کے طلبہ نے اگر یونیورسٹی گارڈ کی مدد کی تو میں انھیں بالکل حق بجانب سمجھتا ہوں۔

میڈیا کی دونمبری کا یہاں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دارالحکومت میں واقعہ قائدِاعظم یونیورسٹی میں طلبہ کے گروہ مورچہ بند ہو کر ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے رہے۔ وہاں یونیورسٹی 37 دن تک بند رہی، لیکن ہمارے میڈیا کے لیے یہ کوئی بڑی خبر نہ تھی۔ سوشل میڈیا کے لیے تو خیر یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ تو کیا اس سے میری اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی کہ مسئلہ تشدد نہیں ہے کچھ اور ہے؟

اس سارے واقعے میں جو دلچسپ بات کسی نے نوٹ نہیں کی کہ سابق وی سی کامران مجاہد صاحب کی تمام تر کاوشوں، جمعیت کے کارکنوں کے متواتر اخراج، مقدمات اور اسیری اور مخالفین کی سہولت کاری کے باوجود جمعیت جامعہ کے اندر بھرپور طریقے سے موجود ہے۔

میں جمعیت والوں سے ملاقاتوں میں مشورے عرض کرتا رہتا ہوں۔ انہیں اپنی صفوں کی ترتیب درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی صفوں میں سے جذباتی اور انتہا پسند عناصر کو پیچھے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ کبھی اوپر نہیں آنے چاہییں۔ ہم بطور سابقین آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کی دارمے درمے سخنے حمایت کے لیے حاضر ہیں۔ لیکن کسی انتہا پسندانہ رویے کی حمایت کبھی نہیں کریں گے۔

میرا ایک بہت پرانا خیال ہے۔ بنگلہ دیش والوں نے عملاً ایسا کیا اور ان کے لیے اس کے مثبت نتائج نکلے۔ جمعیت کو ایک الگ سے آزاد تنظِم کے بجائے جماعت کے تحت ہونا چاہیے۔ ابھی بھی آپ لوگوں کو جتنا مرضی سمجھا لیں لیکن جمعیت کو جماعت کی ذیلی تنظیم ہی سمجھا جاتا ہے۔ بہتر ہے اسے ذیلی تنظیم بنا دیا جائے۔ میرے خیال کی بنیاد یہ ہے کہ کسی بھی تنظیم میں ینگ ٹو اولڈ کمبینیشن ہونا چاہیے۔ جہاں قوتِ عمل سے لبریز نوجوان ہونے چاہییں وہیں دوراندیشی اور تجربہ رکھنے والے بزرگ بھی درکار ہیں۔ دونوں مل جل کر ہی ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کر سکتے ہیں۔

اس واقعے پر بھی غور کیجیے۔ کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کیجیے۔ وی سی صاحب نے جن دو طلبہ کو معطل کیا ہے۔ اپنی تنظیم میں بھی ان کا محاسبہ کیجیے۔ اگر ان کا قصور ثابت ہوتا ہے تو انہیں سزا دیجیے جو عہدوں سے معزولی یا تنظیم سے اخراج یا دونوں پر مشتمل ہو۔