اُردو کی گُم ہوتی ہوئی آوازیں - فیروز بخت احمد

اُردو کی آوازیں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں۔ اُردو کا املا بھی اب پہلے جیسا خالص نہ رہا۔ اُردو کی تحریر میں شاید اب وہ چاشنی بھی نہ رہی، جو آج سے تیس چالیس سال قبل سننے اور پڑھنے کو ملتی تھی، مزید یہ کہ اُردو کا رسم الخط بھی اب خطرے میں پڑچکا ہے۔ یہ تو ایک زندہ حقیقت ہے کہ جو لوگ اپنی زبانوں کے لئے محنت نہیں کرتے، انہیں وقت نہیں دیتے، قربانیاں نہیں دیتے، وہ زبانیں زمین بوس ہوجاتی ہیں۔

ایک روز جب راقم کی بچی اسکول سے گھر واپس آئی تو بولی،’’پاپا، میرا بیگ کھراب ہوگیا ہے، نیا دلوادو۔‘‘قاعدے سے تو یہ جملہ اس طرح سے ہونا چاہئے تھا،’’ابا، میرا بستہ خراب ہوگیا ہے، نیا دلوادو۔‘‘ یہ سُن کر ایک دھچکا سا لگا اور اس بات کا اندازہ ہوا کہ واقعی ہم جیسے لوگ جو خود کو اُردو کی ترویج کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں اور انہی کے گھر میں جب اُردو کی یہ حالتِ زار ہوگی تو ہم دیگر لوگوں کو آخر کار کیونکر قصور وار ٹھہرائیں۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہم سب پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دامے، درمے، قدمے، سخنے اُردو کی خدمت کریں، اس لئے نہیں کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے ،بلکہ اس لیے کہ یہ مشترکہ تہذیب و تمدن کی زبان ہے۔ خیال رہے کہ کسی بھی زبان کا رشتہ، مذہب سے جوڑنا خطرناک ذہنیت ہے۔ جب تک ہم اپنے بچوں کی اُردو کی تعلیم کا انتظام خاص طور سے گھر پر نہیں کریں گے اور ایک بہتر استاد یا استانی کو نہیں رکھیں گے، تب تک ان بچوں کی اُردو ٹھیک ہونا تو درکنار، اُردو سے ان کارہا سہا رشتہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔

دہلی کے انگریزی پندرہ روزہ’’ملی گزٹ‘‘ کے شمارے میں امریکا سے آئے ایک اُردو اسکالر، رضوان احمد کا ایک بڑا دلچسپ مضمون، اُردو کی کھوئی آوازوں کے تعلق سے شائع ہوا ہے، انہیں فکر ہے کہ اب اُردو کی آوازیں کھوتی جارہی ہیں، جیسے غالب (گالب) قابل (کابِل) عقل (اکّل) خالص(کھالس) ضرور (جرور) زمانہ(جمانہ) قسمت (کسمت) وغیرہ۔ بقول اُن کے شاہجہاں آباد دہلی کی تہذیب، اُردو تہذیب اور زبان اُردو زبان ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جیسے ہی جامع مسجد کا اُردو داں علاقہ چوڑی والان، ہندی داں علاقے چرخے والان سے ملتا ہے تو نہ تو اُردو کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، نہ ہی اُردو کے بورڈ، بینرو پوسٹر دکھائی دیتے ہیں۔ اُردو کی جگہ، ہندی لے لیتی ہے۔ پہلے ان تمام علاقوں میں شستہ اُردو بولی جاتی تھی، مگر آج ان میں نہ توخالص اُردو،نہ ہی خالص ہندی اور نہ ہی خالص پنجابی بلکہ تینوں زبانوں کی کھچڑی زبان آپ کو سنائی دے گی۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ بولنے والا چاہے ہندی میں بولے یا پنجابی میں، بغیر اُردو الفاظ کے اس کے جملے مکمل نہیں ہوتے۔ ویسے اس ملی جلی زبان کو میڈیا نے ’’ہندوستانی‘‘ کا نام دیا ہے۔ آج کل بہت کم گانے والے ایسے ملیں گے، جو صحیح تلفظ جانتے ہوں۔ حیرانی کی بات ہے کہ وہ لوگ، جو اچھی آواز اور گانوں کے لئے ایک ایک کروڑ روپیہ مختلف ٹیلی ویژن کمپنیوں کی جانب سے بٹوررہے ہیں، اُن کی بھی خ،ق،ض،غ،ف وغیرہ کی آوازیں صاف نہیں نکلتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو کی غلطیاں کیسے دور کریں؟ عبدالباسط ذوالفقار

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر چیز کا ریاض کرتے ہیں، مگر کسی اُردو استاد سے اپنی آوازیں ٹھیک نہیں کراتے۔ ہم نے جب بچپن میں اُردو سیکھی تو ہمارا واسطہ سب سے پہلے پرانی دہلی کی ٹکسالی و کرخنداری زبان سے پڑا۔ اس زبان کا جواب نہیں ۔ اب پرانی دلی میں بہت کم لوگ ایسے رہ گئے ہیں، جو دلی کی یہ زبان بولتے ہیں۔ چاہے آپ قسائی کی دکان پر بیٹھے ہوں، نائی کے یہاں حجامت کرارہے ہوں، چوک پر سبزی خرید رہے ہوں یا حلوائی کی دکان سے ناشتہ لے رہے ہوں، اُردو کی آوازیں آپ کو وہاں سننے کو بخوبی ملیں گی۔ اب تو اُردو کا کوئی پرسانِ ِ حال ہی نہیں۔ نہ تو بولنے کی سطح پر اور نہ ہی تحریری طور پر آج اُردو میں وہ خوبصورتی باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی اس زبان کے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بھی، جو اُردو دانشور طبقہ ہے، وہ بجائے اس کے کہ اُردو لکھنے اور پڑھنے میں فخر محسوس کرے، اس کے الٹ ہندوستانی زبان بھی انگریزی ملاکر بولنے لگا ہے۔ اس نے اُردو کی آوازوں کو نہایت ہی مضحکہ خیز بنادیا ہے۔ انگریزی اسکولوں سے تعلیم یافتہ طبقہ اپنی عافیت اُردو اور اس کی تہذیب سے دور رہنے میں ہی سمجھتا ہے۔یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ اُردو کے بڑے بڑے محقق اور پروفیسر بھی اپنے بچوں کو اُردو میڈیم اسکول پڑھانا تو دور رہا، اُردو تک نہیں سکھاتے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے ۔

اب سے کچھ عرصہ قبل، دہلی کی غالب اکیڈمی میں ایک کانفرنس اُردوں کے ساتھ نا انصافی کے موضوع پر چل رہی تھی۔ اسٹیج پر بڑی بڑی ہستیاں اور اُردو کے نامور پروفیسر براجمان تھے۔ سبھی اُردو کی بدحالی پر اظہار خیال پیش کررہے تھے۔ سامعین میں سے ایک شخص اٹھا اور اُس نے کہا کہ جب تک اُردو کا استحصال کرنے والی پروفیسر برادری، اسٹیجوں کی زینت بنتی رہے گی، تب تک اُردو کے حق میں کچھ بہتر ہونے والا نہیں ہے۔ پروفیسر صاحبان اسٹیج سے نیچے آئیں اور زمین سے جڑ کر کام کریں ، تاکہ اُردو سے آکسیجن ماسک ہٹے اور اسٹیج پر صرف خاکساران اُردو کو ہی بٹھایا جائے۔ بات میں بڑی حقیقت اور سچائی ہے، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کے بڑے بڑے پروفیسر، اُردو کے نام پر سوائے موٹی موٹی تنخواہیں گھر لے جانے کے کچھ نہیں سوچتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو بولنے میں شرم کیسی؟ آصف محمود

اگر حقیقت اور سچائی کو ہم سامنے رکھیں تو یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ آخر کار اُردو میڈیم اسکولوں میں وہ اپنے بچوں کو کیوں بھیجیں۔ نہ تو وہاں تمام مضامین کے لئے اساتذہ دستیاب ہیں اور نہ ہی پڑھانے کے لئے کتابیں۔ پھر ہر شخص چاہےکہ وہ اپنی زبان سے کتنی ہی محبت کرتا ہو، جب اس کی اولاد کے مستقبل کا معاملہ سامنے آتا ہے تو وہ اسی زبان کو ترجیح دیتا ہے، جو آگے چل کر فائدہ مند ثابت ہو۔ آج سے تقریباًدس سال قبل ایک دلچسپ سروے کیا گیا کہ ایسے کتنے اُردو پڑھانے والے اساتذہ ہیں، جن کے بچے اُردو میڈیم اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ دہلی میں جن اساتذہ سے بات کی گئی تو پتہ چلا 90فیصد ایسے اُردو ٹیچرز تھے، جن کے بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں زیر ِ تعلیم تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ بخوبی اپنی اور اُردو میڈیم کی اہلیت کو سمجھتے ہوں گے اور اپنے بچوں کامستقبل تاریک نہیں کرنا چاہتے ہوں گے۔

دہلی میں دو تین سال قبل جتنی بھی سڑکوں کے نام اُردو میں لکھے ہوئے تھے، ان میں سے90 فیصد کا نہ صرف املا غلط تھا، بلکہ ساخت بھی بگڑی ہوئی تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ ہندی و انگریزی جاننے والے پینٹرز کو یہ کام دے دیا جاتا تھا، جو کاغذ پر لکھے حروف کی نقل نہایت ہی بدذوقی وبدصورتی کے ساتھ کیا کرتے۔ ہم نے ایک مرتبہ اُردو لکھنے والے ایک پینٹر کو جب ’’اوکھلا‘‘ کو ’’عوکھلا‘‘ لکھتے دیکھا تو اُس سے برش لے کر اسے ٹھیک کردیا اور آس پاس کے دو ایک اور بورڈ بھی ٹھیک کردیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا اُردو جانتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اُردو کی ’’ڈرائنگ‘‘ بناتے ہیں، اُردو تو ان کو آتی ہی نہیں! راقم اس بات کو بھی چلتے چلتے بیان کردینا چاہتا ہے کہ اُردو سے محبت رکھنے والے حضرات کو چاہیے کہ نہ صرف بچوں کو اُردو پڑھائیں، بلکہ اگر ہوسکے تو شوقیہ طور پر اُردو کی خطاطی بھی سکھانے کا انتظام کریں۔ جو مزہ سرکنڈے کے قلم سے اُردو لکھنے میں آتا ہے، اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ ہم نے خطاطی بچپن میں اپنے اُردو کے استاذ سے اس حد تک سیکھ لی تھی کہ ہم ماہنامہ’’کھلونا‘‘ کے لئے کارٹون اسٹرپ میں خطاطی کے ذریعے سرخیاں اور مکالمے لکھا کرتے تھے۔ اُردو کے مسائل پر اپنی تازہ ترین تصنیف ’’بازیافت ‘‘ میں سہیل انجم رقم طراز ہیں کہ ’’یوں تو اُردو کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جارہا ہے، مگر دو طرح کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک طبقے کا ماننا ہے کہ اُردو زوال پذیر ہے، آکسیجن پر ہے تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور یہ کہ اُردوفنا نہیں ہورہی ہے‘‘۔