کیا شہرقائد کو حقیقی مسیحا مل سکے گا؟ زبیر منصوری

کیا اس شہر قائد کوکبھی کوئی حقیقی مسیحا مل سکے گا؟
آہ
”اِسے“ جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا

اسے کبھی ایوب خان کے فرزند نے گولیوں سے چھلنی کروایا تو کبھی سندھی مہاجر فساد کی بھینٹ چڑھایا گیا، کبھی اسے اپنی مہاجر قیادت نے ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو لاشوں کے تحفے دیے اور کبھی سندھ کے وارثوں نے غیر سمجھا اور اپنے ہی سندھ کے اس حصہ کو ”دھاریا“ قرار دے کر وسائل سے محروم کر دیا۔

یہ بیچارہ غریب پرور شہر جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا، یہاں الخدمت مصروف عمل ہے، یہاں سڑکوں اورگندے نالوں سے اس طرح درد مندی سے لاشیں نکالنے والا ایدھی ہے، گویا وہ کوئی نامعلوم نہ ہو عبد الستار ایدھی کا اپنا بیٹا ہو، یہاں عالمگیر ہے جو منظم انداز میں روز ہزاروں بھوکوں کا پیٹ بھرتا ہے، یہاں فری اسپتال ہیں، روزی روزگار ہے، سب کے لیے سب کچھ ہے اور یہ بے چارے کسی حکومت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتے۔ مگر پھر ایک روز زمینی حالات سے بےخبر نامعلوم کس دنیا میں رہتی عدالت حکم دیتی ہے اور سندھ حکومت کے سنگدل حاکم پولیس ”پاکستان کوارٹرز“ بھیج کر انسانوں کو خون میں نہلا دیتے ہیں۔

کیا عدلیہ کبھی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق دلوانے کے لیے بھی کچھ کرے گی؟ کیا ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو سر چھپانے کا ٹھکانہ دے؟ کیا یہ ان کے ذمہ نہیں کہ ریاست انہیں روزگار فراہم کرے؟ کیا عدالت کے انصاف کا اندھا کوڑا کبھی کسی فوجی و سیاسی حاکم پر برسا کہ انہیں ان کے حق دو ورنہ وزیراعظم وزیر اعلی اور صدر کے گھر بھی خالی کر دو؟ کون لوگ ہو تم یار؟ حق دیتے نہیں، متبادل سے محروم رکھتے ہو، اور جب یہ عام لوگ تنکا تنکا جمع کر کے آشیانہ بنا لیتے ہیں تو اسے آگ لگانے پہنچ جاتے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   اے پاکستان کے باسیو! کراچی سسک رہا ہے - فیض اللہ خان

اور پھر اگر کچھ بہت ناگزیر بھی ہے تو
پہلے ماحول ہم آواز کیا جاتا ہے
پھر نغمہ کا آغاز کیا جاتا ہے
پہلے ان انسانوں کو انسان سمجھو، ان کی بات سنوان کے لیے متبادل فراہم کرو، انہیں قائل کرو، کوئی عمومی مسئلہ ہو تو اس پر میڈیا کے ذریعہ ڈسکشن کرو اور جب ان کی اکثریت کو آمادہ کر لو تو پھر عملدرآمد کرو۔ آخر کیوں تم انہیں دشمن ملک کے لوگ سمجھتے ہو؟

دیکھو! یاد رکھو!
بہت سے خونی انقلاب گزرے ہیں جن سے چند دن پہلے تک کسی کو اندازہ تک نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ معاشرہ بےچینی اور غم و غصہ کے بارود سے بھرا ہوا ہے، اسے جس بھی دن کسی واقعہ نے آگ دکھا دی تو پھر پھانسی گھاٹ پاکستان کوارٹر کے سامنے سجے ہوں گے۔ ہر نرم ہتھیلی والا لوگوں کے شکنجہ میں ہوگا۔ وردیاں چیتھڑوں میں تبدیل ہوں گی، گولیاں گم پڑ جائیں گی اور محلات دھوئیں اور راکھ کے ڈھیر بن چکے ہوں گے۔ آہ! مگر ایسے انقلاب آبادیوں کو مزید برباد تو کرتے ہیں، آباد نہیں۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.