اور اب طارق رمضان - محمد فاروق

پچھلے چودہ سال سے برطانیہ میں مستقل رہائش پذیر، اور اس ملک کا مستقل شہری ہوں۔ کافی کچھ اس ملک برطانیہ اور یورپ کی فطرت و مزاج سے آگاہی کچھ ضرورتاً و حاجتاً تو کچھ غیر ارادی اور لااُبالی میں حاصل ہوئی ہے۔

1 - 2005ء میں میں نے ڈرائیونگ کے دوران پہلا ایکسیڈنٹ کیا تھا۔ راؤنڈ اباؤٹ میں ایک خاتون کی گاڑی پیچھے سے ٹھوک دی تھی۔ بارش تھی، گاڑی سلپ ہو گئی تھی، مگر پھر بھی غلطی میری تھی۔ سائیڈ پہ ہو کر میں نے اپنا انشورنس ڈیٹیل اسے دیا۔ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر اس لڑکی کی چھوٹی بیٹی اپنی بیبی سیٹ پہ سو رہی تھی۔ ایکسیڈنٹ اتنا معمولی تھا کہ وہ بچی سوئی رہی، اسے پتہ بھی نہ چلا تھا، اور انشورنس ڈیٹیل کے تبادلے کے بیس پچیس منٹ میں بھی نہیں جاگی تھی۔ لیکن خاتون نے جب میرے انشورنس سے نقصان کا کلیم کیا تھا، تو ساتھ ”ہیڈ انجری“ بھی کلیم کی تھی، گویا حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس کو ہیڈ انجری ہوئی تھی، مگر جھوٹ کا کلیم تھا جو قانون میں انشورنس سے پیسے بٹورنے کے لیے اس ایماندار ملک میں بھی لوگ کرتے ہیں۔

2 - چند دن پہلے میرے گھر کے سامنے روڈ پر ایک کالے لڑکے نے اپنی گاڑی سے دوسرے بڑی عمر کے گورے کی گاڑی پیچھے سے معمولی ہٹ کی۔ گورا سیانا اور قانون کو جاننے والا تھا۔ بیچ روڈ گاڑی روک کر گاڑی کے اندر بیٹھا رہا، ایمولنس بلوا کر گردن سے پٹی بندھوائی، پولیس کال کرکے ایکسیڈنٹ کی تفصیل درج کراوئی، کس لیے؟ ہیڈ انجری کے مضبوط کلیم کے لیے۔! مگر ایکسیڈنٹ اتنا معمولی تھا کہ روڈ پر گزرنے والے عینی شاہدین بھی مسکرا رہے تھے، ہوشیار بابے کے اس عمل پر۔ یہاں ”حقیقت“ معلوم ہونے سے زیادہ ”قانون“ کے اندر گنجائش اہم ہوتی ہے۔ معاملہ ”قانونی“ ہو، بےشک جھوٹ اور بےحقیقت ہو۔

نوٹ کیجیے کہ اس ملک میں اور شاید اب پورے یورپ میں ریپ کیس کا ”برڈن آف پروف“ مدعی پر نہیں، مد علیہ پر ہے ۔

طارق رمضان کیس:
1 - اس کیس کے سامنے آنے کے بعد، فرانس پہنچتے ہی اسے گرفتار کیا گیا، جو واضح طور پر اس کے ساتھ ایک امتیازی سلوک تھا۔ اس کے ساتھ فیملی ممبر کو ملنے دیا گیا نہ کسی اور کو، حتی کہ اس کے لیے انتہائی ضروری میڈیسن بھی شروع کے کئی مہینوں تک نہیں پہنچنی دی گئی۔

2 - اسی فرانس کے دو وزراء اسی نوعیت کے ریپ کیس میں اکیوزڈ ہیں، مگر آزاد پھر رہے ہیں۔ جس طرح ہمارے چیف جسٹس پر خود سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس جمع ہے، مگر غیر معینہ مدت تک کے لیے التواء میں ہے۔ اور حضرتِ جسٹس دوسرے ججوں کے کیسوں میں اُنہیں فارغ یا معاف فرما رہے ہیں، لیکن یہ اخلاقی جرات ان کے اندر نہیں کہ پہلے اپنے معاملے کو نمٹا کر اپنا دامن صاف کریں۔

3 - کوئی شک نہیں کہ ان ملکوں یعنی یورپ امریکہ میں سیاست اور میڈیا میں غالب طور پر اُن عناصر کا راج ہے جو محض اسلام نہیں، ”مذہب“ نام کی شے کا اس روئے زمین سے خاتمہ چاہتے ہیں۔ اسلام بطورِ خاص اگر نشانہ ہے تو اس پر وضاحت کی ضرورت نہیں۔ نہ عام درجے کا لکھا پڑھا مسلمان بھی اس سے بے خبر ہوسکتا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے مواقع پر جب ہم تیر کھاتے ہیں تو کمین گاہ میں اپنے دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے۔

بی بی سی نے خبر دی اور ہم نے طارق رمضان کے کنفیشن پر، جو واقعی اس نے کی ہوگی، اس کنڈیشن کو دیکھے بغیر یقین کر دیا کہ: یہاں کے قانون میں اگر کوئی ریپ کیس میں خدا نخواستہ پھنس جاتا ہے تو اس کا وکیل برڈن آف پروف اپنے اُوپر ہونے کی وجہ سے اپنے کلائنٹ کو کنفیشن کا مشورہ دے کر ”کم سے کم نقصان“ پر آمادہ کرتا ہے۔ سمجھ میں آنی والی بات ہے کہ ایک بیمار شخص، جس کے ساتھ اس کیس میں شروع ہی سے امتیازی سلوک ہو رہا ہے، اگر کنفیشن کر رہا ہے تو کن حالات میں؟

ہمارے پیغمبر اسلام نے تو ہمیں یہ تعلیم دی تھی کہ اگر کسی مسلمان میں بظاہر کوئی کمزوری دیکھ لو تو اس کے بارے میں اپنا حسن ظن برقرار رکھنے کی خاطر ستّر بہانے ڈھونڈو۔ کیا یورپ کی سیاست اور نظام ابلاغ میں واضح اسلام دشمنی کافی دلیل نہیں؟ کیا اس کیس میں طارق رمضان کے ساتھ امتیازی سلوک کافی دلیل نہیں؟ کیا اس کی بیمار صحت اور وکلا کا اس کیس کو ملک کی قانونی ضرورتوں کے مطابق طے کرنے کا دباؤ کافی دلیل نہیں؟ کہ ہم طارق کے باہر نکل آنے تک ذرا صبر کریں، اور اس کی آزادی کے بعد خود اس کے منہ سے اس بارے میں حقیقت سن لیں؟

لیکن نہیں، میرے مسلمان دانشور نے آج بھی میڈیا کی خبر پر ایمان کے درجے میں یقین کرکے اپنا ہی منہ کالا ہونے کا جشن منایا ہے۔ لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ مجھے افسوس اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ جس زبان سے میں ”مغربی“ میڈیا کے لیے صلواتیں سنتا ہوں، عین وہی زبان اس میڈیا کو ہر اسلام دشمن اور مذہب بیزار پروپیگنڈے پر داد و تحسین کی سوغات پیش کرتی ہے۔ ”حقیقت پسند“ ہونے کے چسکے نے بعض بےچاروں کو ہر خلاف اسلام و خلاف مسلمان گواہی کے لیے وعدہ معاف گواہ بنا دیا ہے۔ یہ کام وہ فی سبیل اللہ اس زعم میں کرتے ہیں کہ اُن کی سطح ”عوام“ سے بلند سمجھی جائے، اور ہر حال میں ان کے ”حق پرست“ ہونے کا تاثر زائل نہ ہو۔ رائے کا اختلاف اپنی جگہ مگر تضاد؟ ہم چاہتے کیا ہیں؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟یہ مجھے سمجھ نہیں آئی۔
کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مے حیات
کُہنہ ہے بزم کائنات، تازہ ہیں میرے واردات