اپنی شخصیت کو پہچانیں - ایمن طارق

آپ کی کوئی ایسی خصوصیت جس پر آپ اعتماد کرتے ہوں اور خوشی محسوس کرتے ہوں اور جس کے لیے آپ کو کوئی ماسک نہ پہننا پڑتا ہو بلکہ آپ کی عادت بن گئی ہو؟
اس سوال پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ یا تو سوال بہت آسان تھا اور ہم سب اس ڈرامائی انداز سے پوچھے جانے والے سوال سے پہلے کسی مشکل چیلینج کی توقع کر رہے تھے یا سوال مشکل تھا اور اس کا جواب فوراً سمجھ نہیں آیا لیکن جو بھی تھا ہم سب کچھ لمحوں کے لیے ایک دوسرے کی خاموشی کے پیچھے چھپی سوچ کو پڑھنے سے قاصر تھے۔ ''5منٹ ہیں اس سوال کا جواب سوچنے کے لیے، اور پھر میں باری باری آپ سب کے پاس آؤں گا۔'' اور اس ہدایت پر ایک دم یہ سناٹا ٹوٹا اور سب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی، کچھ تو کھلکھلا کر ہنس پڑے، لیکن وقت کم تھا اور مزید سوال کی اجازت نہیں تھی، اسی لیے سب اپنے پین اور ڈائری پر جھک گئے۔

5 منٹ گزرنے کا احساس اس آواز سے ہوا کہ جب وہ پوچھ رہا تھا کہ کون اس کے جواب کے لئے پہلے والینٹیر کرے گا۔ 3/4 لوگوں کے چہروں پر کنفیوژن تھی، ’ہم ابھی نہین سوچ سکے‘، کوئی بات نہیں آپ اور سوچیں اور ہم اتنی دیر باقی لوگوں کی طرف چلتے ہیں۔ ''میں لوگوں کے احساسات کو الفاظ کا روپ دے سکتا ہوں اور جو سوچتے ہیں وہ لفظوں میں ڈھال سکتا ہوں۔'' ''میں بہت وفادار ہوں اور آخر تک نبھاتی ہوں۔''، ''میں اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہوں اور وجہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔''، ''میں لوگوں کے درمیان تعلقات کی درستگی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔''، کورس انسٹرکٹر کے چہرے پر ہر جواب کے بعد ایک حوصلہ افزائی کرتی ہوئی مسکراہٹ تھی۔

اچھا اب ہم دوبارہ ان کی طرف آتے ہیں جو ابھی تک سوچ نہیں سکے تھے اور ان سے پوچھتے ہیں کہ کون سی رکاوٹ تھی کہ اس بظاہر سادہ سوال کا جواب دینا وہ مشکل محسوس کرتے ہیں؟، ''اصل میں مجھے کبھی اس طرف کسی نے توجہ نہیں دلائی کہ میرے اندر کوی amazing صلاحیت ہو سکتی ہے۔''، ''اور مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ اگر میں اپنی کسی خوبی کو acknowledge کروں گی تو اس کو خود پسندی سمجھا جائے گا۔''، ''اور میں نے کبھی اپنے اوپر غور ہی نہیں کیا کہ میرے اندر کون سی صلاحیت ہے جو مجھے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔''

بہت خوب اور شکریہ آپ سب کے participate کرنے کا۔ یہ چھوٹی سی ایکٹیویٹی ہم سب کو جگانے کے لیے ہے اور ہمیں یہ احساس دلانے کیے لیے کہ ہم انسان اپنے آپ سے کس قدر لاعلم رہتے ہیں۔ زندگی گزرتی جاتی ہے اور ہم اس کے ساتھ بنا سوچے سمجھے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، یہ سوچے بنا کہ ہم دوسروں سے مختلف ایک انوکھی تخلیق ہیں اور ہمارے اندر بہت کچھ ہے جس پر توجہ دے کر ہم خود کو، دوسروں کس اپنی سوسائٹی کو اور پوری انسانیت کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کہیں کہیں ہم دوسروں کے ڈر اور پریشر کی وجہ سے اپنی خود اعتمادی کھو دیتے ہیں اور اپنی ذات کے بارے میں منفی سوچوں اور ناکامی کے تجربات کو یاد کرتے کرتے وقت بِتا دیتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے اندر کچھ خوبیاں ہیں، ان کا اعتراف کرنے سے کتراتے ہیں کہ کوئی ہمیں خود پسند نہ سمجھ لے۔ دیکھیں خود پسندی الگ چیز ہے یعنی صرف اپنی ذات کے دائرے میں گھومنا اور اپنی حوصلہ افزائی الگ بات ہے اور اپنی ذات ہر اعتماد کی بحالی، کیونکہ اگر ہم اپنی نظر میں کچھ بھی نہیں ہوں گے تو کسی دوسرے کے لیے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈریں نہیں اور اعتراف کریں کہ اس اتنی بڑی دنیا کے اندر ایک انسان کی حیثیت سے آپ کے اندر بھی کچھ چھپے ہوئے خزانے ہیں جن کو ڈھونڈ کر باہر لانا آپ کی ذمہ داری ہے۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.