خوف کا خول کیسے توڑیں - جہانزیب راضی

میرے ایک جاننے والے ہیں کل ان سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی صیح سلامت، ٹھیک ٹھاک اور فٹ فاٹ بچی کو "اسپیشلسٹ" کو دکھانے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا ماشاءاللہ آپ کی بچی تو بالکل ٹھیک ہے، پھر آپ کیوں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہے ہیں؟ انھوں نے مایوسی سے جواب دیا "یار ! لوگ بچی کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ڈھائی سال کی لگتی نہیں ہے"۔ میں نے پھر پوچھا کہ اس میں ڈاکٹر کو دکھانے کی کیا بات ہے، بچی بیمار ہے یا کھاتی ٹھیک سے نہیں ہے؟ یا کھیلتی کودتی نہیں ہے؟ انھوں نے فورا کہا کہ ارے نہیں نہیں، ماشاء اللہ سب کرتی ہے، بس لگتی ڈھائی سال سے ذرا کم ہے اس لیے ان کی والدہ پریشان ہیں۔ آپ یقین کریں اس دنیا کے 95 فیصد لوگ بالکل ٹھیک اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم سنی سنائی اور اپنے بارے میں دوسروں کی پھیلائی باتوں کے تحت جی رہے ہیں۔ ہم میں سے لوگوں کی اکثریت صرف "دوسروں" کی وجہ سے زندہ ہیں اور وہ بھی مر مر کے۔

کسی شخص نے آپ کو صرف اتنا بھی کہہ دیا کہ آپ بیمار لگ رہے ہیں ؟ تو باقی کھانسی، تین سال پرانا بخار اور آفس میں دوست کی ڈاکٹر کو پراپر چیک اپ کرانے کی نصیحت سب یاد آجاتا۔ ہم اپنے آپ کو واقعی بیمار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں چھ سال تک دنیا کے مختلف ڈاکٹرز سے ملا اور ان سے آنے والے مریضوں کے بارے میں پوچھا تو کم و بیش ان سب کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس آنے والے اکثر مریض وہ ہوتے ہیں جو اپنا علاج خود کرسکتے ہیں۔ وہ بیماری کی وجہ سے اسپتال نہیں آتے بلکہ بیماری کا "خوف" لے کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ شوگر اور بی پی سمیت ستر فیصد بیماریاں وہ ہوتی ہیں جن کی بنیاد آپ کا "خوف" ہوتا ہے۔ آپ پہلے اس خوف کو اپنے دماغ پر سوار کرتے ہیں اور پھر وہ خوف آپ کے معدے کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں ہر چوتھا آدمی شوگر اور ہر پانچواں آدمی بی پی کا مریض ہے اور ان میں سے اکثریت کو نمک اور چینی کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے یہ امراض لاحق ہوئے ہیں۔

جب انسان پیدا ہوتا ہے تو صرف دو قسم کے خوف فطری ہوتے ہیں۔ ایک آواز کا اور دوسرا گرنے کا، اس کے علاوہ ہماری زندگی میں آنے والے تمام خوف ہمارے خود کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں غربت اور مفلسی کا خوف سب سے بھیانک ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ خوف شیطان تمھارے دل میں ڈالے رکھتا ہے اور تم سے ہر بے حیائی کا کام کروالیتا ہے۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ میں نےقرآن میں نوے مقامات ایسے دیکھے ہیں جہاں اللہ تعالی نے خود رزق کا وعدہ کیا ہے۔ پھر بھی ہم ساری زندگی ایک ایسی چیز کے پیچھے خود کو ہلکان کرتے ہیں اور خوف کا شکار رہتے ہیں جو ہمارے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ آپ کے پیدا کرنے والے نے آپ کا رزق، آپ کی خوشی غمی اور آپ کی موت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ ہر چالیس سیکنڈ میں دنیا میں کوئی نہ کوئی خود کشی ہو رہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ غربت نہیں بلکہ اس کا خوف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

انسان کے خوف کی تیسری بڑی وجہ "لوگ کیا کہیں گے" ہے۔ ہمارے ساری زندگی خود کے بجائے لوگوں کو خوش کرنے میں گزرتی ہے۔ ہماری اپنی حالت بد سے بدتر ہو لیکن لوگوں کو دکھانے کے لیے ہم "مصنوعی" سارے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جتنی منصوبہ بندی شادی سے پہلے کے لیے کرتے ہیں اگر اس کا عشر عشیر بھی شادی کے بعد کے لیے کرلیں تو ہمارے معاشرے جنت بن جائیں۔ لیکن کیونکہ ہمیں لوگوں سے خوف آتا ہے اس لییے ہم ادھار اور قرض لے کر اپنے "دکھاوے" پورے کرتے ہیں، اور زندگی بھر اپنے ہی کیے پر پریشان رہتے ہیں۔ لوگوں کا کام صرف بولنا ہے، یہ بولیں گے۔ آپ اپنے کام کی بات سنیں اور پھر اپنے کام میں لگ جائیں۔ اگر آپ نے خود کو لوگوں کے کام کے پیچھے لگایا تو یہ قبر تک آپ کا پیچھا کریں گے۔

انسان کا چوتھا خوف کسی کو " کھودینے" کا خوف ہے۔ جو چیز آپ کے اختیار میں ہی نہیں ہے، اس کا خوف کھا کھا کر آپ کر ہی کیا سکتے ہیں؟ کمال یہ ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں لیکن پھر بھی ہمارا دماغ ہمارا دل کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا تھا:
یہ صبح ازل مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
آپ جس لمحے میں جس کے ساتھ ہیں، اس پر شکر کرنا سیکھیں۔ جو آپ کے نصیب میں ہے وہ ساری دنیا گھوم کر بھی آپ کو ہی ملے گا اور اگر نہیں تو اپنے نصیب پر راضی رہنا سیکھیں آپ خوش رہیں گے۔

بڑھاپے کا خوف خاص طور پر خواتین کے لیے حرز جان ہوتا ہے۔ اس دنیا کی نوے فیصد کاسمیٹکس انڈسٹری اسی "خوف" کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ آپ اپنی شکل سے نہیں اپنی عادتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ مدر ٹریسا، ہیلن کیلر اور رتھ فاؤ کو اگر اپنی جھریوں کی فکر لگی رہتی تو شاید وہ اسی غم میں غرق ہوجاتیں کہ "میں کیسی لگ رہی ہوں؟"۔ جب میں آج کے نوجوانوں کو صرف اپنا ظاہر بناتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔ یہ جو کچی آبادیوں تک میں لڑکوں کے "بیوٹی سیلون" کھل رہے ہیں۔ کاش کوئی انھیں بتائے کہ تمھارے اسلاف کو لوگ شکلوں سے نہیں، ان کے کاموں کی وجہ سے جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

سب سے زیادہ خوفناک اور اعصاب پر چھا جانے والا خیال "موت" ہے۔ ہمیں موت کا خوف اس لیے بھی رہتا ہے کیونکہ ہم نے اس کے لیے تیاری ہی کچھ نہیں کی ہوتی ہے۔ اس لیے تو رسول خدا ﷺنے فرمایا کہ لذتوں کو مکدر کرنے والی چیز موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ اس طرح ہم اپنے مقصد سے جڑے رہتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا: موت کیا شے ہے ؟ فقط عالم معنی کا سفر۔ اس دنیا میں آنے والے ہر انسان نے جانا ہے اور جانے والے کسی انسان نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ جو بھی اس دنیا میں کلمے کی نعمت کے ساتھ اپنے مقصد سے جڑا رہےگا۔ یہاں کے بجائے وہاں کو مقصد بنائے گا وہ کامیاب ہوجائے گا۔ آپ ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں خود کشیوں کا سب سے کم تناسب آپ کو مسلمان ملکوں میں ملے گا کیونکہ اللہ پر ایمان ہی انسان کو کئی غموں سے نجات دے دیتا ہے۔

یاد رکھیں اس دنیا میں "خوف" نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے۔ یہ ہمارے دماغ کا خلل ہوتا ہے۔ ہم کسی انجانے خیال کو اپنے دماغ میں، پھر دل میں، پھر عمل میں اور آخر میں اپنی زندگی میں جگہ دیتے ہیں اور وہ "خیال " خوف بن کر آپ کے اعصاب پر سوار ہوجاتا ہے۔ اس دنیا میں خوشی اور غم باہر سے نہیں بلکہ "اندر" سے آتا ہے۔ جس خالق نے آپ کا رزق اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ آپ کی تقدیر اور نصیب بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ آپ بس خود کو پہچانیے۔ اللہ تعالی نے کچھ کام لینے کے لیے آپ کو پیدا کیا ہے۔ وہ آپ کی سگی ماں سے ستر دفعہ زیادہ آپ سے پیار کرتا ہے۔ اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو "خوف" کے "خول" سے باہر آنا ہوگا۔