اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت - بشری علی

مستند تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قدیم رومی سلطنت وہ پہلی سلطنت ہے جس نے نہ صرف اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بلکہ عوام کو سیاسی طور پر مغلوب رکھنے کے لیے کھیلوں کا سہارا لیا۔ ان کھیلوں میں رتھ سواری اور تلوار بازی کے ایسے مقابلے منعقد کیے جاتے جو ہارنے والے فریق کی موت پر اختتام پذیر ہوتے۔ روم شہر میں بسنے والے مختلف قبائل کے نمائندہ اراکین ان قبیلوں کی نمائندگی کرتے، البتہ ان نمائندگان میں سے اکثر کا تعلّق غلاموں یا جنگی قیدیوں سے ہوتا تھا، لیکن ایک "جھنڈے" تلے جمع ہونے کے ناطے یہ نمائندہ گروہ ان قبائل سے تعلّق رکھنے والے افراد کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھے۔ اس کے علاوہ سلسلہ وار مقابلوں میں پہلے ایک گروہ کی جیت اور اگلے مرحلے میں ہار کے ذریعہ ان قبائل سے تعلّق رکھنے والے افراد کی انا کو ٹھیس پہنچائی جاتی، اور یوں لوگوں کو تقسیم کر کے ان کے درمیان نفرتوں کا بیج بویا جاتا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کے جو بجٹ ان کھیلوں پر مختص کیا جاتا، اگر وہ عوام کی بہبود کے لیے استعمال کیا جاتا تو معاشرہ کسی حد تک مہذب گردانہ جاتا کیونکہ حکومت عوام کو محض اس شعبدہ بازی میں مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر معاشی بدحالی کو اس حد تک بڑھا دیتی کہ ایک عام شخص دو وقت کی روٹی کے لیے حد درجہ مجبور اور اپنے منحصرین کے سامنے خود کو ذلیل تصوّر کرے۔ اب ایسے حالت پیدہ کرنے کے بعد اگر حکومت ان خستہ حال لوگوں کو چند مٹھی اناج سے "نواز" دیتی تو یہ لوگ ان "دیوتا" صفت حکّام کے سامنے سجدہ تشکر بجا لانا چاہتے تھے۔

اب ذرا تصوّر کیجیے کہ ایسے مفلوج معاشرے میں سیاسی پیش رفت کس جمود کا شکار ہوگی؟ اور اخلاقی اقدار کا تو کیا پوچھنا، کہ معاشی کمزوری اور ہیجان انگیز تصوّرات کی بنا پر بھائی بھائی کے قتل پر آمادہ، لیکن ارباب اقتدار کو اس سے کیا سروکار؟ جرم تو صرف وہ تھاجس سے حکومت کا مؤقف بے نقاب ہو، ورنہ عوام چاہے ایک دوسرے کا سر کاٹیں یا عزت پامال کریں، جب تک وہ "اداروں" کا "تقدّس" پامال نہیں کر رہے تب تک انھیں ہر وہ کام کرنے کی آزادی حاصل ہے جسے "آئین" جرم قرار نہیں دیتا۔

مگر اب تو زمانہ بدل گیا ہے، انسان ترقی کر گیا ہے۔ اب تو ایسی سفّاکانہ پالیسیوں کے بارے میں کسی "ترقی پذیر" ملک کی کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں سوچ سکتی۔ اب پاکستان ہی کی مثال لے لیجیے، جہاں ریاست پچھلے دس سالوں سے مسلسل ایک "بین الاقوامی" جنگ کا شکار ہے، اور آئے دن ریاستی رٹ کو کبھی ڈرون حملوں اور کبھی بارڈر پر "پسندیدہ ترین ملک" کی افواج بلااشتعال فائرنگ کے ذریعہ چلنج کرتے ہیں، جہاں کی 60% آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ہر آنے والے سال کے ساتھ اس تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صحرائی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور خوراک کی محرومی کے باعث شیر خوار بچے پے در پے اموات کا شکار ہیں۔ سٹیل مل، پی آئی اے اور او ڈی جی سی ایل جیسے نفع بخش ادارے جانے کیسے چند سالوں میں خسارے کا شکار ہوجاتے ہیں، اور آئی ایم ایف بھی ٹھیک اپنے قرضوں کو ان ریاستی سرمایوں کی نجکاری سے مشروط کرتا ہے اور ہر آنے والی حکومت کے کم ازکم ان اداروں کی نجکاری کے مؤقف میں ذرہ تبدیلی نہیں آتی، چاہے وہ ووٹنگ کے نظام میں بائیومیٹرک جیسی "انقلابی" تبدیلی کے خواہاں ہی کیوں نہ ہوں۔ نشاۃ ثانیہ کے حصول کی بیتابی کے مارے ان جواہر کی بھینٹ چڑھانے کو متفق ہیں، اور ایسی بےشمار "سازشوں" کے باوجود (سرکار کے مطابق) پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو اس "مشکل وقت" میں حکومت کا ساتھ دینے کے بجائے میٹرو بس ،اورنج لائن منصوبوں کو "چند مٹھی بھر اناج" سے تشبیہ دے۔