"مقتول محبت" بننے سے پناہ مانگیے - اسامہ الطاف

معروف عربی شاعر عبدالملک الاصمعی بصرہ کی گلی کوچوں میں پھر رہا تھا۔ بےمقصدگھومنا پھرنااس کا محبوب مشغلہ تھا جس میں وہ اپنا اکثروقت صرف کرتا۔ دوران آوارگی اصمعی کی نظریں پتھر پر منقوش ایک شعر پر جم گئی اور اس کے قدم رک گئے۔ پتھر پرایک فریادی عاشق نے اپنے جذبات کا اظہار شعر کی صورت میں کیا تھا: "خدا کے لیے اے عاشقو!، یہ تو بتاؤ کہ اگر نوجوان پر عشق طاری ہوجائے تو وہ کیا کرے؟"۔ الاصمعی نے اسی پتھر پر جواب نقش کیا: "اپنی خواہش کو مخفی رکھے اور تمام امور میں عاجزی اختیار کرے"۔ اگلے روز اصمعی کا گزر ہوا تو جواب الجواب درج تھا :"بھلا کیونکر اپنی خواہش کو مخفی رکھے جبکہ خواہش کی شدت اس کو مار رہی ہے اور اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے"۔ اصمعی نے لکھا: "اگر نوجوان اپنے راز کو مخفی نہیں رکھ سکتا تو اس کے سامنے موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں"۔ کچھ دنوں کے بعد الاصمعی کا اس وادی سے گزر ہوا تو دیکھا کہ نوجوان نے اسی چٹان کے قریب خود کشی کی ہوئی تھی اور دو اشعار مزید درج تھے۔ "ہم نے سنا اور اطاعت کی، بس ہمارا سلام پہنچا دو ہر اس شخص کو جو جوڑ سے انکاری تھا، آسائش والوں کو ان کی آسائشیں اور عاشق کو درد کا سہنا مبارک ہو۔''۔ عبدالملک الاصمعی نے جب یہ منظر اور اشعار دیکھے تو بےاختیار اس کے منہ سے ایسا جملہ نکلا جو بعد ازاں زباں زد عام کہاوت ہوگیا: "محبت بعض قاتل بھی ہوجاتی ہے۔''

محبت کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے، لیکن جب میدان محبت مقتل کی شکل اختیار کر لیں تو ہتھیار ڈالنا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جیسے اصمعی نے کہا، بعض اوقات محبت قاتل بن جاتی ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں محبت کے قتل کے کئی مشاہدات دیکھے جاسکتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ بچے اس کی ایک مثال ہیں، والدین جب بچہ کو صحیح اور غلط کی تمیز کے بغیر شدت محبت اور لاڈ میں ہر چیز کی جازت دیتے ہیں اور اس کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرتے ہے تو بچے کی طبیعت پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے اور وہ عرف عام میں "بگڑ" جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ من مانی اس کا استحقاق ہے اور پوری دنیا اس کے لیے مسخر ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ جب بچہ کی اس انا کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی طبیعت کا بگاڑ سامنے آتا ہے، وہ اپنی من مانی اور من چاہی کے استحقاق کو حاصل کرنے کے لیے جنونی ہوجاتا ہے۔ چھوٹی عمر میں بدتمیز اور بڑی عمر میں ظالم ہوجاتا ہے۔ یہ نتیجہ اس صورت میں ہوتا ہے جب بچہ کی طبیعت جارحانہ ہو، اگر اس کے برخلاف بچہ نرم طبیعت کا ہو تو ماں باپ کا ضرورت سے زائد لاڈ اور پیار اس کو دنیوی امور کی انجام دہی کے لیے ناکارہ کردیتا ہے، کیونکہ اس کو والدین کی آغوش سے دوری گوارا نہیں ہوتی، اور جب زندگی کی مجبوریاں اس سے وہ آغوش چھینتی ہیں تو اس کو خود پر اعتماد قائم کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ ان دونوں صورت میں بچہ مقتول محبت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

محبت کے متاثرین حکمراں طبقے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر اور بالخصوص برصغیر میں حکمران یاسردار کے گرد مداحوں کا ایک ٹولہ ہوتا ہے، یہ ٹولہ صرف مفاد پرست خوش آمدیوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ اس میں کچھ نادان مخلص بھی شامل ہوتے ہیں جو واقعی حکمراں کے گرویدہ ہوتے ہیں۔ یہ قریبی مخلص محبت میں اندھے ہوتے ہیں اورحکمراں کی سابقہ کامیابیوں اور اس کی معاشرتی حیثیت سے اتنے مرعوب ہوتے ہیں کہ ان کو یہ تصور ہی نہیں ہوتا کہ یہ "عظیم انسان" کوئی غلط قدم بھی اٹھا سکتا ہے، لہذا نادان مخلصوں کا یہ ٹولہ اپنے سردار کی محبت میں طبلچی بن جاتا ہے۔ سردار ان کی حمایت کی بنیاد پر غلط فیصلوں پر ڈٹا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام لوگوں کی یہی سوچ ہے جو اس ٹولہ کی ہے! سردار کے اس وہم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے غلط فیصلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور ناکام ہوجاتا ہے۔ جب حکمراں یا سردار پسپا ہوتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ نادانوں کی محبت کا شکار ہوکر" مقتول محبت "بن گیا ہے۔ محبت کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے،لیکن جب میدان محبت مقتل کی شکل اختیار کرلیں تو ہتھیار ڈالنا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جیسے اصمعی نے کہا،بعض اوقات محبت قاتل بن جاتی ہے۔

ٹیگز

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.