شکریہ مفتی صاحب - کامران ریاض اختر

پچھلی صدی کی آخری دہائی کی بات ہے۔ ذیقعد کے آخری ایام تھے، حجاج کے قافلے سعودی عرب پہنچ چکے تھے۔ 29 ذیقعد کو مطلع بالکل صاف تھا۔ چاند نکلا بہت سوں نے دیکھا ہمارے کچھ احباب نے تو دوران طواف خود حرم شریف میں نئے چاند کا مشاہدہ کیا۔ میڈیا میں بھی اعلان ہوگیا کہ کل ذوالحج کی پہلی تاریخ ہوگی۔ سب خوش تھے کہ چلو اچھا ہوا جمعہ کو حج آرہا ہے حج اکبر ہوگا۔ دو دن گزرے صبح اخبار کھولا تو ایک عجیب خبر سامنے تھی۔ لکھا تھا کہ دربار شاہی نے حکم جاری کیا ہے کہ پرانا اعلان واپس لیا جاتا ہے۔ذوالحج کا آغاز ایک دن بعد سے تصور کیا جائے حج اب ہفتے کے دن ہوگا۔ بہت عجیب بات لگی لیکن دربار شاہی کی اپنی کوئی مصلحت ہوگی- بہرحال جس ملک میں موجود تھے اس کے نظام پر توعمل کرنا تھا۔لہذا ہفتے کے دن حج کیا اللہ تعالی سے گناہوں کی معافی مانگی لیکن دل میں کھٹک آج تک ہے کہ پتا نہیں حج درست دن پہ ہوا یا نہیں۔

عبادات کا معاملہ بہت اہم ہوتا ہے۔ ذاتی عبادتوں میں تو بندہ ہر ممکن احتیاط کر سکتا ہے لیکن معاملہ جب اجتماعی عبادات کا ہو تو پھر مروجہ نظام کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رؤیت ہلال کے مسئلے پر ہمارے ہاں بہت چھان پھٹک ہوتی ہے۔ تقریبا ہر سال ہی رمضان اور شوال کے چاند کے معاملے پر کے پی کے کے کچھ اضلاع میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہردفعہ یہ بحث شروع ہوجاتی ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ یہ اختلاف ختم ہوسکے۔ کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ مرکز کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے کچھ کہتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ سائنسدانوں کے حوالے کر دینا چاہیے جبکہ کچھ کے خیال میں سعودی عرب کے فیصلے کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔

مسلم دنیا میں اس وقت نئے مہینے کے چاند کا فیصلہ کرنے کے لئے 3 قسم کے نظام رائج ہیں۔ لکیر کے ایک سرے پر ترکی کا نظام ہے اور اس کے بالکل متضاد دوسرے سرے پر سعودی عرب کا نظام۔ پاکستان کا نظام اس لکیر پر ان دونوں کے عین درمیان میں ہے۔ آج سائنسی علوم اتنی ترقی کر چکے ہیں کی یہ ٹھیک ٹھیک حساب لگانا ممکن ہے کہ نئے مہینے کے چاند کی پیدائش کس وقت ہو گی اور یہ کن علاقوں میں کس کس وقت نظر آسکتا ہے۔ ترکی میں اسی سائنسی علم کو استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اگر 29 تاریخ کی شام کو نئے چاند کی پیدائش کو ایک مخصوص وقت گزر چکا ہو تو اگلے دن نئے مہینے کی پہلی تاریخ تصور کی جاتی ہے، دوسری صورت میں اگلے دن کی تیس تاریخ ہوتی ہے۔ سعودی نظام میں سائنس کو بالکل ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور اور بظاہر چاند کے نظر آنے کی شہادتوں کی بنا پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن حتمی فیصلے کا حق شاہی دربار کا ہوتا ہے۔ پاکستانی نظام میں چاند کا فیصلہ تو رؤیت کے مطابق ہی ہوتا ہے، لیکن چاند نظر آنے کی شہادتوں کو جانچنے کے لیے سائنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عموما اگر موسم صاف ہو اور چاند نظر آنے کا امکان بھی ہو تو بڑی تعداد میں لوگ چاند دیکھ لیتے ہیں اور کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن دوسری صورت میں اگر اکا دکا جگہوں سے چند شہادتی آئیں تو پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں ان اوقات میں چاند کا نظر آنا ممکن بھی تھا یا نہیں۔ اگر سائنس کہے کہ چاند کی عمراتنی کم تھی کہ ان علاقوں میں چاند نظر ہی نہیں آ سکتا تھا تو ایسی شہادتیں رد کردی جاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو پاکستانی رؤیت ہلال کا نظام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس میں چاند دیکھ کر روزہ اور عید کرنے کے حکم کی بھی پابندی ہے اور دستیاب علم کی بنیاد پر شہادتوں کی جانچ کرنے سے یہ نظام سائنسی طور پر درست فیصلے کرنے میں بھی کامیاب ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ کے پی کے کے چند مخصوص اضلاع سے ہی چاند نظر آنے کی شہادت آتی ہے جبکہ سائنس کے مطابق انہی اضلاع میں چاند نظر آنے کا امکان سب سے کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں عموماً ساحلی علاقوں میں چاند نظر آنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور جوں جوں شمال کی طرف بڑھتے جائیں رؤیت مشکل سے مشکل ہوتی جاتی ہے کیوں کہ سورج وہاں جلد غروب ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں جو لوگ چاند دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ چند لوگ ٹی وی کیمروں کے سامنے آنے کے شوقین ہوں لیکن اکثریت متدین ہوتی ہے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایسے سنجیدہ معاملے میں غلط بیانی کریں گے۔ ایسی صورتحال میں جب چاند نظر آنا قطعی ناممکن ہو لیکن پھر بھی کچھ لوگ چاند دیکھنے کا دعویٰ کریں تو توقیاس یہی کیا جاسکتا ہے کہ جب ذہن میں شدت سے یہ خیال موجود ہو کہ سب سے پہلے چاند دیکھنے کا بہت ثواب ہے اور بے چینی سے آسمان پر چاند کو تلاش کیا جارہا ہوں تو افق پر چمکنے والے کسی سیارچے کی روشنی بھی چشم تخیل سے چاند کی جھلک محسوس ہو سکتی ہے۔ اب سائنس کو بالکل پس پشت ڈال کر ایسی تخیلاتی رؤیت پرعبادات کے فیصلے ہوں تو یہ پورے ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔ سائنس کی رو سے رؤیت کی ایسی شہادتیں قطعی غیرممکن ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی ایسی ناقص شہادتوں کی بنیاد پر ہی اپنے تہوار منانا چاہتا ہے تو اس کی مرضی۔ لیکن باقی سارے ملک کو تو آنکھوں دیکھی مکھی کھانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

اس صورتحال میں بطور چیئرمین پاکستان رؤیت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن صاحب کا کردار قابل ستائش رہا ہے۔ اس عہدے پر فائز شخصیت کے کاندھوں پر بہت بھاری بوجھ ہوتا ہے۔ ان کا ایک غلط فیصلہ پورے پاکستان کے مسلمانوں کی عبادات کو مکروہ بنا سکتا ہے۔ ماضی بعید میں چند بار مخصوص حلقوں کے دباؤ میں آ کر ایسی شہادتوں کو بھی تسلیم کر لیا گیا جو سائنسی طور پر غلط تھیں۔ مگر مفتی صاحب کی سرکردگی میں کیے گئے رؤیت کے فیصلے سائنس کی رو سے بالکل درست ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے چاند دیکھنے کے معاملے میں محکمۂ موسمیات اور سپارکو کی رصد گاہوں کو بھی شامل کیا اور شہادتوں کی تصدیق یا تکذیب سائنسی علوم کی روشنی میں کی۔ مسلک پرستی٬ نسلی تعصب اور ہٹ دھرمی کے الزامات لگنے کے باوجود مفتی صاحب اصولوں پر ڈٹے رہے اور دباؤ میں آکر کسی غلط فیصلے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ مفتی منیب الرحمن صاحب نے اپنی ذمہ داریوں کو جس خوش اسلوبی سے پورا کیا اور قوم کی طرف سے دی گئی ذمہ داری کو جس احسن طریقے سے پورا کیا ہے، اس کے لیے ہم ان کے احسان مند ہیں۔ اس احسان کا بدلہ تو نہیں اتارا جاسکتا لیکن کم ازکم اظہارتشکر تو کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے شکریہ مفتی صاحب۔ آپ کے سپرد جو امانت کی گئی، آپ نے اس کا حق ادا کر دیا۔