اسکواش کی تاریخ اور پاکستان - موسیٰ غنی

اسکواش کی دنیا میں سے اگر پاکستان کا نام نکال دیاجائے تو شاید کچھ باقی نہیں رہ جاتاہے۔ پاکستان نے اسکواش کے کھیل میں جہاں چیمپین بننے کا اعزاز کیا ہے وہیں روشن خان، ہاشم خان، اعظم خان، جہانگیر خان، جان شیر خان کے نام اسکواش کی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھے گئے ہیں۔ اسکواش فٹنس کے لحاظ سے مشکل ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے اس لیے کم ہی لوگ اس کھیل کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پاکستان اس کھیل میں کافی نمایاں مقام رکھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ کھیل پاکستان میں زوال پذیر ہے۔

1907ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ریکٹس اسکواش ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا،1967میں عالمی اسکواش فیڈریشن قائم ہوئی جس میں اس وقت 175رکن ممالک شریک ہیں۔عالمی اسکواش فیڈریشن کی گورننگ باڈی اگرچہ انٹرنیشنل ولمپک کمیٹی سے تسلیم شدہ ہے لیکن اس کے باوجود، تاحال یہ کھیل اولمپک گیمز کا حصہ نہیں بن سکا۔1950 تک اس پر یورپ ، آسٹریلیااور امریکا کو دست رس حاصل تھی لیکن بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور نصف صدی سے زائدعرصے تک عالمی اسکواش پر اپنی حکم رانی قائم رکھی اور عالمی چیمپئن شپ، برٹش اوپن، ایشین چیمپئن شپ سمیت کئی بین الاقومی اعزازات طویل عرصے تک اپنے پاس رکھے۔ شاید اسی خوف کی وجہ سے اس کھیل کو اولمپک مقابلوں کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔

1982 سے 1997 تک کا 16 سال کا عرصہ بلاشبہ اسکواش کے میدان میں پاکستان کا سنہری ترین دور تھا۔ 1982 سے 1991 تک پاکستان کے اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان نے لگاتار 10 برس برٹش اوپن چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت کر اسکواش کے ماضی کے تمام تر ریکارڈ روند ڈالے۔ 1992 میں پاکستان ہی کے ایک اور عظیم کھلاڑی جان شیر خان نے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں اپنے ہم وطن جہانگیرخان کی کامیابیوں کا سلسلہ توڑا اور یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ 1992 سے 1997 تک لگاتار 6 برس جان شیرخان نے یہ اعزاز اپنے پاس رکھا اور یوں اپنے ہم وطن ہاشم خان کا ریکارڈ برابر کردیا۔پاکستان 14 بار ورلڈ اوپن جیتنے کا منفرد ریکارڈ رکھتا ہے، 8 بار جان شیر خان اور 6 بار جہانگیر خان نے ملک کو سرخرو کیا۔ پاکستانی کھلاڑی ایونٹ میں 9 بار رنرز اپ بھی رہے، قمر زمان 4 مرتبہ فائنل ہارے، جہانگیر خان 3، جان شیر خان اور محب اللہ خان ایک ایک فیصلہ کن معرکہ میں ناکام رہے۔ 14 مرتبہ ایسا ہوا کہ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والے دونوں کھلاڑی پاکستانی تھے۔

آج سے کوئی 67 برس پہلے 9 اپریل 1951 کو لندن میں پاکستان کے کھلاڑی ہاشم خان نے مصر کے کھلاڑی محمود الکریم کو پہلی مرتبہ ہرا کر برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ہاشم خان نے 1951 سے 1955 تک لگاتار 5 مرتبہ یہ چیمپین شپ جیت کر مصر کے کھلاڑی محمود الکریم کا 4 مرتبہ لگاتار یہ ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔1956 میں چھٹی مرتبہ لگاتار برٹش اوپن اسکواش چیمپین شپ جیت کر انہوں نے اپنا ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔ ہاشم خان 1958 تک اسکواش کے افق پر چھائے رہے۔ اس دوران انہوں نے صرف ایک مرتبہ 1957 میں فائنل میں روشن خان سے شکست کھائی۔ انہوں نے 7 مرتبہ برٹش اوپن اسکواش چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔1959 میں یہ بیڑہ اٹھایا اعظم خان نے، جنہوں نے 1962 تک لگاتار 4 برس یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ 1963 میں ان سے یہ اعزاز اپنے ہی ہم وطن محب اللہ خان سینئر نے چھینا۔ اگلے 12 برس پاکستان یہ ٹائٹل جیت تو نہ سکا مگر ہمارے کھلاڑی آفتاب جاوید، گوگی علاؤالدین، محب اللہ سینئر اور محب اللہ جونیئر مسلسل اس ایونٹ کا فائنل میں کھیلتے رہے۔ 1975 میں ایک مرتبہ پھر پاکستانی کھلاڑی قمر زمان نے برٹش اوپن چیمپئن شپ کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ 1976 سے 1981 تک پاکستانی کھلاڑی گوگی علاؤالدین، محب اللہ جونیئر، قمر زمان اور جہانگیر خان نے برٹش اوپن چیمپین شپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

جہانگیر خان اورجان شیر خان کا نام تو بہت سنا ہے اور دیکھا بھی لیکن اسکواش کے کھیل سے وہی نوجوان واقف ہیں جن میں اس کا جنون کوٹ کوٹ کر بھرا ہے پاکستان نے اگر کبھی عالمی سطح میں کھیلوں کی دنیا میں بنایا ہے تو شاید وہ اسکواش واحد کھیل ہے ۔نوجوان نسل شاید نہیں جانتی کہ پاکستان میں کھیلوں کی دنیا کا پہلا اعزاز کرکٹ یا ہاکی نے نہیں بلکہ اسکواش نے دلوایا تھا اور المیہ یہ ہے کہ ملک میں اسکواش کا زوال بھی ہاکی اور کرکٹ سے پہلے ہی آیا۔

بلاشک و شبہ جہانگیر خان پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ ان کی اسکواش کے میدان میں حاصل کی گئی کامیابیاں ایسی ہیں کہ دنیا کوئی دوسرا کھلاڑی شاید ہی ان تک پہنچ سکے،بحثیت پروفیشنل اسکواش کھلاڑی جہانگیر خان نے ورلڈ اوپن کا ٹائٹل چھ مرتبہ اور برٹش اوپن کا ٹائٹل ریکارڈ 10 مرتبہ اپنے نام کیا۔1981 میں 17 سالہ جہانگیر خان ورلڈ اوپن جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے، اس کامیابی کے بعد جہانگیر خان کی جیت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کہ پانچ سال تک برقرار رہا اور وہ مسلسل ناقابل شکست رہے۔اس دوران انہوں نے 555 میچز جیتے، ان کامیابیوں کا سلسلہ 1986 میں اس وقت رکا جب انہیں فرانس میں ورلڈ اوپن کے فائنل میں روس نورمن سے شکست ہوئی۔ جہانگیر خان دنیا کھیل سے سب سے بہترین کھلاڑی ہیں۔ ان کا مسلسل 555 میچز جیتنے کا ریکارڈ ایسا ہے کہ جسے ٹوٹنے میں شاید صدیاں لگ جائیں۔جہانگیر خان نے اپنی کتاب ’’وننگ اسکواش‘‘ میں بتاتے ہیں کہ کیسے انہیں اپنے کیرئیر کے شروع میں ہی مایوس کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مجھے بتایا گیا کہ میں کبھی عالمی چیمپئن نہیں بن سکوں گا،میں اپنے خاندان کا میں سب سے کم عمر، کمزور اور بیمار بچہ تھا۔ ڈاکٹر اور میرے والد کو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ میں کبھی اسکواش کا اچھا کھلاڑی بھی بن سکتا ہوں۔ ‘‘

جان شیر خان کے دو بھائی محب اللہ اور اطلس خان اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے، جنہوں نے جان شیر کو اس کھیل میں تربیت دی۔ 1986میں انہوں نے آسٹریلیا میں عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلے میں شرکت کی اور مذکورہ ٹائٹل جیتا جب کہ 1987میں سینئر عالمی چیمپئن شپ میں کرس ڈٹمار کو شکست دی۔ 1988میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے مقابلے میں بھی عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن کا اعزاز انہی کے پاس رہا۔ 1992 میں انہوں نیاپنے ہم وطن لیجنڈ کھلاڑی کو برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں شکست سے دوچار کرکے مذکورہ اعزاز حاصل کیا، 1993میں جہانگیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1997 تک لگاتار 6 برس تک جان شیرخان نے یہ اعزاز اپنے پاس رکھا اور ہاشم خان کاچھ مرتبہ کے برٹش اوپن چیمپئن رہنے کا ریکارڈ برابر کردیا، جب کہ آٹھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فاتح رہے۔ انہوں نے اپنے اسکواش کیریئر میں99میچز میں فتح حاصل کی،آخری مرتبہ 1997میں برٹش اوپن کا مقابلہ جیت کر برطانیہ میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ 6 اپریل 1998 کووہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں اسکاٹ لینڈ کے کھلاڑی پیٹر نکول سیہارگئے۔جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا اسکواش کے کھیل میں زوال شروع ہوا اور اس کی ساٹھ سالہ اجارہ داری ختم ہوگئی۔جہانگیر خان اور جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ ٹین تک کے مرحلے میں بھی نہیں پہنچ پایا۔

پاکستان میں اسکواش جیسے مشہور کھیل کا زوال بیسویں صدی کے آخر ہی میں ہوگیا تھا جس کوانتظامیہ اور ناقص پالیسی کی وجہ سے نظر انداز کردیا گیااور آج نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس نوجوان پلئیرز تو بہت ہیں مگر چیمپینز کی کمی ہے۔