کچی آبادیوں کے مسائل - محمد عنصر عثمانی

دیکھو میاں ! کراچی کے مسائل اتنے گمبھیر نہیں جتنا شہر قائد کی لوکل و سرکاری گورنمنٹیں آج تک بتاتی رہی ہیں۔ان کارونا دھونا مگر مچھ کے آنسو ہیں۔شہرقائد کے باسیوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے اورتبدیلی کا طوفان آناتو درکنار تبدیلی کی ہوا تک کراچی کو نہیںلگی۔آج تک ساری سیاسی جماعتوں نے مل کر کراچی کی بوٹیاں نوچیں۔ہر ایک نے جتنا کر سکنا تھا کیا۔2018 کے الیکشن میں مَیں نے پوری فیملی سمیت پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔میں صدق دل سے کہتاہوں کہ میں نون لیگ کا جیالا تھا۔اس لیے کہ اگر آج کراچی کے شہر ی سکون کی نیند سوتے ہیں تو اس کی وجہ مسلم لیگ نون ہے ۔ 2013 سے پہلے عام تعطیل پہ کسی کو ہمت نہیں ہوتی تھی کہ روڈ پر سر عام کرکٹ میچ کھیلے۔ آج اگر ہمارے بچے اپنے اس شوق کو بلا خوف وخطر پوری پوری رات کرکٹ کھیل کر پورا کرتے ہیں تو اس کاکریڈٹ مسلم لیگ ن کو دیا جانا چاہیے ۔میں شیر پہ ٹھپہ لگانے گیا تھا پھر عین وقت پہ میرا ارادہ بدل گیا اور میرا ووٹ خان صاحب کو چلاگیا۔ کیوں کہ میں ان کوموقع دینا چاہتا تھا۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے حکومت ملنے کے بعد کراچی کو جس طرح سے نظر انداز کیا وہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ،عام انتخابات میں یہی کراچی کی عوام تھی جوان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی اور انہیں ملک کی دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پہ ترجیح دی۔ لیکن خان صاحب اور ان کی مضبوط ٹیم کو کراچی سے کوئی سروکار نہیں۔

بات سنو میاں! صرف توجہ اور بہترین پالیسی کی ضرورت ہے بس۔کراچی کامقدمہ حکومت کو خود لڑنا ہوگا۔وفاق سے دی جانی والی عوامی پالیسیوں پر صوبائی حکومت سے عمل کروانااور عوام کو گومگوں کی صورت حال سے نکالنا حکومت کے ذمہ ہے۔کراچی کے چند مسائل ایسے ہیں جو سالوں سے دن بدن تشویشناک شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔سند ھ میں کئی سالوں سے پیپلز پارٹی کے ڈیرے ہیں۔ سائیں قائم علی شاہ نے سوائے چٹکلے چھوڑنے کے کراچی کے لیے کتنے تارے توڑے ؟ یہاں کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔ شہر کی غریب پسماندہ آبادیوں کو گاؤں سے بھی گیا گزرا بنا دیا گیا ۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئیں ۔عام آدمی صبح گھر سے صاف ستھرا دفتر جاتا ہے ،شام کو اسے فیملی والے پہنچاننے سے انکار کردیتے ہیں۔مجھے دیکھ لو۔ میں ایک زندہ مثال بیٹھا ہوں آپ کے سامنے ۔انکل جی نے بس کی کھڑ کی سے باہر نظر ڈالی اور بولے۔ میاں ! آپ کراچی کے پل انڈرپاسزاور سڑکوں کے ارد گرد جمع ہونے والی مٹی اکٹھی کریں تو کئی ڈمپر بھر لیں گے ۔یہ توہمارے ہاں صفائی کا حال ہے ۔یہاں کی کچی آبادیوں کے مسائل ڈیڑھ عشرے سے جوں کے توں ہیں۔کسی نے نظر کرم کرنا گوارا کیا؟اس شہر میںملک کے دوردراز علاقوں سے غریب اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالنے آتے ہیں،وہ اس شہر کو ماں سمجھ کر یہاں کا رخ کرتے ہیں ۔ انہیں ملتا کیا ہے؟ سوائے دن رات محنت کر کے چند سو روپے،بغیر چھت کے کواٹر جس کا کرایہ اس مہنگائی کے دور میں بھرنا مشکل ہی نہیںناممکن ہے۔رہائشی کواٹروںمیں نہ پانی ہوتا ہے نہ بجلی ۔بھائی ! حکومت کا غضب دیکھیے جولائی کے بعد بجلی کی بندش میںاتنا اضافہ ہوا ہے کہ کچی آبادیوں کے مکین نئی حکومت کوبددعائیں دیتے پھررہے ہیں۔یقین نہیں آتا تو آپ میرے ساتھ چلیے میں آپ کوایسے گھر دیکھاتا ہوں ،ایسی فیملیوں سے ملواتا ہوں جن کی عمران خان سے امید یں بندھی تھیں،جو انہیں اپنا مسیحاجان کر جھولیاں بھر دعائیں دیتے نہیں تھکتے تھے۔ان کی دوتین مہینوں میںمہنگائی سے چیخیں نکل گئیںہیں۔ہم غریب یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم ہماری قبریں کھود کر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ نیا پاکستان منظور نہیں ۔اگر وہ اسی طرح دیوار میں سرمارتے رہے تو یقین کرو بیٹا یہ ملک کی پسماندہ اور بچی کچی دیواریں بھی توڑ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   زمانے کے انداز بدلے گئے- شیخ خالد زاہد

انکل جی کی باتیں سن کر ہماری تو سانسیں رک گئیں ،اور ہم دم بخود انہیں تکے جا رہے تھے ۔بلدیہ ٹاؤن کے ان انکل جی کی باتوں نے ہمارے رونگٹے کھڑے کردیے تھے۔ہم بس میں ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔ان کی باتوں میں سچائی تھی اور ہم سب اس سچائی کے کڑوے گھونٹ سالوں سے چپ چاپ پی رہے ہیں۔ ہم نے وزیر اعظم کی ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی ‘‘کے بارے پوچھا تو انکل جی نے برا سا منہ بنایا اوردل کے ارمان زبان حال سے یوںبیان کرنے لگے۔ ہمیںوزیر اعظم کی نیت پہ شک نہیں کرنا چاہیے ، پی ٹی آئی کی اصلاحات کا اعلان ہو چکا ہے۔ خان صاحب کا کہنا ہے کہ چھ مہینوں میں مثبت اثرات آنا شروع ہوجائیں گے۔گھبرائیں نہیں حالات درست سمت آنے والے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں ان چھ مہینوں میں غریب کا کیا حال ہوگا۔پچاس لاکھ گھر بنائیں اچھی بات ہے۔ملک کو گھروں کی ضرورت ہے۔غریب کو روزگار ملے گا اور ہر ملک میں معیشت کے لیے ہاؤسنگ انڈسٹری روزگار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،اس سے ملکی معیشت کو گرداب سے نکالنے میں مدد ملے گی۔ساتھ ساتھ سندھ میں 50 فیصد کچی آبادیوں کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ان علاقوں میں رجسٹریشن کا مسئلہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ کچی آبادیوں کو لیز کروائے۔ایسے محنت کش جو ہڈیاں توڑ کر ایک چھوٹا سا آشیانا بناتے ہیں ، انہیں حکومت مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائے،ایسے علاقہ مکینوں کے سر پہ ہر وقت مکان چھین جانے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔کراچی غریب کی ماں ہے اور خان صاحب نے غریب کو عزت دینے کا نعرہ الیکشن مہم میں زور شور سے لگایا تھا، تو اب خان صاحب کو ان غریبوں کے دکھ درد بانٹنے ہوں گے۔کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو کیڑے مکوڑے نہ سمجھیں ۔یہ بھی انسان ہیں اور انہیں بھی زندہ رہنے کی تمام تر سہولیات دینا ریاست کا فرض ہے۔ہمیں خان صاحب سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے ۔ہم غریب بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہماری جو بنیادی ضروریات ہیں وہ پوری کی جائیں۔سیورج ، پانی ، بجلی ،گیس باہم بلاتعطل ہمیں ملتا رہے۔اور مہنگائی کا جن جو قابومیں نہیں آرہا ہے اسے جکڑ کر بوتل میں بند کیا جائے۔ہمیں کھانے کو سستی دال روٹی ، پہننے کو سستا کپڑااور رہنے کو ایک مناسب محفوظ چھت مل جائے توہم خوش ہوجائیں گے ۔اور ریاست کے لیے دعائیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپکی مرضی - فیض اللہ خان

اگلے اسٹاپ پرانکل جی تو اتر کر چلے گئے مگر ہمیں غریب گھروں کااصل چہرہ دیکھا گئے۔حکومت ان غریبوں کے سروں پہ ہاتھ رکھے اور انہیں بے یقینی کی کیفیت سے باہر نکالے۔غریبوں کی مددکرناحکومت کا سلوگن تھا ۔اوریہ سلوگن کسی ایک صوبے کے ساتھ مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔پورے ملک کے غریب کا سلوگن ایک ہو اور سب کو یکساں سہولیات ملنی چاہییں۔