شہری مسائل کا حل - وارث اقبال

برسوں پہلے کی بات ہے کہ میں موٹر سائیکل کا لائسنس بنوانے کے لیے نکلا۔ لرننگ بنوایااور انتظار کرنے لگا اس مدت کے پورا ہونے کا جو مجھے لائسنس بنوانے کے لیے درکار تھی۔ جب مدت ختم ہوئی تو میں پکا لائسنس بنوانے کے لئے پھر متعقلہ دفتر میں پہنچا۔ مجھے ایک فائل بنانے کے لئے کہا گیا جس میں اتنا کچھ درکار تھا کہ میں نے اُسے پورا کرتے کرتے وہ مدت گزار دی جو اس کے لیے درکار تھی۔ اور اب ایک دفعہ پھر لرننگ لائسنس بنوا لیا۔ یوں میں نے عمر بغیر لائسنس کے بغیر ہی گزار دی۔ اب میرے بیٹے کو لائسنس بنوانا ہے تو وہ وہی مراحل سے گزر رہا ہے جن سے میں گزرا۔ جب راستے دشوار گزار ہوں تو لوگ سہارے تلاش کرتے ہیں۔ یہی میرا بیٹا کر رہا ہے۔ مجھے بھی کئی لوگ ایسے ملے جنہوں نے مجھے گھر بیٹھے لائسنس بنوانے کی پیشکش کی مگر مطلوبہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے میں اس پیشکش سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ آج میرے بیٹے کو وہی پیشکش کی جا رہی ہے۔

اس ساری صورت حال میں میرے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ رشوت مافیا نے ہر جائز کام کے راستے اتنے دشوار گزار بنادیے ہیں کہ ان راستوں کا مسافر تھک ہار کر ان کی جھولی میں جا گرتا ہے۔ اس اندھیر نگری میں جب تک چیف جسٹس کی نظر کسی مسئلے کی طرف نہ پڑے کوئی دیکھتا ہی نہیں۔ ہر حکمران رشوت اور بددیانتی ختم کرنے کے دعوے تو بہت کرتا ہے مگر ان عوامل کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا جن کی وجہ سے بددیانتی ہوتی ہے۔ لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس کام کے لئے کس کاغذ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ وقت آتا ہے تو اُسے اُس ایک کاغذ کو حاصل کرنے کے لئے اتنے کاغذات حاصل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بیچارہ شارٹ کٹ دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور کسی کی مٹھی گرم کر کے اپنا کام نکال لیتا ہے۔

وطنِ عزیز میں قبضہ مافیا سے زمینیں چھڑوانے کے نام پر غریبوں کی ریڑھیاں الٹائی جاتی ہیں۔ایک غریب بیچارہ ریڑھی پر چند پھل رکھ کر گھر سے یہ سوچ کر نکلتا ہے کہ وہ رات کو بچوں کے لئے کھانے کا سامان لے کر آئے گا۔ مگر آگے اُسے ملتا ہے بلڈوزر، صرف یہی نہیں اُسے ذمہ داران حکومت کی گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں اور لاٹھیاں بھی۔ یہاں بھی وہی معاملہ، مسئلہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس مسئلہ کو جنم دینے والے عوامل کو نہیں۔ ایک شخص سرکاری زمین پر بیٹھ کر روزی کما رہا ہے۔ کوئی چوری نہیں کرتا، دہشت گردوں کے ہاتھ نہیں بکتا، مگر وہ زیر عتاب آتا ہے۔ اُس کے تو آگے نہ کوئی نہ اُس کے پیچھے کوئی، نہ اُس کی کوئی تجوری نہ بنک بیلنس، جو آج کمانا وہی کھانا، تو آج وہ کہاں سے کھائے گا۔ جب وہ گھر کچھ لے کر نہیں جائے گا تو اُس کے گھر والوں پر کیا گزرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی میں جھگڑا ہو، جس کا نتیجہ خود کشی اور تشدد،کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس نظام کی خرابی کا ذمہ دار وہ غریب نہیں بلکہ اہل اقتدرا ہیں۔ اگر غریب جاہل ہے تو ذمہ دار امرا ہیں۔ غربت ختم کرنے والے اہل اقتدار گرغربت کو جنم دینے ولے عوامل کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے۔ ٹریفک قوانین کے متوالے موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھے شخص کو بھی ہیلمنٹ پہنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ میں ہیلمنٹ کے خلاف نہیں ہوں لیکن کوئی مجھے بتائے کہ وہ غریب کیا کرے جو اپنی واحد سواری پر اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر نکلتاہے۔ کیا ذمہ داران نے اُس کے لئے کسی متبادل کا انتظام کیا؟ ہمیں یقیناً ترقی یافتہ اقوام کے نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے، وہ ریت رواج یہاں بھی لانے چاہییں، لیکن کیا حکومت نے وہ صحت کی سہولتیں عوام کو دے دی ہیں جو یورپ میں ہیں۔ کیا اہل اقتدار اور ہمارے اہلِ دانش نے غریب کو تعلیم کی وہ سہولتیں دے دی ہیں جو یورپ میں ہیں۔ کاش کوئی ایسا اہل پیداہوجائے جو جو ان عوامل کی طرف دھیان دے جو مسائل کا سبب بنتے ہیں۔