مہاتیر محمد کا انوکھا مقابلہ - عبید الرحمن شفیق

مہاتیر محمد ملائیشیا کے وزیر تعلیم ہوا کرتے تھے۔ اس وقت انہیں کوبانج باسو میں ایک سکول کی سالانہ تقریب میں بطورخصوصی مہمان مدعو کیا گیا۔ مہاتیر محمد کے بارے میں معروف ہے کہ وہ روایتی سوچ سے دامن چراتے ہوئے ہمیشہ آؤٹ آف دی بوکس جا کر کچھ کرتے ہیں۔ دوران محفل انہوں نے تمام اساتذہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا: اگرچہ یہ تقریب تو بچوں کی ہے لیکن آج میں نے آپ اساتذہ کے لیے بھی ایک مقابلہ رکھا ہے۔ اساتذہ بہت حیران ہوئے لیکن خیر وزیر تعلیم کے آگے کس کی مجال تھی کہ کوئی انکار کرسکے۔

تمام اساتذہ کو ایک ایک غبارہ تھما دیا گیااور کہا گیا کہ اس غبارے میں ہوا بھر کر سبھی اپنے اپنے پاؤں سے باندھ لیں اور سبھی ایک دائرے کی شکل میں کھڑے ہوجائیں۔ آپ سب کے پاس ایک منٹ کا وقت ہے، ایک منٹ کے بعد جس جس کے پاؤں میں صحیح سالم غبارہ موجود ہوگا، اسے ایک خاص انعام سے نوازا جائے گا۔ ٹاسک کا وقت شروع ہونے کی دیر تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے غبارے پر حملہ کر دیا اور ہر ایک کی حتمی کوشش یہی تھی کہ کسی نہ کسی طریقے دوسرے کا غبارہ پھاڑ دیا جائے۔ جیسے ہی وقت مکمل ہوا تو مہاتیر محمد نے سب کومتوجہ کرتے ہوئےکہا: کیا میں نے آپ سے آپ کے ساتھی کا غبارہ پھاڑنے کا تقاضا کیا تھا۔ میرا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ کا غبارہ صحیح سالم ہونا چاہیے۔ اگر آپ سب لوگ اپنی جگہ پر کھڑے رہتے تو مقررہ وقت کے بعد سبھی کا غبارہ صحیح سالم ہوتا اور آپ سبھی انعام کے حق دار ہوتے۔

ہماری زندگیوں کا مسئلہ بھی کچھ اس طرح ہی ہے، ہم ہمیشہ اپنے مد مقابل انسان کو اپنا مخاصم سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک ایسے مقابلے پر اتر آتے ہیں جس کا نتیجہ صرف آپ کی جیت اور اس کی ہار میں ہونا چاہیے۔ اگر آپ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں کونکھاریں چہ جائیکہ آپ کی سوچ کا محور کسی دوسرے کو گرانے کے گرد ہو۔ اپنا مقابلہ اپنی ذات سے کریں۔ کوشش کریں کہ آپ اپنے گزشتہ کل سے اپنے آج میں اور اپنے آج سے اپنے آنے والے کل میں قابلیت کو زینہ کو بناتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے جائیں۔ ہماری سب سے بڑھی کمی یہ ہے کہ ہم ایک ٹیم فریم میں رہ کر کام کرنے کا ہنر نہیں جانتے۔ کیسے ایک ہدف کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے لیے ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم ایک ترقی یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی مفاد کو مد نظر رکھتے ترقی کی راہ میں ایک پل ثابت ہونا ہوگا نہ کہ اس راہ میں ہم ایک ایسی آڑ بن کے حائل ہوں جس سے سارا معاشرہ سیل زوال میں ڈوب جائے۔ امام شافعی نے کیا خوب فرمایا: جب بھی میں کسی دوسرے عالم کو دیکھتا ہوں تو ہمیشہ میرے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ باری تعالی اس کی حفاظت فرمائے، مزید علم نشر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، قطع نظر اس بات کہ اللہ تعالی اس کی زبان سے صحیح بات جاری فرماتے ہیں یا میری۔!