سیاست کی کرکٹ - حبیب الرحمن

کرکٹ کی تاریخ ریکارڈوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ بھی کوئی لاپرواہی سی لاپرواہی ہے کہ اپنی جانب سے یہ سمجھ لیا جائے کہ گیند باؤنڈری لائن پارکرچکی ہے اور وکٹ کے بیچ گپیں لگانا شروع ہو جائیں۔ وہ بھی ایک نہیں دو کھلاڑی۔ ہم تو یہ دیکھتے آئے ہیں کہ خواہ گیند باؤنڈری سے باہر کی جانب جا رہی ہو یا اس کے رک جانے کا امکان ہو، روک لی جائے یا پارلگ جائے، کھلاڑیوں کو رن کیلئے مصروف عمل ہی پایا ہے۔ بے شک یوں بھی ہوا ہے کہ اس عمل کے دوران غلط اندازوں کی بنیاد پر رن لینے کی جدوجہد میں کھلاڑی رن آؤٹ بھی ہوئے ہیں لیکن ایسا تو شاید کرکٹ کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے کہ کھلاڑی اپنی جانب سے اتنے غافل ہو جائیں کہ گراؤنڈ سے ان کی نظر ہی ہٹ جائے اور وہ کھڑے کھڑے ہی ساکت و منجمد ہو جائیں۔ اگر پاکستان کسی بری پوزیشن میں ہوتا تو اس کیس کو جوا ہی سمجھا جاتا، کھلاڑیوں کی اس غفلت کو سٹے کا نام دیا جاتا اور یہ کوتاہی ان کے مستقبل کو تاریک کر کے رکھ دیتی۔ مبصرین غفلت کا الزام ایک ہی کھلاڑی پر مرکوز کئے ہوئے ہیں جبکہ دونوں کھلاڑی اس جرمِ عظیم میں برابر کے شریک تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کھلاڑی آؤٹ ہو سکتا تھا۔ یہ تو بالنگ اینڈ سے آنے والے کھلاڑی کی خوش قسمتی تھی کہ بال اس کے اینڈ پرنہیں پھینکی گئی تھی اور یہ بھی کہ وہ بیٹنگ اینڈ کی جانب نہیں کھڑا تھا۔ ایسی صورت میں جبکہ دونوں بیٹس مین وکٹ کی درمیان میں ہوں، آؤٹ وہی قرار دیا جاتا ہے جو کسی اینڈ سے قریب ہو۔ اس طرح غفلت کی برق اظہر علی پر ہی گری اور وہ کرکٹ کی ایک نئی تاریخ رقم کر گئے۔ ان کی یہ غفلت ان کو دنیائے کرکٹ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید کر گئی۔

ایک اور واقعہ بھی کرکٹ کی تاریخ میں بھلایا نہیں جا سکتا۔ ایک ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے کھلاڑی نے ایک بھرپور شاٹ کھیلا۔ یہ ایک ایسا شاٹ تھا کہ کھلاڑی گمان ہی نہیں کرسکتا تھا کہ اسے کوئی فیلڈر روک بھی سکے گا۔ کوئی ان ہونی ایسی بھی ہو جو کرٹ میں نہ ہوتی ہو یہ ممکن ہی نہیں۔ میانداد نے ناقابل یقین حد تک چیتے کی سی زقند لگاکر گیند فیلڈ کر لی۔ شاٹ کھیل کر رن لینے کے یقین کے ساتھ دونوں کھلاڑی اپنی اپنی کریز چھوڑ چکے تھے۔ میاں داد نے بالنگ اینڈ کی جانب گینڈ پھینکنے کا انداز بنایا تو دونوں میں سے ایک کھلاڑی اپنی کریز کی جانب پلٹا، میانداد نے دوسرے اینڈ کی جانب انداز بنایا تو وہ بالر اینڈ کی جانب پھرتی سے گھوما، میانداد نے پھر پہلے والا انداز اختیار کیا تو کھلاڑی پھرتی سے گھومنے کے چکر میں وکٹ کے بیچ ہی ڈھیر ہوگیا۔ نتیجے میں وہ نہ صرف وکٹ گنوا بیٹھا بلکہ اسے اسٹریچر پر اٹھا کر میدان سے باہر لیجانا پڑا کیونکہ اس کی کمر میں چک آگئی تھی۔ سیاست اور کرکٹ میں سب کچھ ہو سکتا ہے اور دونوں میدانوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہ کھلاڑی جو میدان سے باہر بیٹھے ہوتے ہیں ان کو نہ صرف میچ بہت صاف صاف نظر آرہا ہوتا ہے بلکہ وہ ہر کھلاڑی کی خامیوں کو بہت عمدگی کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اسے سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بر خلاف وہ کھلاڑی جو میدان کے اندر ہوتے ہیں ان کو ہر فیصلہ میدان کی کیفیت دیکھ کر ہی کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ بھی ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے کی مہلت ایک سیکنڈ کے دسویں حصے سے بھی کم ہوتی ہے۔ لیکن باہر بیٹھے کھلاڑی اس کی کسی بھی غلطی یا کوتاہی سے صرف نظر کرنے سے باز نہیں آتے اور کھلاڑی کو بہر کیف کڑی تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑجاتا ہے۔

موجودہ حکومت کا حال بھی کچھ ایسے ہی دو واقعات کے جیسا ہے۔ الیکشن کی بھرپور شاٹ کھیلنے کے بعد اسے یہ گمان گزرا کہ اب گیند کو باؤنڈری لائین کے باہر ہی جاکر دم لینا ہے۔ اس کی نظر اس خوشی میں گینڈ، کھلاڑی اور میدان سے ہٹ گئی۔ مخالف کھلاڑی اپنی جدوجہد میں لگا رہا اور گیند کو باؤنڈری لائن کے قریب فیلڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ تو طے ہے کہ الیکشن جیتنے والا کھلاڑی اب تک آؤٹ تو نہیں ہوا لیکن وہ اب تک وکٹ کیپر کی جانب بڑھتی ہوئی گیند پر بھی نظر نہیں رکھے ہوئے ہے جو کچھ لمحوں میں اس کے محفوظ ہاتھوں میں پہنچ کر اسے پویلین میں واپسی جانے کی راہ دکھا سکتی ہے۔ اس کی مسلسل یہ غلط فہمی کہ بس اس نے اب میدان مار لیا ہے، اس کے کھیل کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حکومت کو دوماہ سے اوپر ہو چکے ہیں لیکن یہ اب تک انگلینڈ کے اس کھلاڑی کی طرح ہے جس کی گیند میانداد کے ہاتھوں پکڑی جاچکی ہے اور وہ میانداد کے کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب گیند پھینکنے کی اشاروں کی وجہ سے ہاں نہیں اور نہیں ہاں کے جال میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ کبھی دوسری اینڈ کی جانب بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے اور کبھی اپنی ہی کریز میں پلٹ آنے کی۔ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے۔ ناظرین کو ڈر اس بات کا ہے کہ کھلاڑی کمر کا کام تمام نہ کروا بیٹھے۔ کوئی شے بالکل ہی نئے سرے سے تعمیر کرنا اور کسی تعمیر شدہ عمارت کو نیا کرنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو بالکل ہی نئی تعمیر آسان بھی ہے اور اس کو جدید ترین تعمیرات کا ہمرنگ کرنا یا اس سے بھی بہتر بنانا بہت سہل ہے لیکن کسی پرانی عمارت کو نئی اور خوبصورت شکل دینا یا اس کو پورا کا پورا ڈھا دینے کے بعد نئے سرے سے تعمیر کرنا اور اسے جدید طرز کا شاہکار بنانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نہایت مہنگا کام ہے۔ اگر پرانی جگہ پر جدید ترین شاہکار بنابھی لیا جائے تب بھی اس کی وہ توقیر نہیں ہوپاتی جو کسی نئی جگہ بسائی جانے والی نئی اور جدید بستی میں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے چاروں جانب وہی ماحول اور عمارتیں ہوتی ہیں جن کو دیکھ دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں پتھرا چکی ہوتی ہیں۔

ایک جانب تو نئے کا نعرہ لگا کر پرانے سے پرانے پاکستان کی جانب پیش قدمی اور دوسری جانب ہر فیصلہ پر اعتماد کا فقدان نئی حکومت کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ قوم کو اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ ہم پرانے پاکستان میں سانس لے رہے ہیں یا نئے پاکستان میں۔ اب تک جو حالات سامنے آرہے ہیں وہ قوم کیلئے کسی اچھی نوید کو سناتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ روز نامہ جسارت کے اداریہ میں بہت مناسب تجزیہ کیا گیا ہے کہ "آئی ایم ایف کے پاس جانے میں عمران خان ابھی شش و پنج اورگو مگو کا شکار ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط بھی بہت کڑی ہیں۔ اس کے پیچھے امریکا کھڑا ہوا اسے ہشکار رہا ہے اس سے ہٹ کر عمران خان نے مزید کہاہے کہ ہم عام آدمی کی مشکلات کم کریں گے، تعلیم، صحت اور سماجی شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ 6 ماہ میں بہت کچھ بدل جائے گا۔ اب تک کی کارکردگی دیکھتے ہوئے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ خدا کرے کہ عام آدمی کی مشکلات کم ہوجائیں جن میں صرف 60 دن میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں گزشتہ 5 سال حکومت رہی ہے۔ لیکن وہاں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری نہیں آسکی۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 69 اسکول تباہی کا شکار ہیں۔ ان میں پشاور اور سوات کے اسکول بھی شامل ہیں اور حکومت کی یہ دلیل صحیح نہیں کہ یہ اسکول دور دراز کے علاقوں میں ہیں۔ صحت کے حوالے سے صوبے کے سرکاری اسپتالوں کے بارے میں عدالت عظمیٰ برہمی کا اظہار کرچکی ہے۔ 5 سال کی حکومت میں ایک صوبے کے معاملات درست نہ ہوئے تو ملک بھر میں یہ کام اور بھی مشکل ہوگا۔

عمران خان حکومت آئی ایم ایف کے پھندے میں نہ پھنسے تو بہت اچھی بات ہوگی لیکن گداگروں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایک پھندا نہ سہی کوئی دوسرا پھندا"۔ ایک اور مقام پر اداریے میں ہے کہ "بدھ کو ذرائع ابلاغ کے وفود سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ہوسکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چلے جائیں۔ حیص بیص کی یہ کیفیت مناسب نہیں ہے"۔ اور یہی وہ تردد ہے جو میانداد اور پلیر کے عمل اور رد عمل سے مماثلت رکھتا ہے۔ اب تک حکومت جو فیصلے کرتی آرہی ہے اس میں اعتماد کی کمی کو صاف صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ منصوبہ بندی کا فقدان بھی اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ حکومت میں آنے سے قبل بھی کوئی پلاننگ نہیں کی گئی تھی۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت مل جانا شاید توقع کے بر خلاف رہا ہو اور دوئم یہ کہ جن لوگوں پر بھرسہ ہو کہ وہ نظام حکومت احسن طریقے سے سنبھال لیں گے وہ توقع سے بڑھ کر کر لیا ہو۔ ہر دو صورت موجودہ حکومت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان کے بیچ کھڑے کھلاڑیوں کی طرح یہ سمجھ لینا کہ گیند باؤنڈری کے باہر جاچکی ہے، اپنے آؤٹ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر سرپیٹتے ہوئے میدان سے باہر آنا ہے یا میانداد کے کبھی بالنگ اینڈ اور کبھی بنیٹنگ اینڈ کی جانب بار بار کے اشاروں اور ہاں نہیں، نہیں ہاں کے بیچ چکراکر وکٹ کے درمیان گر کر کمر تڑوا بیٹھنا ہے یا پھر میدان اور وکٹ کا درست جائزہ لیکر ایک اچھی اننگ کھیل کر میدان لوٹ لینا ہے۔ میدان میں موجود ایک ایک ناظر کی نظر کھیل اور کھلاڑیوں پر گڑی ہوئی ہے۔ ہوتا کیا ہے، یہ اب آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا۔