انسانیت کے معمار - مقصود حسین

انسان شاہکار ہے خالقِ کون و مکاں کی شانِ تخلیق کا، اپنی خلقت میں احسنِ تقویم کا پیکر اتم بھی ہے،حسنِ ازل کی حسین و جمیل صفات کا مظہرِ کامل بھی! مگر سوال یہ ہے کہ انسان ان رفعتوں کا امین کب اور کیونکر بنا؟ بنیادی طور پر انسان کی عظمت کا سفر اسی روزسے شروع ہو گیا تھا جس دن وہ مسجودِ ملائکہ اور محسودِ ابلیس ٹھہرا تھا۔ غور کریں تو بہت ہی عجیب معلوم یوتا ہے تین کرداروں کا یہ واقعہ، یعنی انسان، ملائکہ اور ابلیس کا قصہ، وہ اس طور پر کہ ایک طرف تو انسان ہے کہ مٹی کا تودا جبکہ دوسری جانب ملائکہ ہیں کہ مجسمہِ نور۔ انسان ہے کہ پیدائشی ہی طور پر ضعیف و ناتواں اور ملائکہ ہیں کہ خلقی طور پر ہی کامل اور اکمل۔ انسان ہے کہ عاصی و بغاوت پسند طبع کا مالک اور ملائکہ کہ ہیں ہمہ وقت اطاعت شعار اور معصوم۔ الغرض دونوں میں بعد المشرقین کا فاصلہ ہے، نوعی اور خلقی اعتبار سے، کیسے ہو سکتے ہیں نور اور ظلمت باہمی طور پر ہم پلہ آخر؟ چہ جائیکہ ظلمت مسجود ہو اور نور اس کے حضور سر بہ سجود؟

دوسری طرف بھی اتنی ہی عجیب بات ہے ،وہ یوں کہ ایک طرف تو انسان ہے کہ جس کے خلاف پہلے ہی نوریوں کا فتوی آچکا ہے کہ زمین میں جاکر، نیابت تو کُجا، تعمیر بھی نہیں بلکہ تخریب کرے گا ، یہاں تک کہ اپنی ہی نوع کے خون کے درپے ہوگا، دوسری طرف وہ عابد و زاہد اور پارسا ہے کہ جو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے اور برسوں کے سجود کے بعد ایک قابلِ رشک مقام اور مرتبہ حاصل کر چکا ہے، اور خلقی طور پر بھی اس سے ممتاز ہے، آخر خاک اور آگ کی دوسرے سے نسبت ہی کیا ہے؟ دوسری اہم اور غور طلب بات یہ ہے کہ حسد تو عام طور پر اس سے کیا جاتا ہے جسے کسی نوع کی کوئی فضیلیت اور برتری حاصل ہو، چاہے وہ برتری مال میں ہو یا اولاد میں، حسن و جمال میں ہو یا اخلاق میں، مگر اس کے برعکس جو شخص خالی دامن اور تہی دست ہو اور خود ہی مفلوک الحالی کا شکار ہو، اس کی حالت پر تو حسد تو کجا ترس آنا چاہیے۔ ہمیں اسی مسئلے پر غور کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں کہ انسان کے مسجودِ ملائکہ اور بیک وقت محسودِ ابلیس ہونے کا بنیادی سبب دراصل یہ تھا کہ انسان کے جسدِ خاکی کے اندر ایک ”روحانی چنگاری“ پھونک دی گئی تھی، اسی چنگاری کے سبب وہ خلافت ارضی کا اہل بنا تھا، اسی شرف کی بدولت سے وہ مسجودِ ملائکہ ٹھہرا تھا، اور اسی اعزاز کے باعث وہ ابلیس کے انتقام کا نشانہ بھی بنا تھا اور آج تک بن رہا ہے۔ یہی وہ جوہری فرق یا شرف ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات پر بشمول ملائکہ اور ذریتِ ابلیس کے سب پر فائق و برتر کرتا ہے، اور یہی وہ ”عنصر“ ہے، جو انسان کے لیے وجہِ امتیاز اور اس کی بلندی پرواز کا ضامن بھی ہے۔ یہی وہ ”مقدس پھونک“ ہے، جو اسے مسجودِ ملائکہ بننے کے لائق اور اسے محسودِ ابلیس بننے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ مگر افسوس !!!

یہ بھی پڑھیں:   فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا - ملک صداقت فرحان

اس حقیقت پر کہ انسان ظالم ہے اور جاہل بھی، بارِ امانت کندھے پہ رکھ کر بھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔ وہ آج تک نوریوں کے فتوے کے عین مطابق فساد انگیزی اور خون ریزی میں مصروف رہا ہے اور ساتھ میں ابلیس کا آلہ کار بن کر اس کے مقدمے کو تقویت پہنچاتا رہا ہے۔ اس نے اس کام آغاز پہلے پہل اُس وقت کیا تھا جب اس نے حسد میں آ کر اپنے ہی بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ اس وقت اس کی اپنی علمی حالت یہ تھی کہ لاشے تدفین کے لیے بھی اسے کالے کوے کی شاگردی اختیار کرنا پڑی، بلاشبہ اس موقع پر اس کی یہ صورتحال کسی بڑی خفت سے کم نہ تھی، اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا، پیغمبروں کی باتوں کو پس پشت ڈال کر وہ کبھی فرعون بنا تو کبھی نمرود بن کر خدائی کے دعوے کرنے لگا، کبھی قارون بن کر دولت پر اکڑ دکھانے لگا تو کبھی پیغمبروں کو مصلوب کرنے کے لیے چڑھ دوڑا، کبھی اس نے خندق والوں کو آگ میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا تو کبھی غار والوں کو ملک بدر کر دیا، پھر یہ چھ سو سال تک کلیسا پر قابض ہو کر مسیح کی تعلیم میں مسلسل تحریف کرتا رہا، یہاں کہ چھٹی صدی میں فاران کی وادیوں سے اُس آخری قدسی کا بھی ظہور ہوا، جس کا اس وقت ہر کوئی منتظر تھا، اُس قدسی نے آ کر چار سُو نیکی اور تقوے تعلیم کو عام کیا، لیکن وہ پھر بھی اپنی پرانی عادات پر اڑا رہا۔ کبھی ابو جھل و لہب کی صورت میں سامنے آکر اور کبھی عبداللہ بن ابی کے روپ میں چھپ کر، ہر دو طریقوں سے وہ وار کرتا رہا، اس کے بعد وہ کبھی چنگیز بن کر علم و حکمت کے خزانوں کو تاراج کر گیا تو کبھی اپنی قومیت کے نشے میں بد مست ہو کر ہٹلر بن گیا، کبھی اس نے ناگاساکی پر ایٹمی ہتھیاروں کر کے لاکھوں بے گناہ جانوں کا خونِ عام کیا تو کبھی واشنگھٹن اور ماسکو میں بیٹھ کر پاور اور پالیٹکس کی ایسی گیم کو ایسی ہوا دی کہ لوگ قدیم رومہ اور ایران کی پیکار کو بھول گئے، یہاں تک کہ پوری دنیا ان دو بڑے ہاتھیوں کی لڑائی میں پِس کے رہ گئی۔

بیسوی صدی کی وسط میں پہنچ کر اس نے اپنی منافقت کا اظہار اقوام متحدہ بنا کر بھی کیا کہ چلو آج کے بعد بات چیت ذریعے مسائل حل ڈھونڈھ لیا کریں گے لیکن اس کے اندر برسوں سے لگی خون کی پیاس اتنی جلدی کیسے بجھ سکتی تھی، اس نے اپنی پرانے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کبھی یوکرائن پر حملہ کر دیا اور کبھی بلاجواز عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی، اور اس صدی کے آغاز میں وہ افغانستان میں بھی آ کر اپنی بہادری کے جوہر دکھانے لگا۔ شام میں بھی اس نے اپنی درندگی کا صحیح ثبوت دیا ہے اب تک۔ الغرض اس کی خون آشام طبیعت اور سفاکیت کی داستان طویل بھی ہے اور روح فرسا بھی! اگر بات کریں آج کی تو دو تین بھیڑیے آج بھی موجود ہیں، جو شرق سے غرب تک کے عالمی امن کو تباہ کیے ہوئے چاروں طرف دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک خود فسادی ہو کر دوسروں کو Do More کا حکم صادر کرتا ہے بصورتِ دیگر امداد روک لینے دھمکیاں دیتا ہے، اپنی شکست کا الزام دوسروں پر تھوپنے میں بڑا ماہر ہے، یہ شاید ماڈرن فرعون ہے جو انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے بیٹھ گیا ہے۔ دوسرا بھی قریب ہی ہے مشرقی جانب، پانی روک کر سرجیکل سٹرائیک دھمکی دیتا رہتا ہے۔ الغرض آج کے دور میں شیطانیت جیت گئی ہے اور انسانیت کو شکستِ فاش ہوئی ہے۔ خیر، ایک بات تو کم از کم اب طے ہے، وہ یہ کہ انسانیت آج قریب المرگ ہے، اپنی آخری سانسیں اور سسکیاں لے رہی ہے، بھیڑیے ہر طرف بلا خوف و خطر گھوم رہے ہیں، انہیں انسانی خون کا چسکا لگ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا - ملک صداقت فرحان

ان کی تعلیم و تربیت کا انتطام تو پہلے پیغمبروں کے سپرد تھا، لیکن اب چونکہ اس سلسلے کا آخری چراغ بھی طلوع ہو کر پسِ پردہ چلا گیا ہے، لہذا اب یہ ذمہ داری انسانیت کے اولین معماروں کے جانشینوں کے پاس ہے، جو ہر دور میں مشکوۃِ نبوت سے فیض یاب ہو کر ظاہر ہوتے رہے ہیں، اور سسکتی انسانیت کے لیے امید کی آخری کرن ثابت ہوئے ہیں ، جنہیں ہم اہلُ اللہ کے نام سے جانتے ہیں، ہمارے خطہ میں تو روشنی کے ان میناروں نے خوب چمک دکھائی ہے، مثلاً سندھ تو خاص طور اولیاء کی سرزمین کہلایا ہے۔ سرزمینِ سندھ میں ظاہر ہونے والے چند عظیم ناموں مثلاً شاہ لطیف بھٹائی، سخی لال شہباز قلندر، حضرت شاہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی علیھم الرحمۃ کے علاوہ ایک بڑا نام نقشبندیہ کے سالار پیر عبدالغفار رحمۃ اللہ علیہ (1880-1964) کا بھی ۔ آپ نے اپنے دور میں لوگوں میں امن ، محبت اور آپس میں بھائی چارے کی تعلیم کو عام کیا، ان میں انسانیت کو پروان چڑھایا، اللہ کے ذکر سے ہزاروں مردہ قلوب کو جلا بخشی۔ یہی ہستیاں ہیں انسانیت کی معمار ! انسانیت کی بقاء ان کے دامن سے کامل وابستگی میں ہے۔

ٹیگز