خاشقجی کا قتل طے شدہ منصوبہ تھا، مجرمین کو سامنے لایا جائے - صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو منصوبہ بندی کے تحت استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔ صدر ِ ترکی نے سعودی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ " آئیے جمال قاشقجی کے قتل میں ملوث مشکوک افراد کو استنبول میں عدالت کے کٹہرے میں پیش کرتے ہیں۔" صدر اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رہنما جناب ایردوان نے قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس دوران استنبول کے سعودی قونصلیٹ جنرل کے اندر قتل کیے جانے کے حتمی شکل اختیار کرنے کے حوالے سے وسیع پیمانے پر اپنے جائزے پیش کیے۔

ترک صدر نے کہا کہ شواہد سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ جمال خاشقجی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی اپنے کاغذات کی تیاری کے سلسلے میں سعودی قونصل خانے آئے تھے، اور جس دن وہ سعودی قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہوئے اسی روز وہ لندن سے استنبول پہنچے تھے۔ ترک صدر نے واضح کیا کہ اس واقع کی تحقیقات کرنے سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ یہ قتل ایک منصوبہ بندی تھی، جمال خاشقجی کے داخلے سے قبل ، جرنیلوں اور خفیہ سروس کے حکام پر مبنی ایک 15 رکنی گروپ قونصلیٹ جنرل آیا تھا ، جس نے کاروائی مکمل کرتے ہوئے شواہد اور دلائل کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے شروع میں تردید کی جمال خاشقجی کا قتل ہوا ہے لیکن بعد میں سعودی عرب کی ہی جانب سے یہ اعترافی بیان سامنے آیا کہ صحافی کو قونصل خانے میں قتل کردیا گیا۔

صدر ایردوان نے بتایا کہ شواہد سے پتہ چلا ہے کہ خاشقجی کا خوانخوار طریقے سے قتل کیا گیا، اس واقع کی تفصیلات کو خفیہ رکھنا انسانی ضمیر کو زد پہنچائے گا، سعودی انتظامیہ نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلی فون پر بات چیت میں بتایا ہے کہ اس واقع میں ملوث 18 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ صدرِ ترکی نے کہا کہ میں یہاں سے ایک بار پھر شاہ اور اعلی حکام سے اپیل کرتا ہوں، کہ یہ سانحہ استنبول میں ہوا ہے لہذا میں آپ کو ان 18 افراد کا استنبول میں ٹرائل لیے جانے کی پیش کش کرتا ہوں اور اگر یہ ایک سیاسی قتل ہے تو پھر دوسرے ممالک کے اس جرم میں ملوث افراد کی بھی چھان بین ہونی شاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہودی آباد کاری اور ترکی کا بیان

قتل کے حوالے سے بعض سوالات سے تا حال پردہ نہ اٹھنے کا بھی ذکر کرنے والے جناب ایردوان نے کہا کہ"مذکورہ 15 افرادواردات کے روز آخر کیوں استنبول میں جمع ہوئے تھے، یہ لوگ کس کے حکم پر یہاں آئے تھے، قونصل خانے کی عمارت کو فوراً نہیں کیونکر کئی دنوں بعد تحقیقات کے لیے کھولا گیا، جب قتل کا سب کو علم تھا تو اوپر تلے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کیوں جاری کیے گئے، نعش کہاں ہے، اگر اس قتل میں کوئی مقامی شخص بھی ملوث ہے تو اس کی شناخت کیا ہے۔؟" کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ ان سوالات کا جواب حاصل کیے بغیر اس معاملے کو ٹھپ کر دیا جائیگا۔ ہمارے پاس موجود دلائل اور شواہد اس کے ایک با ضابطہ قتل کی واردات ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس اہم معاملے کو چند سیکورٹی اہلکاروں اور خفیہ سروس کے کارکنان پر تھوپنا رائے عامہ کو مطمئن نہیں کرے گا۔ جس کسی نے بھی اس گھناؤنے فعل کے احکامات جاری کیے ہیں اس کو بھی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔