کہیں آپ بھی ’بڑی آپا‘ تو نہیں - نگہت فرمان

زندگی کوئی سیدھی سڑک نہیں ہے جس پر بس چلتے ہی چلے جائیں، بغیر کسی رکاوٹ کے، یہ تو ٹیڑھی میڑھی زگ زیگ شاہ راہ ہے، ایسی شاہ راہ جس سے کئی راستے نکلتے، اور یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اب کون سا راستہ اختیار کریں ۔ایسی ہی ہے زندگی، جسے جینا کہتے ہیں وہ کچھ اور ہے، زندگی نہیں کہ ہر دکھ جس کی راہ میں کانٹوں کی طرح بچھے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اک کومل سی لڑکی تھی، اریبہ، بس ہر لڑکی کی طرح سہانے خوابوں کے گلشن میں بسنے والی، اپنے خوابوں کومجسم دیکھنے کی تمنا لیے ہوئے، جہاں کا ہر دن عید اور ہر رات شب برات ہوتی ہے، لیکن یہ دن اچانک ہی ایسے ختم ہوجاتے ہیں جیسے بے موسم برسات کہ ابھی ایسی برسی کہ لگا تھمے گی ہی نہیں اور پھر اچانک ہی ابر چھٹا اور دھوپ نکل آئی، بس ایسے ہی۔ ماں باپ کا گھر ایسا ہی ہوتا ہے، آزادی سے جینے کے دن، جہاں کوئی خدشہ نہیں ہوتا، اور ڈر، نہیں بالکل بھی نہیں، اپنا جو ہوتا ہے وہ گھر۔ لیکن کیا اپنا ہوتا ہے والدین کا گھر۔۔۔۔۔ ؟ بھرے پُرے گھر میں ملازمین کی فوج تھی، اس کی زبان سے نکلنے کی دیر ہوتی کہ اس کی خواہش پوری ہوجاتی۔ پھر دن بدلے مہینوں میں اور مہینے سال بن کر بھاپ کی طرح اڑ گئے اور باتیں ہونے لگیں کہ اریبہ اپنے گھر کی کب ہوگی۔ اور پھر وہ دن بھی آہی گیا جس کا ہر لڑکی انتظار کرتی ہے، اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار۔

اریبہ کی شادی کی دھوم دھام سے تیاریاں ہونے لگیں، والدین کی خواہش ہوتی ہے ناں کی ان کی بیٹی کو کسی شے کی کمی نہ ہو، ہر والدین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی بیٹی کی زندگی میں راحت کا رس گھول دینے کے لیے وہ اپنا جیون گُھلا دیتے ہیں۔ پھر دوم دھام سے اریبہ کی شادی ہوئی اور وہ پیا گھر سدھار گئی۔ نہ جانے اس نے کسے کیسے سپنے بنے تھے کہ شادی کے بعد وہ اور عمران گھومیں گے، پھرے گے، ہر لمحے کو یادگار بنائیں گے اور بس ہی بہار رہے گی، ہر لمحہ بہار، اور ایسی جسے کسی خزاں کا خوف نہ ہو۔ ابھی اریبہ کو سسرال آئے پانچوں دن ہی تھا کہ اس کی سماعت سے ایسی آواز ٹکرائی جسے وہ پہلے تو اپنا وہم سمجھی تھی، لیکن وہ وہم نہیں تھا، حقیقت تھی، تلخ حقیقت۔ اریبہ بیٹا! ذرا کچن میں برتن رکھے ہیں وہ دھو دو، ماسی نہیں آئے گی اور میری تو ٹانگیں جواب دے گئی ہیں، مجھ بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں کہ کام کروں، زندگی گزر گئی گھر کے کام کرتے۔ اریبہ حیرت سے اپنے مہندی لگے ہاتھ دیکھنے لگی، آج تو پانچواں ہی دن تھا شادی ہوئے۔ اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ناز نخرے لاڈ اٹھوانے کے دنوں میں کام کرنا پڑ جائے گا، مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق وہ ’’جی امی‘‘ کہتے ہوئے بے دلی سے اٹھی اور کچن کی طرف چل پڑی۔ جاتے جاتے ایک نظر اس نے اپنے شوہر پر ضرور ڈالی جو موبائل میں ایسے گُم تھے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

کچن میں داخل ہوکر اس نے سِنک پر برتنوں کے انبار دیکھے، یوں تو گھر میں بس اس کی ساس اور شوہر تھے مگر اس کی بڑی نند جنہیں سب بڑی آپا کہتے تھے ، اور قریب ہی رہائش پذیر تھیں کا اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ یہ گھر اب تک ان کا ریسٹ ہائوس ہے۔ اکثر وہ رات گئے تک اپنی پوری فیملی کے ساتھ براجمان رہیں۔ اریبہ کو یاد آنے لگا، امی کیا ہے مجھ سے نہیں ہوتا کام وام! آپ کو معلوم بھی ہے میری پڑھائی کتنی ٹف ہے پھر آپ چاہتی ہیں میں ماسی بنی رہوں ؟ اے بیٹا اریبہ! میں بس یہ چاہتی ہوں کہ تم جب اپنے گھر جاؤ تو تمہیں سب کام آتے ہوں، اور تمہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اسے اپنی امی کی کہی باتیں یاد آرہی تھیں۔ اس کے سامنے اس کی والدین کے گھر کی پُرآسائش زندگی اک فلم کی طرح چل رہی تھی۔ برتنوں کا ڈھیر دیکھ کر وہ گھبرا رہی تھی اور انہیں دھونے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔ جیسے تیسے کام مکمل ہوا ہی تھا کہ ڈور بیل بجی اور ساتھ ہی بچوں کا شور و غل۔ اس نے سوچا ضرور بڑی آپا ہی آئی ہوں گی، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ وہ کچن صاف کرکے باہر نکلی ہی تھی کہ ان سے سامنا ہوگیا۔ اوہ ہو تو ہماری نئی دلہن یہاں ہیں۔ چلو اچھا ہے تمہارا اپنا گھر ہے، اب زندگی بھر تمہیں یہیں رہنا ہے بھئی۔ اچھا تم کام نمٹاؤ میں امی سے مل لوں۔ یہ کہہ کر وہ امی کے کمرے کی طرف چل دیں۔

دن یوں ہی گزر رہے تھے۔ کام تو اریبہ کو آرام نہیں لینے دیتے تھے۔ وہ اریبہ جس نے اپنے والدین کے گھر ہمیشہ آرام ہی آرام کیا، جہاں نوکروں کی فوج تھی، آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ کاش وہ اتنے کام کرنے کی عادی ہوتی تو مشکل نہیں ہوتی۔ لیکن اسے کاموں سے زیادہ تکلیف اپنی ساس اور نند کے رویے سے تھی۔ نہ جانے کیا بات ہے جب بھی بڑی آپا آتیں تو ساس بھی سرد مہر ہوجاتیں۔ اس نے ہمت کرکے ایک دن اپنے میاں سے یہ کہہ ہی دیا کہ عمران آپ گھر میں جو سلوک میرے ساتھ ہورہا ہے آپ دیکھ رہے ہیں اسے۔ تمہیں تو پہلے ہی دن سے بڑی آپا سے بیر ہے۔ ہو ناں روایتی بھاوج ۔ بے چاری کتنا خیال رکھتی ہیں تمہارا۔ اپنے بچوں کی طرح سمجھتی ہیں اور تم ۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔ یہ کہہ کر عمران غصے سے باہر چلے گئے۔ اریبہ سوچنے لگی کہ ابھی شادی کو چھے ماہ ہی ہوئے ہیں، ہر دوسرے دن فرمائش کبھی سنگاپوری رائس بناؤ تو کبھی لب شیریں۔ آج ان کا کڑھائی کا دل چاہ رہا ہے تو آج قیمہ کھانے کا۔ چلو یہ سب کرلوں لیکن جواب میں محبت و قدر تو ملے، بڑی آپا تو موقعے کی تلاش میں رہتی ہیں کوئی کڑوی کسیلی بات کریں۔ پھر امی۔۔۔۔ امی بھی تو ان کے سامنے بالکل بدل جاتی ہیں، مجھ سے کیوں چاہتے ہیں یہ لوگ کہ میں ہر وقت ان کی خدمت کروں۔ اور میاں صاحب! انھیں یہ بھی احساس نہیں، ہر وقت اس کے لیے غصے میں بھرے بیٹھے رہتے ہیں، مجال ہے کبھی ہنس کے بات ہی کرلیں۔

یہ سوچتے سوچتے اریبہ روتی رہی اور روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ اچانک دروازہ پیٹنے کی آواز سے وہ ہڑبڑا کر جاگ گئی، اس نے دروازہ کھولا تو امی سامنے تھیں۔ یہ کون سا وقت ہے سونے کا؟ گھر میں مہمان بیٹھے ہیں، ان کی تواضع کا بندوبست کرو۔ اریبہ نے ہمت کرکے پوچھا کون مہمان؟ ہیں۔۔۔۔ بھئی تمہارے سامنے ہی تو آئی تھی سمیعہ، وہ کیا مہمان نہیں ہے، گھر کی بیٹی ہے تو کیا، ہے تو پرائے گھر کی۔ اچھا بڑی آپا۔ دل میں تو آیا کہہ دے ہر دوسرے دن تو ہوتی ہیں یہاں۔ لیکن مصلحتاً اس نے اپنے لب سی لیے۔ ابھی سال ہی ہوا تھا کہ اﷲ نے اریبہ کو چاند سی بیٹی دے دی۔ اریبہ کی زندگی جو پھیکی ہوگئی تھی اس میں کچھ بہار آگئی۔ عمران کا رویہ بھی بہت بدل گیا تھا، اب وہ اریبہ کا خیال رکھنے لگا تھا، اریبہ کی ذمے داریاں دگنی ہوگئی تھیں۔ بچی کی مصروفیات کی وجہ سے گھر کے کام متاثر ہو رہے تھے، بچے کی مکمل دیکھ بھال کرنا فل ٹائم ڈیوٹی تھی، اس کا سب کو خیال ہونا چاہیے تھا لیکن بڑی آپا اُف۔۔۔۔ نہ خوش رہتی تھیں نہ خوش رہنے دیتی تھیں۔ اریبہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔ اس دن تو حد ہی ہوگئی جب بڑی آپا نے اریبہ کو ان کا فرمائشی کھانا نہ بنانے پر کھری کھری سنائی۔ اریبہ نے اس دن فیصلہ کرلیا اور اپنے میکے چلی گئی۔

بس اب بہت ہوگئی امی! میں تھک گئی ہوں۔ اس نے روتے ہوئے اپنی امی سے کہا تو ٹھیک ہے بیٹا! میں نے بھی تمہیں ماسی بننے کے لیے نہیں بھیجا تھا، امی جو پہلے ہی اریبہ کی حالت دیکھ کر پریشان تھیں، لیکن امی میں علیحدگی بھی نہیں چاہتی۔ تو بیٹا خود بتاؤ کیا کروں۔ ایک سال میں کئی مرتبہ عمران اور تمہاری ساس سے بات کرچکی ہوں اور کیا کروں؟ تمہاری نند تو مجھ سے بد دلی سے بات کرچکی ہے تو تمہارا کیا حال کرتی ہوگی، میں اندازہ کرسکتی ہوں۔ دنیا دیکھی ہے میں نے بھی۔ امی نے افسردگی سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ لیکن اریبہ بیٹا یہ تمہاری بڑی آپا کو کیا مسئلہ ہے، وہ کیوں ایسی ہیں اور بھی تو نندیں ہیں وہ تو اپنے دن پر آتی ہیں، یہ کیوں ہر وقت گھسی رہتی ہیں۔ اتنے میں اریبہ کی چھوٹی بہن جو دونوں کی باتیں سن رہی تھی غصے سے بولی۔ باجی آپ ہمارے گھر کا ماحول خراب نہ کریں، اچھے بھلے ہوتے ہیں ہم، آپ آکر کوئی نہ کوئی ایسی بات کردیتی ہیں کہ موڈ خراب ہوجاتے ہیں سب کے، اور اب تو سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اریبہ کی امی نے اپنی چھوٹی بیٹی کو گھورا تو وہ پیر پٹختے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ امی نے اریبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو پھر سوچ لو بیٹا! اریبہ جو میکے آکر بیٹھ تو گئی تھی، لیکن دل اپنے میاں اور گھر میں لگا ہوا تھا۔

اس پر عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے، اریبہ دن بہ دن مرجھانے لگی۔ اس نے علیحدگی کا بھی سوچا لیکن پھر اس کے سامنے ایک اور سوال سر اٹھائے کھڑا تھا کہ اس سے تو دو خاندان متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی تھی کہ آخر کیا کرے۔ اریبہ بے چاری جتنا سوچتی اتنا ہی الجھے جا رہی تھی۔ وہ سوچتی رہی کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ دونوں کے بڑے ان کی موجودگی میں ان کے مسائل پر بات کریں اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کریں۔ آخر اریبہ نے اپنا گھر بچانے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے سسرال چلی گئی۔ اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنا گھر برباد نہیں ہونے دے گی۔ ایک دن بڑی آپا حسب معمول اریبہ پر حملہ آور ہوئیں لیکن اب کے عمران نے اریبہ کے حق میں بول کر اسے حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اریبہ ششدر اور حیران تھی لیکن خوش بھی کہ میاں بیوی جب تک ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رہیں گے، کوئی بڑی آپا انھیں علیحدہ نہیں کرسکتی۔ خاندان تو رشتوں کی پاس داری سے بنتے ہیں، ورنہ تو منتشر ہوجاتے اور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ آپ بھی سوچیں کہیں آپ بھی تو ’’بڑی آپا‘‘ نہیں ۔۔۔۔ ؟

ٹیگز