انسان کا خدا اور انسان سے تعلق - خلیق کوہستانی

اللہ کی تلاش کرنے والے، انسانوں کی راہوں سے انجان گزرجاتے ہیں. انسان ہی متلاشی ہے اور انسان ہی خدا کا مظہر صفات بھی. اللہ نے انسان کو پیدا ہی اپنے اظہار کےلیے کیا ہے. اس کو ساری صلاحیتیں دیں تاکہ کائنات کو مسخر کرسکے، خدا کو پہچان سکے اور دوسروں کو سکھا سکے کہ کوئی ہے جس نے یہ سب پیدا کیا ہے. کوئی ہے جو "کن اور فیکون" کا چکر چلاتا ہے. اسی چکر کی وجہ سے ایک بڑا ہجوم وجود میں آیا ہے. خدا بھی کمال کا ہے اپنے تعارف کے لیے حضرت انسان کو وجود عمل میں لایا، انسان سے پہلے نہ خدا کا تعارف تھا نہ جنت دوزخ اور نہ آخرت کسی کے علم میں تھی. سب کے سب صرف دیے ہوئے ہوم ورک پر حمد و ثناء اور شکر بجا لانے میں مصروف عمل تھے اور حمد ثناء بھی ایسی کے خدا کا حق ہوجائے. جو لوگ انسان کو چھوڑ کر انسان سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش کرتے ہیں، وہ صرف تلاش ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور نہ منزل پر پہنچتے ہیں اور نہ راستے میں نظر آتے ہیں. مقدر سے اور عمل سے بھٹک جاتے ہیں. اسی لیے مقدس کتاب میں خدا کہتا ہے کہ میں ہر انسان کے اندر بستا ہوں. اللہ نے انسان کو اعلی مقام دیا، اپنی سب سے افضل مخلوق کو تمام مخلوق سے افضل ترین مخلوق کو سجدہ کرنے کو کہا، کچھ نے انسان کو سجدہ کیا اور کچھ نے انکار کیا.

خدا کو برائی بھی تو وجود میں لانی تھی، انسان کو بہت بڑا سبق بھی تو دینا تھا کہ چلنا کس کے ساتھ ہے، کرنا کس کو خوش ہے. انسان کو اللہ کے راستے سے الگ نہیں کیا جا سکتا. کیونکہ پیدا کرنے والے اور بننے والے میں بڑا گہرا رابطہ ہوتا ہے. یہ دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں. اللہ کی خوشی انسانوں کی خدمت میں ہے، انسان نے جس جس مقام پر انسان کو چھوڑ کر خدا سے محبت کا دعوی کیا ہے، وہ اکثر غلط نکلا، سراسر غلط نکلا، پیغمبروں سے لیکر عام آدمی تک ہر کسی کو خدا نے راہ راست یا کسی واسطے سے سکھایا کہ انسان اور وہ بھی عام انسان بہت معنی رکھتا ہے. انسان کو جس جس نے چھوڑا، اس کی رسوائی مقدر بنی اور آج بھی دنیا کے حاضری والے رجسٹر سے اپنے شناخت اور نام کٹوا چکے ہیں. اللہ کے بارے میں جو کچھ بھی اس دنیا میں موجود ہے، جتنابھی بیان اور علم موجود ہے سب انسان کے ذریعے سے ہے، شاید انسان نہ ہوتا تو خدا کا بیان ادھورا ہوتا، خدا کو پھر کسی اور چیز کو پیدا کرنا پڑتا، کیا پتا وہ انسان جیسے ہوتے یا ان سے بھی بہتر یا بدتر. خدا کا قانون تو بہت سادہ اور سادگی پر مبنی ہے کہ جو شخص اللہ کے ہاں جتنا محبوب ہوگا اس کے لیے یہ دنیا اور انسان اتنے ہی محبوب ہوں گے. پتہ نہیں کیسا ہے یہ انسان، لیکن ہے بہت اونچی چیز.

یہ بھی پڑھیں:   محبت کے درد انڈیلتا اک نامور لکھاری - ماریہ خٹک

خدا کے یہاں انسانوں کے تذکرے ملتے ہیں، یہ جب جب خدا کو یاد کرتا ہے، خدا اپنی مجلس میں بھی انسان کو یاد کرتا ہے. انسان کا مقام کا تعین اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور باقی سب کو سب کچھ بنایا. یہ کیسا رشتہ ہے انسانوں سے کہ کسی انسان کا دل توڑا جائے تو خدا ناراض ہوتا ہے، آخر کیوں نہ ہو وہ ناراض. خدا کی تخلیق ہے انسان، تراشا ہے، چہرہ بنایا ہے، سنوارا ہے. خدا کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خدا انسان کو اتنا پسند کرتا ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ بھلائی کرے تو خوش اللہ ہوتا ہے. یہ کیسا کنکشن ہے، کیسا رابطہ ہے. یہ کیسا رشتہ ہے کہ اپنے سب سے پسندیدہ لوگوں کو جو پیغمبر کہلاتے ہیں، ان کو بھی انسانوں کی لسٹ میں ڈال دیا. ہمارے ثواب، ہمارے گناہ سب کے سب انسان سے وابستہ ہیں، انسانوں سے ہی خدا نے رونقیں رکھی ہیں. انسان سے بار بار کہا ہے کہ اے انسان صرف عبادت ہی زندگی نہیں، زندگی کوشش ہے، جہاد ہے، محبت ہے، فتوحات ہیں، تنہائی ہے، مجلس ہے، تنہائی کا سجدہ جیسی چیزیں ہی رونقیں ہیں.

انسانوں سے جڑ جاؤ، انسان کے قریب آؤ، انسان کو انسان کی ضرورت ہے چلنے کے لیے، دوڑنے کےلیے، آگے بڑھنے کے لیے. اللہ نے انسان کو بیان دیا، اگر سننے والا ہجوم نہ دیتا تو کیا ہوتا، میرا بیان کہاں جاتا، میرے اردگرد بولنے والوں کا ہجوم نہ ہو تو میرے کان بیکار ہو جائیں، خدا تو ہر آغاز سے پہلے اور انجام کے بعد تک موجود ہے، وہ اتنا قریب ہے کہ نظر نہیں آتا لیکن جس طرح ہم اپنی بینائی نہیں دیکھ سکتے، اپنی روح کو نہیں دیکھ سکتے، اپنی ذات کا دیدار نہیں کرسکتے، اسی طرح اللہ کے جلوے بس اللہ کے جلوے ہیں، یہ نہ سمجھ آتے ہیں، اللہ کے جلوے ہمارے پاس ہیں، ساتھ ہیں، لیکن کیا ہیں، کہاں ہیں، ان کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے. انسانوں سے محبت کرو، یہی اللہ سے محبت کا ایک پہلو ہے. اللہ کی منزل کے سفر پر انسانوں کے ڈیرے ہیں، اللہ کی طرف جانے والا راستہ صرف اور صرف انسانوں کی طرف سے ہوتا ہوا گزرتا ہے. خدا تو مقدس کتاب میں کہتا ہے "تم زمیں والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا". صرف کرنا اتنا ہے کہ انسانوں کو تنگ نہ کیا جائے، محبتیں بانٹی جائیں اور امن قائم کیاجائے. میرے رب کی عدالت، اس کا انصاف اور اس کے فیصلے بلکل صداقت، دیانت اور انصاف پر مبنی ہوں گے. انسان سے کیا ہوا ہر فعل، ہر عمل، ہر کام اس دن سامنے آئے گا. انسان کو انسان سے قریب کرو، لوگوں کو جوڑو، محبت کی بات کرو، دل آزاری سے بچو.