میڈیا کی مشکلات میں مسلسل اضافہ - امجد طفیل بھٹی

آج کل پاکستان میں میڈیا کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں نہیں آرہیں ، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا پھر الیکٹرانک میڈیا دونوں کے حالات کچھ مختلف نہیں ہیں ، کیونکہ بعد میڈیا گروپ اخبارات کے ساتھ ساتھ نیوز چینلز بھی چلا رہے ہیں ۔اس لیے جب ایک اخبار یا چینل معاشی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو اس کا اثر دونوں طرف کے ملازمین پر پڑتا ہے ۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے سرکاری اشتہارات میں کمی کی وجہ سے بہت سارے چینل اور اخبارات کی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ آمدن میں کمی کی وجہ سے بہت سارے میڈیا گروپ مختلف اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں جیسا کہ سب سے بڑا اقدام تو ملازمین کی تعداد میں کمی کا ہے ، دوسرا یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بعض بڑے میڈیا گروپس نے اپنے Highly Paid اینکرز کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی کا بھی سوچنا شروع کردیا ہے جو کہ ظاہر ہے میڈیا پہ کام کرنے والوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے ۔ جب سے پاکستان میں پرائیویٹ میڈیا چینلز کی آمد ہوئی ہے تو سینکڑوں کے حساب سے پرائیویٹ چینلز نے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا ہے جن سے لاکھوں لوگوں کا براہ راست روزگار وابستہ ہے ۔ جسکی وجہ سے لاکھوں خاندانوں کے گھروں چولہا جلتا ہے ۔ آئے روز گورنمنٹ اور ریگولیٹری اتھارٹی کی پابندیوں کا شکار بعض نیوز چینلز اور اخبارات مختلف پروگرامز بند ہونے کی وجہ سے تقریباً بند ہونے کو ہیں ۔ مثال کے طور پر اشتہارات نہ ملنے کی وجہ سے، کاغذ اور پرنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے اخبارات کو نہ صرف قیمتیں بڑھانا پڑیں بلکہ صفحات کی تعداد میں بھی کمی کرنا پڑی۔ ایک تو قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے اخبارات کی فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے دوسرا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے آنے کی وجہ سے ویسے ہی اخبارات اور کتابیں پڑھنے کا رجحان کم ہوا ہے یوں پرنٹ میڈیا انڈسٹری کا کاروبار آئے روز سُکڑتا جارہا ہے اور اس سے منسلک لوگ اپنا روزگار بدلنے پہ مجبور ہوگئے ہیں۔

ایک وقت تھا جب اخبار کی اہمیت تھی اور اخبار سے منسلک لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ، اخبارات کے ملازمین کو نوکریاں کھونے کا خوف نہ تھا ، میڈیکل اور پینشن جیسی سہولیات میسر تھیں جبکہ آجکل کسی بھی اخبار سے منسلک لوگ آسودہ حال نہیں ہیں ، نہ تو نوکری کا بھروسہ ہے اور نہ ہی وہ پہلے جیسی سہولیات میسر ہیں ۔ اس سارے معاملے کی کئی وجوہات ہیں مثلاً مہنگائی اور آئے روز حکومتی پالیسیاں سرفہرست ہیں ۔ ہاں اس سارے بحران میں بڑے میڈیا گروپس کے مالکان کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بہت سارے میڈیا گروپس جنہوں نے مختلف سیاسی وابستگیوں کے پیش نظر ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو پس پشت ڈالا آج انہیں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔ کیونکہ جب کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے تو وہ بہت سارے میڈیا گروپس کو اپنے حق میں استعمال کرتی ہے اور جب وہی جماعت حکومت سے باہر ہوتی ہے تو وہ پہلے کی طرح اُن چینلز کو نہ تو استعمال کر سکتی ہے اور نہ ہی مراعات دے سکتی ہے اور یوں مذکورہ میڈیا گروپ براہ راست متاثر ہوتا ہے ۔نتیجتاً سارے کا سارا نزلہ ملازمین پر گرتا ہے کیونکہ کوئی بھی مالک اپنی آمدن سے زائد اخراجات برداشت نہیں کر سکتا ۔

ایک جانب پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( PEMRA) کی طرف سے سخت مانیٹرنگ اور دوسری جانب بعض سرکاری اداروں کی طرف سے مختلف قسم کی گائیڈ لائینز کی وجہ سے ہماری میڈیا انڈسٹری کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو کہ ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا انڈسٹری کو حاصل ہے لیکن اس میں بھی ذمہ داری دونوں جانب تقسیم ہوتی ہے یعنی میڈیا اور اس سے منسلک لوگوں کو غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کر کے ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت، سرکاری اداروں ، عدلیہ اور افواج کو بھی جائز تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا ۔ جیسا کہ بے جا تنقید اور منفی پروپیگنڈا نقصان کا باعث ہے ویسے ہی جائز تنقید ، مسائل کی نشاندہی اور اچھی کارکردگی پر پزیرائی کی وجہ سے حکومت کو بہت سارے مسائل حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ریاست کا پانچواں ستون کہلانے والا میڈیا جب معاشی مشکلات کا شکار ہوگا تو پھر دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج کیسے جا سکتا ہے ؟ بلکہ آجکل جن ممالک میں میڈیا کو آزادی حاصل نہ ہو اور صحافت بے جا پابندیوں کی زد میں ہو تو وہاں کی جمہوریت کو بھی آمریت کا نام دیا جاتا ہے ۔ ایک تو پاکستان میں صحافیوں کی جان کو ویسے ہی کئی خطرات کا سامنا رہتا ہے اوپر سے اگر صحافت میں مالی مشکلات بھی آ گئیں تو پھر نامور میڈیا گروپس، صحافیوں اور میڈیا پرسنز کو شاید اس شعبے کو ہی خیر باد کہنا پڑ جائے۔ ویسے تو دورِ حاضر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت اخبارات اور ٹی وی چینلز سے کہیں زیادہ ہے مگر ہمارے ملک میں ابھی تک سوشل میڈیا کا تعمیری استعمال آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ منفی استعمال اور سوشل میڈیا سے لاعلمی ایسی چیزیں ہیں کہ ابھی تک لوگوں کو سوشل میڈیا کی افادیت کا ادراک بھی نہ ہو سکا۔ اور ویسے بھی تقریباً زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا کا استعمال ابھی تک تو صرف کسی بھی خبر کی مشہوری یا بدنامی کے لیے کام کرتے ہیں شاید اسی وجہ سے فیس بک ، ٹویٹر اور واٹس ایپ کی خبروں کو غیر مُستند اور غیر تحقیق شدہ قرار دیا جاتا ہے اور کسی بھی خبر کو جب تک ٹی وی چینل باقائدہ نشر نہ کر دیں یا اخبارات میں شائع نہ ہوجائے تو اس اس وقت تک وہ خبر بے وُقعت ہی رہتی ہے اس لیے سوشل میڈیا کبھی بھی الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.