اسلامی نظریاتی کونسل کی پسپائی پر مبنی حکمت عملی - محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی نظریاتی کونسل نکاح نامے کا ایسا ڈرافٹ تیار کرنے جا رہی ہے جس کے بعد عورتیں بھی مردوں کی طرح طلاق دے سکیں گی۔ نظریاتی کونسل والوں کا مقصد "طلاق کو عام و آسان بنانا" معلوم ہوتا ہے۔ نظریاتی کونسل میں بیٹھے ہوئے کسی بھی شخص نے اس سوال پر غور کیوں نہیں کیا کہ آخر طلاق و خلع کی بڑھتی ہوئی شرح کے پس پشت وجوہات کیا ہیں؟ کہیں اس کی وجہ: خواتین کی لیبر فورس پارٹی سیپیشن میں اضافہ تو نہیں؟ بڑھتی ہوئی شرح خواندگی تو نہیں؟ اگر ہاں، تو تعلیم کے نام پر بچوں اور بچیوں کو ایسا کیا سکھایا جا رہا ہے یا ایسا کیا نہیں سکھایا جا رہا جو اس خرابی کا باعث بن رہا ہے؟ ان اہم سوالوں کو پس پشت ڈال کر اسلامی نظریاتی کونسل والوں نے یہ بندوبست ضروری سمجھا کہ عورتیں طلاق دے سکیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل اور ان کے ناقدین کے ایک گروہ دونوں کا اصل مسئلہ وہ غلط فکری پیراڈئیم ہے جس کا اظہار آئین پاکستان میں اس طرح ہوا کہ "کوئی قانون شریعت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا" جبکہ اصل بات یوں نہیں بلکہ یوں ہے کہ "ہر قانون شریعت کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے گا"۔ یعنی اسلام اپنے سے باہر و ماوراء کسی دوسرے پیراڈئیم کی پالیسی سازی کی صرف تحدید کرنے والا نہیں ہے، بلکہ اسلام قانون و پالیسی سازی کا ماخذ ہے۔ چنانچہ اسلامی پالیسی میں صرف یہ سوال اہم نہیں ہے کہ "شرع میں کیا جائز نہیں ہے" بلکہ اتنا ہی اہم سوال یہ بھی ہے کہ "شرع کو مطلوب کیا ہے؟"۔ اسلامی نظریاتی کونسل والوں کے ایسے "اجتہادات" اس سوال کو بائے پاس کرتے ہیں۔ "کیا حرام ہے" صرف رد عمل پر مبنی مداخلت کا نام ہے جبکہ "کیا مطلوب ہے" ایکٹو حکمت عملی کا نام ہے۔ ہمیشہ ری ایکٹ کرنا مسلسل پسپائی پر مبنی حکمت عملی ہے کیونکہ یہاں مطلوب کے حصول کے لیے کچھ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ایک وضاحتی خط جاری کیا گیا ہے۔ اس وضاحت کا حاصل یہ ہے کہ اخبار کی شہ سرخیوں میں چھپنے والا "عورتیں بھی مردوں کی طرح طلاق دے سکتی ہیں" کا عنوان غلط ہے۔ ایک ٹی وی کلپ میں جناب قبلہ ایاز صاحب نے جو انٹرویو دیا، اس سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ کونسل تفویض طلاق کو مرد پر اس کی مرضی سے "بائنڈنگ" بنانا چاہتی ہے، یعنی "رضامندی کے ساتھ زبردستی" کا کوئی فارمولا ایجاد کیا جارہا ہے۔ موجودہ نکاح نامے میں تفویض طلاق کے حق کا آپشن پہلے ہی موجود ہے، لیکن نکاح خواں عام طور پر اس پر خط تنسیخ پھیر دیتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے یہاں اس معاملے کو معیوب سمجھا جاتا ہے کہ شادی کے موقع پر "طلاق کے آپشنز" کے سوال و جواب شروع کردیے جائیں۔ کونسل والوں کا خیال یہ محسوس ہوتا ہے کہ تفویض طلاق کو "رضامندی سے زبردستی" بنا دینا چونکہ جائز ہے لہذا نکاح نامے میں کچھ ایسی تبدیلی کر دی جائے جسے نکاح خوان کاٹ ہی نہ سکے اور خلع کا کیس کسی اتھارٹی کے سامنے جانے کے بجائے گھر میں ہی نبٹ جائے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے ہم نے "طلاق کو آسان کرنا" کہا تھا، معلوم نہیں کہ یہ وضاحتی خط اور قبلہ ایاز صاحب کا انٹرویو اس تاثر کو کیسے زائل کرتا ہے؟

ہمارے خیال میں کسی بھی قسم کی تجاویز پیش کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کو ایک تحقیقی سٹڈی کروانے کی ضرورت ہے جو ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے: وقت گزرنے کے ساتھ طلاق و خلع کی شرح کا رجحان بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے؟ طلاق کی یہ شرح معاشرے کے کس طبقے میں زیادہ ہے؟ خواتین کی جاب مارکیٹ میں شرکت کا طلاق و خلع کے رجحان سے کیسا تعلق ہے؟ صرف خود کی مرضی سے شادی (کورٹ میرج) کرنے والوں میں طلاق و خلع کا رجحان کیسا ہے؟ بیویوں کو جان بوجھ کر ستانے کی خاطر خلع نہ دینے والے مردوں کے رجحانات و خصوصیات کیا ہیں؟ مطلقہ خواتین کے شرعی عاقلہ اپنی ذمہ داریاں کیوں ادا نہیں کرتے؟

ان سوالات کے جوابات کو مد نظر رکھنے کے بعد کچھ عملی تجاویز پیش کی جانی چاہییں۔ فی الحال اسلامی نظریاتی کونسل کی وضاحت کا حاصل اتنا ہے کہ "عورتیں بھی مردوں کی طرح طلاق دے سکتی ہیں" کا عنوان غلط ہے، لیکن ہماری گفتگو و تنقید کا مدعا یہ مخصوص عنوان تھا ہی نہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ تفویض طلاق کو "رضامندی سے زبردستی" بنادینا چونکہ شرعا جائز ہے لہذا نکاح نامے میں کچھ ایسی تبدیلی کردی جائے جسے نکاح خوان کاٹ ہی نہ سکے اور خلع کا کیس عدالت نہ جائے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com