جب میری روح چیخ اٹھی - عظیم الرحمن عثمانی

انگلینڈ آنے سے قبل پاکستان میں میری آخری نوکری معروف ٹی وی چینل ''اے آر وائی'' کے ساتھ تھی۔ جہاں میں ایک علمی و سیاسی پروگرام "آپ، ہم اور آپ" میں بطور فری لانسر 'پروگرام کوارڈینیٹر' اور 'اسسٹنٹ ڈائریکٹر' کام کیا کرتا تھا۔ یہ آج سے کوئی سولہ برس قبل پرانی بات ہے اور میری تنخواہ کم و بیش پینتیس ہزار روپے بنتی تھی۔

ایک یونیورسٹی کے طالب علم کے لیے یہ ایک اچھی مناسب تنخواہ تھی۔ پروگرام پلاننگ سے لے کر مہمانوں ناظرین کو مدعو کرنے تک، سب میری ذمہ داریوں میں شامل تھے۔ کام میری پسند کا تھا لہٰذا میں یہ نوکری بخوبی نبھا رہا تھا۔ بہت جلد ہی میرے قدم جمنے لگے اور دوسرے ڈائریکٹرز نے مجھ سے رابطہ کرنا شروع کردیا۔ میں اپنی تعلیم کی وجہ سے ان آفرز کو منع کر رہا تھا۔ انھی دنوں ایک ڈائریکٹرنے مجھ سے رابطہ کیا جو پرائم ٹی وی پر ایک مقبول گانوں کا پروگرام پیش کرکے پہچان بنا چکا تھا۔ یہ ڈائریکٹر جیسے میرے پیچھے ہی لگ گیا اور ہر طرح سے مجھے اپنے ساتھ کام کرنے پر ابھارنے لگا۔ اس نے میرے پروگرام کے ڈائریکٹر کے ذریعے بھی مجھے اپروچ کیا مگر میں اس کے پروگرام کی نوعیت کے سبب کام کے لیے بالکل راضی نہ تھا۔ اس کا پروگرام دراصل نوجوانوں کے ایک ایسے مقابلے پر مشتمل تھا جس میں تین مراحل ہونے تھے۔ پہلا گانے کا مقابلہ، پھر اداکاری کا اور پھر ناچنے کا۔ ظاہر ہے یہ میرے اس اصول کے خلاف تھا کہ میڈیا پر صرف علمی پروگرام ہی کروں گا، مگر یہ ڈائریکٹر جما رہا اور میں بھی آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔

پھر اس نے مجھے آفر کی کہ جتنا میں کما رہا ہوں اتنا ہی مزید وہ مجھے دے گا، گویا میری تنخواہ ایک جھٹکے میں دگنی، نفس و شیطان نے مجھ پر قابو پایا اور میں نے حامی بھر لی۔ پروگرام کے لیے آڈیشن لینا میری ذمہ داری تھی۔ شہر کراچی کے مختلف کالج و یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا گیا اور میں ٹرائل لینے ان کے پاس جانے لگا۔ نمائندہ تعلیمی اداروں کے بند کمروں میں ٹرائل ہونے لگا۔ لڑکے لڑکیاں گانے گاتے، اداکاری کرتے اور ڈانس کرتے۔ میں اور ڈائریکٹر مل کر یہ فیصلہ لیتے کہ کس کس کو پروگرام ریکارڈنگ کے لیے فائنل کرنا ہے؟ یہ سب کرتے ضمیر ملامت کرتا تو تگڑی تنخواہ کا خیال اس کی آواز دبا دیتا۔ اسی دوران ڈائریکٹر صاحب کو ایک اور اچھوتا خیال سوجھا کہ کیوں نہ کراچی کے نمائندہ اسکولوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے؟ جیسے بیکن ہاؤس، سٹی اسکول یا کراچی گرامر وغیرہ۔ میں نے اس کی بھی حامی بھری مگر ساتھ میں یہ شرط لگائی کہ ان اسکولوں کے ناموں میں میرے اپنے اسکول کا نام بھی شامل کیا جائے۔ ڈائریکٹر کو میرے چھوٹے سے اسکول کو شامل کرنا قبول نہ تھا مگر مجھے منع کرنا بھی ممکن نہ تھا، لہٰذا اجازت دے دی گئی۔ میں نے سب سے پہلے اپنے ہی اسکول میں ٹرائل لینے کی ٹھانی۔

میرے اسکول والوں کا خوشی کے مارے کوئی ٹھکانا نہ تھا کہ ان کا اسکول اب کراچی کے نمائندہ اسکولوں کے ساتھ ٹی وی پر آئے ۔ جس دن میں ٹرائل کے لیے پہنچا تو وہ ٹیچرز جن سے میرا رشتہ احترام و ادب کا تھا، وہ میرے اردگرد گھوم رہے تھے، میری تعریف کر رہے تھے کہ اسٹوڈنٹ ہو تو ایسا جو مقام پر پہنچ کر بھی اپنا اسکول نہ بھولے۔ ٹرائل ناچنے سے شروع ہوا اور میرے سامنے وہ آٹھویں، نویں، دسویں جماعت کی معصوم چہرہ بچیاں ناچنے لگیں۔ ٹیچر میڈم انہیں اسٹیپ سمجھا رہی تھیں تاکہ میں انہیں پروگرام کے لیے منتخب کرسکوں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بالآخر میرے ضمیر کی بس ہوگئی اور روح چیخ اٹھی۔ اپنے آپ سے گھن محسوس ہوئی کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں؟ ایسا لگتا تھا جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا ہو۔ میں بیچ سے ہی بہانہ بنا کر اٹھ آیا اور ڈائریکٹر کو دوٹوک الفاظ میں نہ صرف یہ بتایا کہ میں یہ کام اب نہیں کروں گا بلکہ ان آڈیشنز کا نتیجہ دینے سے بھی معذرت کرلی جو میں نے لیے تھے۔ روکنے کی بہت کوشش ہوئی مگر اب میں نہ رکا۔ میں رب سے اور اپنے آپ سے شرمندہ تھا۔ وعدہ کیا کہ اب ایسے کسی بھی کام سے اجتناب کروں گا۔

دعا کر رہا تھا کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ یہ پرگرام نہ چلے اور ہوا بھی یہی، کچھ دوسری ٹیکنکل وجوہات کے سبب یہ پروگرام آن ائیر نہیں ہوسکا۔ اس واقعے سے قاری کیا پیغام اخذ کرتا ہے؟ یہ میں اسی کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ البتہ اس واقعہ سے سے یہ ضرور ظاہر ہے کہ مال سمیت دیگر چمک دمک انسان کو کسی بھی وقت اس کے راستے سے ہٹا سکتی ہے۔ اپنے اس واقعے پر مجھے ندامت ہے فخر نہیں۔ پھر بھی اسے یہاں بیان کر دیا کہ شاید اس سے کوئی سبق لے اور مجھ جیسے کسی بھی لکھاری و خطیب کو پارسا سمجھنے کی غلط فہمی نہ پالے۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.