جامعہ اسلامیہ عالمیہ اور بیس اکتوبر - النجم الثاقب

جامعہ اسلامیہ عالمیہ (بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) میں منگل کے دن عموماً طلبہ وطالبات اپنے اپنے کیمپسسز میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں کیونکہ یہ دن ہفتے کے ابتدائی دنوں میں شمار ہوتا ہے، جس میں تعلیمی ادارے اپنی سرگرمیاں پورے زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس دن پاکستان کی پرائی دہشت گردی کی جنگ میں شمولیت کو تقریباً آٹھ سال اور سوا مہینہ گذر چکا تھا، اس دوران کسی بھی تعلیمی ادارے پہ کوئی خود کُش حملہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس دن پہلا خودکُش حملہ کسی بڑے تعلیمی ادارے پہ ہوا تھا۔ اس کے بعد تو تعلیمی اداروں پہ حملوں کی ایک مکمل تاریخ ہی وجود میں آ گئی۔ کیامسجد و مدرسے، کیا اسکول، کیا کالجز، کیا جامعات، کوئی بھی تو امن کی جگہ نہ بچی۔

2009ء کےماہِ اکتوبرکی بیس تاریخ اور دن تھا منگل کا۔ یہ دن جامعہ اسلامیہ کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ جب اس دن دو پہر کے دو بجے کے قریب قریب جامعہ اسلامیہ عالمیہ کی فضا خود کش حملوں کے دھماکوں سے گونج اٹھی تھی۔ ایک افراتفری تھی، گویا قیامت کا سماں تھا۔ طلبہ وطالبات کلاسسز سے بھاگ رہے تھے۔ جو عمارتوں میں پھنس گئے تھے، وہ دھویں سے اپنے سانس بحال کرنے اور جان بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ پہلے خود کُش حملے کا نشانہ لڑکیوں کے کیمپس کےقریب واقع ایک کنٹین "انٹرنیشنل کیفے" کو بنایاگیا جہاں طالبات اپنی کلاسسز ختم کرنے کے بعد دوپہر کے کھانے میں مصروف تھیں، جب ان پہ ایک قیامتِ صغریٰ نازل ہوگئی۔ پہلے حملے میں بیس کے قریب طالبات شدید زخمی ہوئی تھیں، جبکہ آٹھ کے قریب شہید بھی ہوئیں۔ اس حملے کو روکنے، طالبات کی جان بچانے میں جامعہ کا ایک ملازم خاکروب پرویز مسیح بھی اپنی جان اس جامعہ پہ نچھاور کرگیا۔

ابھی طلبہ و طالبات اس حملے سے ہی سنبھل نہیں پائے تھے کہ چند منٹ کے وقفے کے بعد لڑکوں کے کیمپیس میں امام ابوحنیفہ بلاک میں واقع شعبہ شریعہ و قانون میں دوسرا خود کش حملہ ہوا۔ اس حملے میں ایک طالب علم حافظ نفیس انجم موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ جبکہ حافظ خلیل الرحمٰن اور وقار خالد شدید زخمی حالت میں بلاک سے باہر خود لڑکھتے، گھسٹتے ہوئے اس حالت میں آئے کہ کپڑوں کے چیھتڑے اڑے ہوئے، جسم کٹا پھٹا اور جلا ہوا۔ دیکھنے والوں نے کہا شاید یہی خود کش حملہ کرنے والے ہیں۔ کچھ نے آوازیں لگائی، یہ حملہ آور ہیں اور کچھ نے کہا نہیں، یہ طالبِ علم ہیں۔ انھی میں شاید وقار خالد نے کہا کہ ہم طالب علم ہیں، ہماری مدد کرو۔ طلاب بھاگتے ہوئے آئے اور ان کو پکڑا، ان میں یہ دونوں کلاس فیلو حافظ خلیل الرحمن اور وقار خالد بہت ہی بری طرح جھلس چکے تھے۔ حافظ خلیل کو لڑکوں نے پکڑ کے بلاک کے سامنے بنی ہوئی ایک بارہ دری جیسے کھلے صحن پہ پکڑ کے لے آئے، کچھ طلبہ نے ان کو پانی پلایا، مگر وہ کچھ ہی دیر میں وہ اپنے دوستوں، گھر والوں کو، اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وقار خالد کی حالت بھی نہایت ہی ناگفتہ بہ تھی۔ تقریباً اسی فیصد ان کا جسم بارود اور آگ سے جُھلس چکا تھا۔ لیکن ابھی ان کی زندگی باقی تھی۔ ان کو دوسرے زخمیوں کے ساتھ پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پہ کئی مہینوں کی دیکھ بھال کے بعد ٹھیک ہو کے اپنے گھر واپس آئے اور پھر انہوں نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ جامعہ ھذا سے جاری رکھیں اور اپنی ڈگری مکمل کی۔ حافظ نفیس انجم، حافظ خلیل الرحمٰن، اور وقار خالد تینوں شعبہ عربی میں بی اے آنرز میں ہم جماعت تھے۔ اور ہاسٹل سے کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی کلاس لینے جا رہے تھے، جب کلاس کے قریب پہنچے تو اس حملے کا شکار ہوگئے۔ حافظ نفیس انجم کا تعلق ضلع خانیوال سے تھا اور حافظ خلیل الرحمن اور وقار خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بستی بسنا کھیل نہیں ہے - ہارون الرشید

اس حملے میں آٹھ یا نو طالبات آمنہ طاہر و آمنہ بتول، طیبہ حنا (شعبہ انگلش)، اقصیٰ ملک (شعبہ سوفٹ وئیر انجیئرنگ)، حنانواز (شعبہ کمپیوٹر سائنس)، اور سدرہ خالد (شعبہ ریاضی) شہید ہوئی تھیں۔ کچھ موقع پہ اور کچھ شدید زخمی طالبات میں سے بھی بعد میں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں جاں سے گذر گئیں۔ ان میں سے ایک طالبہ طیبہ حنیف (شعبہ انگلش سے تھی)۔ یہ متلاشیانِ علم طلبہ و طالبات اپنے ہم مکتب دوستوں کو پیچھے چھوڑ گئے، بالفاظ ناظم سلطان پوری،
ہمارے حصے کی روشنی تم جگائے رکھنا
کہ تیرگی کے سفر سے لوٹیں گے ہم کسی دن

اس وقعے کو آج تقریباً نو سال ہوگئے ہیں۔ اس کے زخم کی تکلیف کچھ زیادہ ہے، ایک تو یہ میری مادرِ علمی کے ہم مکتب تھے، ہاسٹل میں رہتے تھے۔ دوسرا دو شہدا سے کچھ تعلق بھی پرانا اور عزیزانہ تھا، ایک میرے شہرِ فیصل آباد سے تھا اور کویت ہاسٹل میں میرا ہاسٹل فیلو بھی تھا۔ دوسرا اس کا کلاس فیلو حافظ نفیس انجم بھی ایک اچھا دوست، ملنسار، اور خوش اخلاق نوجوان تھا۔ اس حادثے سے ایک ہفتہ پہلے میں نفیس انجم کو ساتھ لے کر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بی ایڈ کے داخلے واسطے گیا تھا اور وہ جوان میرے ساتھ سارے مراحل کو مکمل کروانے میں شامل تھا۔ دوسرا شہید حافظ خلیل الرحمن نہ صرف ایک اچھا، ہوشیار، ملنسار دوست ہی نہیں بلکہ ایک ہم پیالہ و ہم نوالہ رفیق بھی تھا۔ جس سے رفاقت کے ماہ و سال تو بہت کم تھے لیکن جو بھی گذرے بھرپور گذرے تھے۔حافظ خلیل الرحمن نہ صرف طلبہ کے حوالے سرگرم تھا بلکہ کویت ہاسٹل میں آنے سے پہلے ہاسٹل پنجم (فائیو) کی مسجد میں نمازوں کی جماعت بھی کروایا کرتا تھا اور نئے آنے والے طلبہ کی خدمت و معاونت بھی کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآت میں بھی ایک اچھی صلاحیت سے اس کو نوازا تھا۔ کویت ہاسٹل میں منتقل ہونے کے بعد وہ آئی ٹین میں ایک کال سینٹر میں بچوں کو آن لائن قرآن مجید کی تعلیم بھی دیا کرتا تھا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد اس کو ایمز اسکول سسٹم میں عربی و اسلامیات کے شعبے میں نوکری مل گئی۔ تادم ِحادثہ وہ اپنی خدمات اسی ادارے کو پیش کرتے رہے۔ اس جان کن حملے سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے منگل والے دن فیصل مسجد کے خطیب اور دعوۃ اکیڈمی کے سابق اور سیرت اکیڈمی جامعہ اسلامیہ، کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے، ان کے جنازے میں ہم دونوں نے شمولیت کی، بلکہ نیچے سیڑھیوں سے ان کا جنازہ اوپر فیصل مسجد کے جنازہ گاہ تک بھی لے کر آئے تھے۔ میں اس کے ایک دو دن بعد گھر واپس گیا، اندازہ بھی نہیں تھا کہ دوبارہ اپنے اس عزیز دوست سے کبھی ملاقات نہ ہو پائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

اس دوران دھماکوں کے علاوہ اس حادثے کی میڈیا کوریج کے حوالے سے میڈیا کا ایک گھٹیا اور خوفناک کردار سامنے آیا۔ جائے وقوعہ پر میڈیا نے حافظ خلیل الرحمٰن کے پھٹے اور تباہ شدہ بستے سےگرے ہوئے ذاتی سرٹیفیکیٹس، اور شناختی کارڈ دیکھ کر یہ الزام لگا دیا کہ خود کش حمہ آور کا نام حافظ خلیل الرحمٰن تھا۔ اور اس بات کو پرنٹ میڈیا نے چھاپا بھی تھا، جس پہ انھوں نے معذرت تو نہیں کی، لیکن جامعہ اسلامیہ کے کچھ ذمہ داران اور حافظ خلیل الرحمٰن کے فیصل آباد کے اساتذہ کی جانب سے میڈیا کو بتایاگیا کہ یہ طالبِ علم دہشت گردی کا خود شکار ہوا ہے، جس پہ بہرحال میڈیا نے دوبارہ یہ خبر نہیں لگائی۔

آج ان دوستوں اور عزیز طلبہ و طالبات کو ہم سے بچھڑے نو سال ہو چکے ہیں۔ آئیے دعا کیجیے کہ اللہ رب العزت اس جنگ میں شہید ہونے والے تمام شہدا کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور جامعہ اسلامیہ کے تمام طلبہ و طالبات کو خصوصاً اپنے والدین و اساتذہ کے ساتھ اس زندگی کے بعد جنت الفردوس میں اکٹھا فرمائے۔ اور جنہوں نے اس جنگ کو ہم پہ مسلط فرمایا، ان کو کیفرِ کردار تک پہنچائے۔ آمین۔ اس دوران ان تمام طلبہ و طالبات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے جنہوں نے ان مشکل دنوں میں اپنے زخمی ہم مکتب دوستوں اور عزیزوں کی مکمل مدد کی۔ زخمیوں کے لیے خون دینے گئے۔ پوری پوری رات وہاں گزارئی۔ اور شہداء کے خاندانوں کو پُرسا، تسلی دینے کے لیے موجود رہے۔ اور جامعہ کے منتظمین و استاتدہ بھی اس شکریے اور شاباش کے مستحق ہیں جنہوں نے اس غم و دکھ کی گھڑی میں طلبہ و طالبات کا خیال رکھا۔ اور متاثرین کے ساتھ اس دکھ کی گھڑی میں ساتھ کھڑے رہے۔

اس تعلیمی ادارے پہ حملہ کر کے بزدل دشمن نے اپنی بزدلی و بےحمیتی کا مظاہرہ کیا، شاید اس نے سوچا ہوگا کہ تعلیمی اداروں کو بند کروا کے تعلیمی تسلسل کو بند کروائیں گے، معاشرے میں افراتفری پھیلے گی، شاید لوگ تعلیم حاصل کرنے سے باز آجائیں گے، لیکن وہ دشمن یہ بات بھول گیا تھا کہ یہ تعلیمی ادارے روشنی کے جگنوؤں کی ایک فیکڑیاں و کارخانے ہیں، تم کتنے جگنوؤں کا قتل کرو گے، ہر جگنو یہاں سے روشنی کا ایک مینار بن کے نکلے گا۔ بالآخر اندھیروں کو مات ہوگی اور ضرور ہوگی۔ یہ تعلیمی ادارے جامعہ اسلامیہ کی صورت ہو یا ڈمہ ڈولا و جامعہ تعلیم القرآن کی صورت میں، یا یہ آرمی پبلک اسکول یا خیبر پختونخواہ کے متعدد تباہ کیے گئے اسکول و مدارس، یہ سارے کے سارے روشنی کے کارخانے ہیں جنہوں نے اس معاشرے میں بڑھتے ہوئے اندھروں میں اپنی روشی کی شمعیں جلائی ہوئی ہیں۔ اپنی سی کوشیشیں کر ہے ہیں کہ یہاں اندھیروں کو شکستِ فاش دی جاسکے۔ یہ تعلیمی ادارے شکوہ ظلمت کے بجائے اپنے حصے کی شمعیں بالآخر جلائے رکھیں گے کیونکہ ان کو یہ اس بات پہ یقین ہے جو احمد فراز نے اپنے الفاظ میں کہی تھی ۔
شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر ہے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاؤ