ماں جی کے مہمان (2) - فرح رضوان

اگلے دن، یہ خواتین پارلر اور پیکنگ کے چکروں میں کافی مصروف رہیں، ائیرپورٹ پہنچ کر سٹیٹس اپ لوڈ کیا۔ کچھ الگ نہیں، بالکل ویسا ہی جیسا کہ آپ، اور ہم سب ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔ پھر منزل مقصود کو، فرض سے پن کیا، جس پر حیرت، حسد، اور حسرت کے ملے جلے کمنٹس اور ان کے رپلائز کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ کسی بھی سفر میں، سفر آخرت کی کیسی کیسی نشانیاں یا عبرت محسوس ہوتی ہے، یا ڈھیروں دعائیں مقبول ہو سکتی ہیں، اس ٹائم پاس ایکٹیوٹی میں اس کا ہوش ہی کسے تھا۔

جہاز میں داخل ہوتے ہی جلدی جلدی بزنس کلاس کی سیٹ پر بیٹھ کر سنیپ چیٹ پر پھولوں والا فلٹر ڈال کر گروپ میں شئیر کرتے وقت ایک لمحے کو گزشتہ سفر میں فوکر پر سفر کے دوران ایک دیہاتی بندہ، سیٹ پر اکڑوں بیٹھا، کانوں میں فون دبائے، حلقہ احباب میں اپنی شان بگھارتا یاد آگیا تھا، لیکن کہاں وہ، کہاں علینہ، اس کے ذہن میں ایک لمحہ سوال آیا بھی کہ کہیں وہ اس نودولتی جیسی تو نہیں لگے گی، لیکن پھر دل نے اس برابری کو تسلیم ہی نہ کیا، لہٰذا لمحہ بھر میں کلپ سینڈ کر ڈالا اور گویا، دوسری جانب بھی فارغ، بھوکے پرندوں کے آگے دانہ ڈال دیا گیا ہو، انھی کی طرح کی بالکل سطحی سوچ رکھنے والے فرینڈز اور مداح تھے ان کے، لہٰذا انتہائی سطحی قسم کے شوخے کمنٹس آنے شروع ہو گئے، حتی کہ جہاز میں اعلان ہو گیا کہ اب فون بند کر دیے جائیں۔

شام ڈھلے سب لان میں گپیں لگا رہے تھے کہ ماں جی نے کریمن کو آواز دی، "پتر چائے پی لی ہے تو ادھر سے بھی برتن لے جاتی"۔ نزہت کی تو ہنسی نکل گئی "آپا پچھلے تین دن سے یہی دیکھ رہی ہوں کہ اس نوکرانی کی امّاں آتی ہے تو آپ سب اس سے، آپ جناب سے بات کرتے ہیں، ابھی آپ برتن دھو لیں، اب آپ جھاڑو لگالیں، ارے بھئی کمی لوگ ہیں، سر پر بیٹھ جاتے ہیں اس طرح تو، کوئی مہمان تھوڑا ہی ہیں، آپ لوگ کب سے لکھنؤ والوں کی طرح بولنے لگ پڑے ہیں۔"

علیشا نے کہا؛ میں بھی حیران تھی کہ آپ کی یہ چھٹکی، کریمن سارے کام چھوڑ چھاڑ، دوسری شفٹ کے سکول جاتی ہے، بلکہ کل ناشتے کے بعد نائلہ بھابھی اس کا ہوم ورک مکمل کروا رہی تھیں، یہ کام والی رکھی ہے آپ نے یا.....؟ نائلہ نے کہا، "علیشا! ہم سے اپنی رعیت کے بارے میں سوال تو ہونا ہے نا! بمشکل چار گھنٹے کا تو سکول ہوتا ہے، اس دوران میں میرے بچے دو گھنٹے تک تو سوتے ہی رہتے ہیں، چھوٹے موٹے کام تو ہمیں بھی اپنی صحت برقرار رکھنے کی خاطر ہی کر لینے چاہییں...''

علینہ فورا ہی اس کی بات کاٹتے ہوئے نائلہ سے بولی؛ "اور ہاں بھابھی جی! کل جو چادر ساڑ لائی تھی نا! دھوبن صاحبہ آپ کی، میں نے تو دو کان کے نیچے رکھ کر دینے تھے اس کے، آپ کے صبر کو تو سلام ہے ویسے۔" نائلہ نے کہا: "علینہ آپی! ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے کہ اسے ختم ہو ہی جانا ہوتا ہے، یہ تو بس ہمارے صبر کا ایک ٹیسٹ ہوتا ہے کہ اگر دوسرے کے ہاتھوں کسی چیز کا آخری وقت آگیا تو اس پر ان سے کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں؟ بس اللہ نے دی تھی اسی نے لے لی، وہی اور دے دے گا ان شاءاللہ، اور کیا پتہ اس طرح اب یہ کسی غریب کے کام آکر میر ے لیے کتنی دعاؤں کا ذریعہ بنتی رہے۔'' پھر اسے کچھ یاد آیا تو بولی، ''علینہ آپی! آپ کے تو ہاتھوں سے سونے کے کڑے ڈاکو اتروا کر لے گئے تھے، میری چادر اتنی قیمتی تو ہرگز نہیں تھی، آپ کی تو نانو کی نشانی بھی تھے وہ کڑے، آپ نے ڈاکو کے کان کے نیچے دو لگانے تھے نا!''

ماں جی نے افسوس سے کہا "ہمارا ہاتھ کمزور کے لیے بےدھڑک اٹھ جاتا ہے کہ غصے میں یاد ہی نہ رہا، چاہے وہ بیوی ہو، بچے ہوں یا گلی محلے کے غریب دکاندار، رکشہ، تانگہ والے، لیکن طاقتور پر کبھی نہیں اٹھتا، حالانکہ اس وقت غصہ، غم اور خوف تین تین جذبے سر پر ناچ رہے ہوتے ہیں، مگر تب بھی عقل ساتھ نہیں چھوڑتی۔" پھر وہ علیشا سے بولیں؛ "میرا پہلا پوتا پیدا ہوا نا، تب سے ہم سارے گھر والوں نے اپنے لہجے، انداز اور الفاظ پر نظر رکھنی شروع کر دی تھی، بعد میں جب قرآن پڑھا کہ قول حسن ہی بولنا ہے، اور سخت بات تو فرعون سے بھی نہیں کرنی تھی، تو پھر اللہ کی خوشی، اور ایک طرح کی عبادت کی نیت سے، سبھی سے اچھے سے بولنا سیکھ ہی لیا۔ پتر! یہ واقعی سیکھنا ہی پڑتا ہے کیونکہ اچھا تو آپ بول ہی نہیں سکتے، جب تک کہ غصہ قابو نہ کر لو، اور غصہ کبھی قابو نہیں ہو سکتا جب تک کہ پکا یقین نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ، بہت طاقت والا ہے، اور ہمارے ضبط کا یا کسی بھی نقصان کا بہترین بدل دینے والا ہے۔''

علیشا نے موضوع بدلتے ہوئے بہت لاڈ سے فرمائش کی، "پھپھو جانی! ہم تو تین دن سے گھر کا کھانا کھا کھا کر آرام کر کر کے بور ہوگئے، بھائی تو اتنا لیٹ آتا ہے سب دکانیں بند ہو جاتی ہیں، کہیں باہر چلیں نا۔" تو ماں جی نے کہا چلو ابھی چلتے ہیں، کہاں چلنا ہے؟ ماں بیٹی تینوں نے ہی مہنگے ترین سمجھے جانے والے سپر سٹور کا نام لیا، لہذا ساجد کو فون کر کے اس کے ڈرائیور کو بلوایا گیا اور سب روانہ ہو گئے۔
(جاری)

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.