زینب کے مجرم - حافظ یوسف سراج

زینب کا قاتل پھانسی کے پھندے سے جھول گیا۔ ظاہر ہے، اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں۔ آدمی جو بوتا ہے، جلد یا بدیر وہ اسے کاٹنا ہی پڑتا ہے۔ زمانہ بہت دیر کسی کا قرض اٹھا نہیں رکھتا۔ ایک سفاک مجرم اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ خس کم جہاں پاک۔ زینب کیس ملکی تاریخ کا مہنگا ترین اور تیز ترین کیس ثابت ہوا۔ اس وقت جب سات سالہ زینب کی نوچی گئی لاش کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی تھی، پورا ملک جلتا ہوا تنور بن گیا تھا۔ حالات ایسے دردناک اور ہولا دینے والے تھے کہ سوشل میڈیا پر پوری قوم یوں ڈٹ گئی، جیسے سپاہی دفاعی مورچے پر ڈٹ جاتاہے۔ایسا بھرپور احتجاج تخلیق ہوا کہ چیف جسٹس، آرمی چیف اور وزیرِ اعلیٰ کو مستعدی اور بیداری سے بروئے کار آنا پڑا۔

پولیس کا کردار اس میں بڑا اہم رہا۔ گو کہ عام طور پر پولیس کی تعریف نہیں کی جاتی۔ ظاہر ہے اس کی وجوہ ہیں۔ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کی پولیس میں سیاست ، طاقت اور دولت نے اثرات پیدا کر رکھے ہیں۔ یہاں مگر قوم اور ریاست کا شدید دباؤ تھا تو پولیس نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سی سی ٹی وی کے ذریعے سے مجرم کا خاکہ سامنے آچکا تھا۔ تیس لاکھ ضلع قصور کی جبکہ شہر کی آبادی سات آٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اتنی بڑی تعداد سے پولیس نے مجرم ڈھونڈنا تھا۔ سپریم کورٹ وقت متعین کر چکی تھی، غالبا پندرہ دن۔ گویا بھوسے سے سوئی تلاش کرنےجیسا معاملہ تھا۔ پولیس مگر یکسو ہو گئی اور صرف چودہ دنوں کے بعد وزیرِ اعلیٰ زینب انصاری کے والد کے ساتھ پریس کانفرنس میں مجرم کی گرفتاری کا اعلان کر رہے تھے۔ پولیس نے کیا یہ کہ بزرگوں اور خواتین کو الگ کر دیا۔ پھر وہ لوگ جو واضح طور پر مجرم کے خدوخال سے ہم آہنگ نہ تھے، انھیں بھی فہرست سے نکال دیا۔ باقی تعداد اصل ہدف تھی۔ مجرم انھی سے تلاش کیا جانا تھا۔ پولیس نے ٹاسک فورسز بنائیں اور گھر گھر تلاشی مہم کا آغاز کر دیا۔ سی سی ٹی وی میں مجرم نے جیکٹ پہن رکھی تھی، جس کے سامنے کی طرف دونوں کندھوں پر دو بٹن دکھائی دیتے تھے۔ یہ جیکٹ مجرم عمران علی کے گھر سے پولیس کو مل گئی۔ تقریبا گیارہ سو لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے۔ مجرم کا ڈی این اے پوری طرح میچ کر گیا۔ اسے دہرا کے دیکھا گیا۔ پھر مجرم بھی بالآخر پولیس نے ڈھونڈ نکالا۔ گو اس نے داڑھی وغیرہ منڈوا کر حلیہ بدل لیا تھا۔ پولی گرافک ٹیسٹ لیا گیا۔ مجرم نے اعتراف کر لیا۔ مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلا۔ دفاع کا حق دیا گیا۔ چار جنوری کو بچی غائب ہوئی، نو جنوری کو اس کی نعش ملی، چودہ دن بعد مجرم گرفت میں آگیا۔ بارہ فروری کو مجرم پر فردِ جرم عائد کی گئی اور اٹھارہ فروری کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا۔ اس کیس میں چار دفعہ جبکہ تمام کیسز میں اکیس دفعہ پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ مجرم کی اپیل ہر جگہ سے مسترد ہو گئی۔ ہونی ہی تھی، رحم کی ضرورت مجرم کو نہیں معاشرے کو تھی۔ بارہ اکتوبر کو مجرم عمران علی کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے گئے اور سترہ اکتوبر کی صبح پانچ بجے مجرم اپنے عمل کی صلیب پر ترازو ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا لاک ڈاؤن: قتل کی تیسری واردات، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا

سوال مگر یہ ہے کہ اس پورے واقعے سے ہم بھی کچھ سیکھ سکے ہیں یا نہیں؟ کچھ چیزیں زیادہ قابلِ غور ہیں۔ مثلاً زینب کے والد امین انصاری نے بہت جدوجہد کی ، بڑی آواز اٹھائی کہ مجرم کو سزا عوام کے سامنے دی جا سکے۔ ان کے وکیل نے عدالت کے حضور استدعا بھی کی۔ قانون کا حوالہ بھی دیا۔ دہشت گردی کے جس قانون کے تحت مجرم کو سزا دی گئی، اسی قانون یعنی1997 کے قانون کے سیکشن 22 میں یہ گنجائش موجود ہے کہ عبرت کی خاطر مجرم کی جائے سزا بدلی جا سکتی ہے۔ یعنی یہ سراسر قانونی معاملہ تھا۔ قرآن بھی اسی معاملے کا ہامی ہے۔ ارشاد ہے ، چاہئے کہ سزا کی تنفیذ کے وقت مومنوں کا ایک گروہ موجود رہے۔(سورہ نور ، آیت نمبر 2)

یہاں مگر شاید بین الاقوامی حالات مدِنگاہ تھے یا کچھ اور کہ اس پر عمل نہ ہو سکا۔ جس کا امین انصاری کو دکھ ہے۔ البتہ زینب کی والدہ سمجھتی ہیں کہ میڈیا کی سرگرم موجودگی کے باعث گویا یہ سرعام سزا جیسا ہی معاملہ ہے۔ سزا کے دراصل دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مجرم کو اس کے کیے کے مطابق قرار واقعی سزا دینا اور دوسرا معاشرے میں پھیلے خوف اور اس کی نوچی گئی عافیت کی ردا کی پیوند کاری کرنا۔جرم اگر معاشرے کو متاثر کرنے والا ہو تو اس میں سزا کے سرِ عام دینے میں حکمت کے پہلو زیادہ ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ، وہ معاشرہ برباد ہو جاتا ہے، جہاں جرم سرِ عام ہو اور اس کی سزا یا تو ہو نہیں یا دیر سے ہو یا کم ہو یا چھپا کے ہو۔ نجی ٹی وی کے ریسرچ سکالر مولانا اجمل بھٹی صاحب مدینہ سے پڑھ کے آئے ، بتاتے ہیں، مدینہ طیبہ میں نیا نیا تھا کہ معلوم ہوا مجرموں کو سزا دی جائے گی۔ مسجدِ نبوی کے قبلہ کی طرف، تب باہر کھلا میدان تھا۔ لوگ جمع ہوئے جیسے کرکٹ میچ کے لیے شائقین امنڈ آتے ہیں۔ ایمبولینسز یہاں وہاں چیخنے دھاڑنے لگیں۔ مولانا کو حیرت ہوئی کہ مجرم تو اپنے کیے کا پھل پائے گا، مگر یہ اتنی ایمبولینسز کس لیے؟ اس کا پتہ تب چلا جب مجرم کی گردن پر تلوار چلی۔ مثلاً سامنے کھڑا ہٹا کٹا جوان منظر کی تاب نہ لا سکا اور کھجور کے تنے کی طرح ڈھے گیا۔ عبرت کا درس لینے والے ایسے کئی تھے، یہ ایمبولینسز ان کے کام آئیں۔ اثر ایسا ہوا کہ ایک عرصے تک مدینے میں کوئی جرم نہ دیکھا گیا۔ جدید طرزِ فکر مگر کچھ اور ہے۔ یہ طرز فکر معاشرے اور مظلوموں سے زیادہ مجرم پر مہربان ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کا کہنا کچھ اور ہے۔ سماج کی زندگی مجرم سے مہربانی میں نہیں، قصاص یعنی بدلہ لینے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس: ایک اور شہری کی خود کشی نے سب کو افسردہ کر دیا

سوال اور بھی ہیں، مثلاً کیا اب زینب کے واقعے سے پیدا ہونے والے ہولناک حقائق کا جواب اور سدِباب بھی ہو چکا؟ ایک شخص اس قدر بد ترین مجرم بن کے سامنے آتا ہے تو کیا اس پر سٹڈی نہ ہونی چاہیے۔ اس کے محرکات اور اسباب کھوج نہ نکالنے چاہییں؟ تاکہ ان کا سدِ باب ہو سکے۔ اس ہولناک سانحے میں سماج کا، میڈیا کا، تعلیم کا ، والدین کا اور ہمارے رویوں کا کیا کردار رہا ، کیا اس پر بات نہیں ہونی چاہیے؟ یا حیرت! سات بچیاں ایک ہی جگہ سے ایسی ہولناک درندگی کی بھینٹ چڑھ گئیں، مگر جب تک زینب کا معاملہ خلقِ خدا نے سر پر نہ اٹھا لیا، سوسائٹی اور ریاست کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔ یقینا ہماری ریاست اورسماج کو اونچا سنائی دیتا ہے۔ شاید ہمیں تھوڑا سا مزید انسان ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ تاکہ آئندہ ہماری زینبیں اپنی پوری زندگی جی سکیں اور عافیت اور امان کے جھولے میں اپنا بچپنا بتا سکیں۔ زیادہ ضروری یہ بھی ہے کہ ہمارے والدین کو اپنا کچھ وقت اور اپنی کچھ نظر اپنے بچوں کے لیے بچا رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ ایسا اگر ہو تو سانحات ہونے سے روکے بھی جا سکتے ہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.