کوچہ حبیب کا ایک خوشگوار دن - سائرہ ممتاز

میں نے زندگی بھر جہاز میں سفر کیا۔ لیکن وہ سفر ہمیشہ مُردوں کے لیے یا مُردوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ پانچ برس کی عمر سے لے کر بتیس سال تک میں کبھی دادا کی میت پر گئی کبھی دادی کی میت لے کر گئی۔ کبھی چچا کو مٹی اوڑھانے کے لیے ہوائی جہاز میں بیٹھی تو کبھی نانا کو الوداع کرنے۔ کسی سے ملاقات کرنے کے لیے پہلا سفر پچھلے سال کی فروری میں طے ہوا، اور میری بد قسمتی کہ اس وقت میں بلندی سے گرنے کے فوبیا میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے چار سال قبل، جب ہم رشتے کی ایک دادی کی فوتگی پر اسلام آباد ہوائی اڈے کے قریب تر پہنچ چکے تھے تو موسم کی خرابی کی وجہ سے پرواز متاثر ہوئی۔ ہوائی جہاز نے کئی ہچکولے لیے۔ مرد و زن کے ہاتھوں میں تسبیحات رُل گئیں۔ لگتا تھا کہ شاید اس کے بعد کبھی آنکھ نہ کھلے گی۔ پھر اس کے بعد جنید جمشید اسی طرح چلا گیا۔ جنید جمشید.... اچھا پھر سہی۔

تو میں بلندی سے گرنے کے خوف میں مبتلا ہو چکی تھی، لیکن سفر تو طے کرنے کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں محبوب سے ملاقات کے لیے جانا ہو تو انسان ہواؤں میں اڑتا ہوا جاتا ہے۔ میں تو سچ مچ اڑ رہی تھی۔ لیکن جو خوشی، کیف اور سرور ہونا چاہیے تھا وہ ناپید تھا۔ اس کی جگہ ایک انجانا سا خوف تھا۔ کبھی ابا کی طرف دیکھتی، کبھی ماں کی جانب سر گھماتی، دونوں سکون سے بیٹھے تسبیحات پڑھتے تھے۔ بیٹے کو دیکھا تو وہ اپنے کھیل میں مگن تھا۔ کزنز کے چہرے پر ایک جگمگاتی سی مسکان پھیلی تھی۔ یہ سب اتنے مطمئن اور پرسکون ہیں۔ شاید میں اس قابل نہ تھی کہ ان کے ساتھ یوں سفر کرتی، جبھی میرا سکون چھینا جا چکا ہے، میرے اندر خوف بھر گیا ہے۔ باہر دیکھا، بادلوں کی ٹکڑیا‍ں ہر خطرے سے آزاد تیرتی پھر رہی تھیں۔ اگر یہ جہاز بحیرہ عرب کے اوپر یوں سفر کرتے ہوئے نیچے پانی میں جا گرے تو...

اس تو سے آگے گہری کھائی اور بھڑکتی ہوئی دوزخ تھی۔ میں نے دیکھا کہ سب مسافر کانوں میں ہیڈ فون لگائے نجانے کیا کیا سن اور دیکھ رہے ہیں۔ دل میں خیال اترا، یہ سب اتنے بے نیاز ہو کر کیا سن اور دیکھ رہے ہوں گے؟ کیا انھیں معلوم نہیں کہ ہم کہاں جانے والے ہیں؟ کیسے سکون سے بیٹھے ہیں۔ اگلی نشست پر ایک سیاہ فام بیٹھا تھا، شاید افریقی ہوگا، اس کے ساتھ ایک عربی نوجوان تھا، کنیکٹڈ فلائٹ تھی، دونوں دبئی ہوائی اڈے سے سوار ہوئے تھے۔ سیاہ فام کے سامنے اسکرین پر رنگ برنگ جھمکے ہو رہے تھے، وہ شاید کوئی مووی دیکھ رہا ہوگا۔ ان سینکڑوں افراد میں ایک میں ہی تھی جسے کوئی کام نا تھا۔ خوف کے وقت انسان خدا کو یاد کرتا ہے، کچھ وظائف اوراد کرتا ہے، وہ بھی نہیں تھے۔ پھر خیال آیا تو سینہ اور بنجر ۔ میں اپنے دوست کے لیے کیا لے کر جا رہی ہوں؟ کیا میں اس قابل بھی ہوں کہ کچھ لے کر جاؤں؟ کراچی سے سوار ہوتے وقت ڈھیروں امنگیں اور بہت سی خواہشات تھیں، خدشات وسوسے بھی تھے جن کے بارے میرا خیال تھا کہ یہاں کی حدود سے نکلتے ہی سب کے سب ڈھیر ہو جائیں گے۔ جیسے خشک پتے جنھیں یا خزاں کی ہوا اڑا دیتی ہے یا جولائی کی دھوپ میں جھلس کر آگ پکڑ لیتے ہیں، لیکن وہ تو بڑھتے بڑھتے شیش ناگ کا پھن بن چکے تھے جو سر اٹھائے مجھے چڑاتا تھا، کہاں تک بھاگو گی، کہاں تک بچو گی؟ تمہارے پاس ہے ہی کیا؟ تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ تم نے آج تک کیا ہی کیا ہے جس کی وجہ سے وہ تمھارا سوچے، اسے خوشی ہو تمھارے آنے کی، وہ تمہاری راہ دیکھے، کیوں آخر؟ دنیا داری کے گھور اندھیروں میں غرق انسان اپنے محبوب سے کیا آس لگا سکتا ہے؟ وہ اس قابل ہی کہاں ہوتا ہے؟ انھی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ہوئے نظریں سامنے اسکرین کی طرف اٹھیں جو بتا رہی تھی کہ وہ دیکھو سامنے بالکل سیدھ میں کوچہ حبیب ٱنے والا ہے۔ بس کچھ دیر صرف آٹھ منٹ..

میں مدینے کی حدود میں ہوں. یہ خیال آتے ہی فضا عطر بیز ہوگئی۔ یہاں سامنے سے کیا مسجد نبوی بھی نظر آئے گی۔ پتا نہیں، شاید بتیس سال سے رکے آنسو ان آٹھ منٹ کے احسان مند رہیں گے۔ محبوب کے قدموں میں رکھنے کے لیے میرے پاس ان آنسوؤں کے سوا تھا ہی کیا؟

اور صرف چھ دن بعد وہاں معطم البخاری کے سامنے سڑک کے درمیان کچھ جگہ خالی تھی جسے شاید پیدل چلنے والوں کے سستانے کے لیے یا پودوں کے لیے خالی رکھا گیا تھا۔ پودے تو نہ تھے، بھینی خوشبو میں بسی گھاس تھی، بہت سی مٹی کی کنالیاں تھیں جن میں پانی تھا اور بہت سے کبوتر تھے۔ ایک شخص اناج کی تھیلیاں بیچ رہا تھا، میرا برسوں پرانا شوق پورا ہونے کو تھا، بہت سالوں کی دبی خواہش کہ سامنے مسجد نبوی ہو اور وہاں ڈھیر سارے کبوتر بیٹھے ہوں، جن کے لیے میں اناج خریدوں اور پھر انھیں کھلا دوں۔ ابو نے پچاس ریال نکالے، مجھے لگا کم ہیں لیکن پچاس ریال میں سے بھی بہت سے بچ گئے اور باجرے کے بھرے کئی شاپر میرے ہاتھ میں آ گئے۔ میں نے گیلی ہوتی آنکھوں سے ایک شاپر کی گرہ کھولی، مٹھی میں باجرہ بھرا اور ان پرندوں کی اور اچھال دیا، باریک ذرات مدینے کی چمکتی ہوئی ریت میں گھل مل گئے۔ اس شخص نے جو اردو بولتا تھا، شاید پاکستانی تھا، مجھے کہا ایسے نہیں پھینکتے، اور پھر مجھے اناج ڈالنا سکھایا۔ ایک شاپر ایک ہی جگہ الٹ دیا، پھڑپھڑاہٹ کی آوازیں قریب تر ہوئیں، بہت سے ماہ لقا اترے قریب آئے، اور ان کی چونچیں دانوں سے بھر گئیں۔ میں نے دیکھا کچھ دور مسجد بلال حبشی کے ہرے گنبد نظر آتے تھے۔ مجھے اذان بلالی اپنی طرف بلانے لگی، قدم آگے بڑھ گئے۔ پیچھے والد صاحب تھے، یکایک ایک یتیم بچی آ کر والد صاحب سے لپٹ گئی، اس نے دونوں ہاتھ ابو کی کمر کے پیچھے کس کر باندھ دیے اور اصرار کرنے لگی کہ ہم اس سے عطر خرید لیں۔ ایک لحظے کو خیال آیا کہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خاندان کا سرپرست نہیں ہوتا، انھیں بھی بھوک اور سائبان کی چاہ ستاتی ہے، تو یہ اپنی ماؤں کے اشارے سمجھتے ہیں، لیکن اگلے لمحے اس خیال بے خیال کی لگامیں بھائی کی آواز نے الٹ دیں۔ یاد آیا چھ ماہ قبل اس نے کہا تھا مدینے کے بچے رسول اللہ کو بہت عزیز تھے، اس لیے میں جب مدینے جاتا ہوں تو بچوں کو پیسے یا تحائف ضرور دیتا ہوں۔ میں نے والد صاحب کو دیکھا اور انھوں نے جیسے میری سوچ پڑھ لی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھی‌ ڈبڈبا رہی ہیں۔ ہم شاپنگ کر چکے تھے، وہ مدینے میں ہمارا آخری سے پہلا ایک دن تھا۔ عطریات سے بیگ بھرے تھے لیکن وہ بہت سے عطر ہم نے خرید لیے۔ جو شاید دس دس ریال کے بھی نہ ہوں۔ مدینے کے بچے رسول اللہ کو بہت پیارے تھے، یہیں کہیں حسنین کریمین کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے وہ اب بھی ہمیں دیکھتے ہوں۔ مجھے مسجد بلال حبشی اپنی جانب بلا رہی تھی، اور وہ بہار کا ایک خوشگوار دن تھا۔

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.