کشمیر کی جانہ بیگم کے چار بیٹے - عاصم رسول

سرینگر سے 120 کلو میٹر شمال کی جانب دَیور، لولاب میں ایک معمولی سے گھر میں رہنے والی 51 سالہ جانہ بیگم ، دل کو شق کرنے والی’’آہیں‘‘ بھرتی ہوئیں، وہ سب کچھ بیان کرتی ہے جو اُس نے پچھلے سولہ سال کے عرصے کے دوران کھویا۔ کپواڑہ میں ایس ٹی ایف اور آرمی کے بے رحم ہاتھوں نے شوہر کے علاوہ اس کے چار بیٹوں کو اس سے چھین لیا۔ انتہائے درد واضح ہے کہ دورانِ گفتگو جانہ کی آنکھوں سے آنسوں کی ندیاں رواں نہیں ہوتیں کیونکہ آنکھوں کے سوتے بہتے بہتے خشک ہوچکے ہیں۔ داستانِ غم سناتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ آپ کی دروں بینی کر کے کچھ تلاش کرنا چاہتی ہے۔گردوپیش کے حالات سے لاتعلق وہ دوائیوں کے سہارے جی رہی ہے جن کے نام سے بھی وہ بے بہرہ ہے۔ بیٹوں کی ہلاکت کے بارے میں پوچھنے پر اپنے خیالات جمع کرکے اُس نے مختصر تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ کیسے اس کے بیٹے گھر سے نکل کر پھر کبھی واپس لوٹ کر نہ آسکے۔ اُس نے کہا کہ کیسے اُس کے شوہر کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کیسے وہ زخموں کی تاب نہ لا کر مجھے داغ مفارقت دے کر اس دنیا سے چلا گیا۔

کیا اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ انصاف کی متلاشی ہے؟ کیا اس کے شوہر اور بیٹوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی؟ کیا وہ پر اُمید ہے کہ اسے انصاف ملے گا؟ ان سوالات پر وہ صرف یہ کہتی ہے کہ’’کون سا انصاف ملے گا اَب اتنے سال بعد؟‘‘ جب ہم نے اس کے بیٹوں کی تصاویر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے ایک بڑے سائز کا فریم فوٹو ہمیں دکھایا، جس میں پانچ چھوٹی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ تین بیٹوں کی خون میں لت پت لاشیں، جبکہ شوہر اور چھوٹے بیٹے کی جب وہ زندہ تھے۔ تصویر کے نیچے سرخ جلّی حروف میں یہ الفاظ نقش تھے ’’جانہ کے چار بیٹے‘‘، اپنے سامنے تصویر رکھتے ہوئے وہ ایک ایک کے بارے میں بیان کرتی رہی۔ یہ داستان ہے قتل، تعذیب، لاپتہ کرنے، خوف زدہ، ناانصافی اور ناقابل برداشت درد و کرب کی۔ اپنی بپتا سنانے کے دوران وہ اس فریم کو بار بار اپنے ہاتھ سے سہلاتی رہی۔ دور سے دیکھنے کے باوصف اس تصویر کی دردناکی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔

سال 1996ء کی ایک رات جب میرا یک بیٹا 20 سالہ محمد لطیف وار، جو کہ دار العلوم واقع لال بازار سرینگر میں زیر تعلیم تھا، رسوئی خانہ کی گھڑی ٹھیک کرنے میں محو تھا۔ شام نو بجے کچن کی کھڑکی سے چند آدمیوں نے، جو بقول جانہ بیگم ایس ٹی ایف اور آرمی سے تعلق رکھتے تھے، میرے بیٹے کے سر میں گولی مار کر اسے ابدی نیند سلا دیا۔ جانہ بیگم کا کہنا تھا کہ کم سنی کے باوصف وہ حافظ قرآن تھا۔ 1998ء میں میرے دو بیٹوں محمد شریف اور بختیار وار کو بوہامہ کپوارہ سے سرینگر جاتے ہوئے ایس ٹی ایف اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ وہ سرمائی تعطیلات ختم ہونے پر سرینگر میں مدرسہ جوائن کرنے والے تھے جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ہم نے بعد میں سنا کہ اُنھیں ایس ٹی ایف والوں نے گاڑی سے نیچے اُتار کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ چار دن کے بعد ہمیں اُن کی شہادت کی خبر موصول ہوئی۔ جانہ کہتی ہے کہ جب ہم نے سنا کہ کپوارہ میں کچھ ’’پاکستانی نژاد عسکریت پسندوں‘‘کو ہلاک کیا گیا ہے تو ہم نے فوراً وہاں پہنچ کر اپنے بیٹوں کے کپڑے اَخروٹ کے درخت پر معلق پائے۔ پولیس نے نعشیں دکھانے سے صاف انکار کیا۔ میں نے کپڑوں سے اپنے بیٹوں کو پہچان لیا، جانہ نے کہا۔ ایس ٹی ایف اہلکاروں نے ہمیں کچھ بندوقیں دکھا کر کہا کہ یہ عسکریت پسندوں سے بازیاب کی گئی ہیں۔ کپواڑہ کے پولیس تھانہ میں جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اُس میں کہا گیا ہے کہ میرے بیٹے ’’غیر ملکی دہشت گرد‘‘ تھے۔

جانہ نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ میرے بڑے بیٹے محمد شریف الدین وارکو، جس کی عمر 25 سال تھی،سال 2000ء میں پراسرار طور غائب کردیا گیا۔ دیوبند، یوپی سے تعلیم مکمل کرکے وہ گھر واپس آ کر مقامی درس گاہ میں بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے رشتہ داروں کے یہاں جاتے ہوئے لاپتہ ہوا۔ پہلے پہل تو ہم یہ سمجھتے رہے کہ وہ رشتہ داروں کے یہاں ٹھہرا ہوا ہے لیکن بسیار تلاش کے باوجود ہمیں اُس کا کوئی اَتہ پتہ نہ مل سکا۔ جب جانہ نے ڈویژنل کمشنر آفس کا رُخ کیا تو اُسے وہاں پستول دکھا کر خوف زدہ کیا گیا اور جب وہ کپواڑہ آرمی کیمپ میں اپنے بیٹے کے بارے میں معلوم کرنے گئی تو وہاں اُس کی گرفتاری سے صاف انکار کیا گیا۔ ہمیں اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر چار روز بعد ملی، ہمیں اس کے کپڑے تک نہ ملے سوائے ایک شناختی کارڈ جو ایک بزرگ آدمی کو دردپورہ کے جنگلوں میں ملا۔

چار بیٹوں کی شہادت کے بعد جانہ کے شوہر عبد الکریم وار، جن کی عمر 60 سال تھی، 1998ء میں کپواڑہ مقامی انتظامیہ سے کچھ امداد حاصل کرنے گئے۔ کپواڑہ بس اَڈے پر بی ایس ایف اور ایس ٹی ایف اہلکاروں نے انہیں نزدیکی کیمپ لے جاکر شدید زدوکوب کیا۔ ایس ٹی ایف والوں نے اُن سے ایک لاکھ روپے کی امداد بھی چھین کر صرف ایک ہزار روپے واپس لوٹائے۔ چار روز بعد جب انھیں رہا کیا گیا تو وہ چل نہیں سکتے تھے اور صاحبِ فراش ہوگئے۔ جانہ نے کہا کہ دورانِ ٹارچر میرے شوہرکے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر سرد پانی میں رکھا گیا تھا، اُسے بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے اور اس کے جسم پر رولر بھی پھیرا گیا تھا۔ تعذیب کے نشانات اُس کے کان، پیر اور سر پر صاف دکھائی دے رہے تھے۔ بالآخر چار روز بعد دل کا شدید دورہ پڑنے کے سبب وہ داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

شوہر اور چار بیٹوں کو چھین لینے کے باوجود ایس ٹی ایف اور بی ایس ایف والے اکثر گھر پر چھاپہ مار کر ہمیں مارتے تھے اور عسکریت پسندوں اور ہتھیاروں کے متعلق پوچھ گچھ کرتے تھے۔ ’’میرے چاروں بیٹے بے گناہ تھے‘‘ جانہ کہتی ہے ’’پھر بھی اُنہیں مار ڈالا گیااور میرے شوہر کو بھی بخشا نہ گیا‘‘۔ وہ کہتی ہے میری گود میں اُس وقت میرا دو سالہ بیٹا تھا، اس کو بھی ایس ٹی ایف کیمپ میں پیٹا گیا۔ ’’میرے ہاتھوں کو گرم بخاری سے مَس کر کے کیمپ سے باہر جانے کو کہا گیا‘‘۔ چوں کہ جانہ کے بیٹوں کو ’’غیر ملکی دہشت گرد‘‘جتلایا گیا، اُس کے حق میں کوئی ایکس گریشیاء امداد واگزار نہ کی گئی۔ باوجود کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکی ہے۔ اتنے سال میں کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ کوئی ایم ایل اے اور کسی حریت لیڈر نے اس کے گھر جاکر دلاسہ دینے اور اعانت کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔

ہر سال عید سے پہلے جانہ مالی امداد حاصل کرنے سرینگر جایا کرتی ہے تاکہ کسی حد تک گھر کی ضروریات کا تکفل کر سکے، لیکن وہ نامراد ہی واپس لوٹتی ہے۔ ’’مجھے اپنے بقیہ بچوں اور تین غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ملبوسات کے لیے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے‘‘ ’’بس خدا کا سہارا ہے‘‘۔ جانہ حوصلہ شکن آواز کے ساتھ! جانہ کا سب سے چھوٹا لڑکا ہفتہ میں چند دن اسکول جاکر باقی دنوں اپنے گھر کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر مزدوری کرتا ہے۔ ’’میں جانتا ہوں کہ میری ماں کو اتنے سال کتنی تکالیف جھیلنا پڑیں اور کوئی اُس کی مدد کے لیے نہیں آیا‘‘ جانہ کے چھوٹے بیٹے نے کہا۔ ’’ہمیں مصائب کے گرد آب میں بے یارو مددگار چھوڑا گیا‘‘۔ ایام عید ہمارے لیے صرف تلخ یادیں اور ماتم لے کر آتے ہیں کیوں کہ گھر میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

جب بھی جانہ بیگم اپنے بیٹوں اور شوہر کی تصاویر ہاتھ میں لیے حریت قائدین سے ملاقات کی غرض سے اُن کے قیام گاہ پر گئی تو اُسے گیٹ پر ہی روک کر اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ شبیر شاہ کے رہائش گاہ پر مجھے اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی اور گیٹ پر کسی نے مجھے بس کرایہ کی خاطر 200 روپے دے کر واپس جانے کو کہا۔ ایک اور ’’لیڈر‘‘ نے اُسے کہا کہ اُس کے لیے پیسے پاکستان سے آئیں گے۔ جانہ بیگم کے لیے لفظ’’انصاف‘‘ اپنا معنی کھوچکا ہے۔ انصاف کے نام پر یہاں مذاق ہو رہا ہے۔’’ گزشتہ 16 سال کے دوران میرا سب کچھ لٹ جانے، اپنے شوہر اور چار بیٹوں کی مظلومانہ ہلاکت کے بعد اب میں کس انصاف کی توقع رکھوں۔ کون دے گا انصاف خدا کے بغیر‘‘؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */