برما کے مسلمان اور امت مسلمہ کی غفلت شعاری - مظفر حسین بیگ

اس وقت عالمی سطح پر مسلمانوں کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کا لیبل اور دوسری طرف صحیح قیادت کا فقدان۔ اس سے فائدہ اٹھا کر مسلم ممالک کے لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان، عراق میں القاعدہ، فلسطین میں حماس، مصر میں اخوان المسلمون کو جواز ٹھہرا کر لاکھوں نہتے مسلمانوں کا قتل عام اور بستیوں کی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور دنیا کے سامنے یہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

برما میں مسلمان پر ایسی حالت طاری ہے جسے دیکھ کر انسانیت کا کلیجہ چاک ہوجاتا ہے۔ کچھ سال پہلے برما کے ایک شہر اراکان میں ایک بس سے تبلیغی جماعت کے گیارہ افراد کو بدھ مت کے پیروں کاروں نے باہر نکال کر بلا کسی خوف و ڈر کے بڑی بےدردی سے شہید کر دیا۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج سے قاتلوں اور حکومت پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی اور اس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر حملے شروع کیے گئے۔ اگرٕچہ مسلمانوں پر ہر جگہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں لیکن برما میں ہونے والے واقعات کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ لاتعداد مسلمانوں کو اب تک شہید کیاگیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لاپتہ کیے گئے۔ سات سو سے زیادہ بستیوں کو نذرآتش کیاگیا ہے۔ عورتوں کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے، بچوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، سینکڑوں لڑکیوں نے اپنے آپ کو خود سمندر کے سپرد کیا۔

برما کے مسلمانوں کی تاریخ خون سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، اس سے پہلے بھی 1941ء میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور 5 لاکھ کے قریب بےگھر ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1950ء، 1987ء اور 1991ء میں بھی لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی تھی۔ مصیبت کی حالیہ گھڑی میں جب برمی مسلمانوں سے نہ رہا گیا تو انہوں نے بنگلہ دیش کی طرف ر خ کرنا شروع کیا۔ مگر وہاں کی سیکولر حسینہ واجد حکومت نے بھی پناہ دینے سے انکارکیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت لاکھوں میں مسلمان کھلے آسمان تلے بنگلہ دیش اور برما کی سرحدوں پر کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ مصر سے شائع ہونے والے اخبار الوطن کے مطابق وہاں کیمپوںں میں مسلمانوں کو شراب، خنزیر کا گوشت کھانے اور مرتد ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے دلوں سے اللہ اور محمدﷺکے محبت کو نہ نکال سکے۔

آج اسلام دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے۔ مگر افسوس اس بات پر ہے کہ امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ گئی ہے اور ہر ایک کو اپنی اپنی ٹولی کی فکر آن پڑی ہے۔ اُدھر اغیار قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف مختلف طریقوں سے پروپیگنڈا کرکے اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم مسلمانوں کی حالت دیکھیں، ہم اپنوں کے ہی خلاف پیش پیش رہتے ہیں۔ 57 مسلم ممالک دنیا میں ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر ان کے یہاں ایسی غلامی کی زنجیریں بندھی ہوئی نظر آتی ہے جہاں سے ان کو اپنے ہی کرتوتوں کی بنا پر نجات ملنا گویا دور کی بات لگ رہی ہے۔ پاکستان کے نام نہاد عوامی رہنماؤں نے امریکہ کی خوشنودی کے لیے اس ملک کی ساخت کو کافی نقصان پہنچایا، جس نے علامہ اقبالؒ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اورڈاکٹراسراراحمدؒ کے علاوہ بہت ساری عظیم شخصیتوں کو جنم دیا۔ افغانستان کے حامد کرزئی نے اپنی صدارتی کرسی کو بچانے کے لیے وہاں کے نہتے لوگوں کو تختہ مشق بنایا ۔شام کے وزیراعظم بشارالاسد لاکھوں لوگوں کو مروانے کے بعد بھی اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح باقی مسلم ممالک کی حالت بھی ناگفتہ بہ بنی ہوئی ہے۔ رسول پاکﷺ کا وہ ارشادمبارک آج کے حالات پر صادق آتا ہے، جس میں آپ ؐنے فرمایا کہ ایک وقت میری امت کا وہ آئے گا، جب کفار مسلمانوں پر اس طرح حملہ آور ہوں گے، جیسے بھوکے دسترخوان پر لپک پڑتے ہیں تو صحابہ کرام نے عرض کیا۔ کیا مسلمان اس وقت تعداد میں کم ہوں گے تو فرمایا گیا نہیں! تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے لیکن انہیں وہن کی بیماری عائد ہوجائے گی یعنی دنیا سے محبت اور موت کا خوف لاحق ہوجائے گا۔ دنیا کی 70 فیصد معدنیات مسلم ممالک کے پاس ہونے کے باوجود بھی مفلسی، غریبی اور بزدلی جیسی کیفیت ان پر طاری ہے اور حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دینے کے بجائے لینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کا کیسے تحفط ممکن ہو سکتا ہے؟ ستم ظریفی دیکھیے کہ برما کے مسلمانوں کے قتل و غارت پر کس طرح سے عالمی میڈیا نے خاموشی اختیار کی ہے۔ کچھ مسلم ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا بھی اس پر خاموش ہے۔ برما کے مسلمانوں کی مستقل تحفظ کے لیے تمام مسلم دنیا کو ایک طرف برما کی جابر حکومت پر دباو ڈالنا ہوگا اور دوسری طرف امدادی کارروائیوں کو وہاں جاری کرنا ہوگا۔