‎ہندوستانی ٹھگ اور امیر علی ٹھگ کی داستان - ثناء اللہ خان احسن

ٹھگ سنسکرت کے اصل لفظ ستھگہ سے ماخوذ اردو زبان ٹھگ مستعمل ہے ۔ اس کے معنی ہیں چھپا ہوا یا پوشیدہ۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1672ء میں عبداللہ قطب شاہ کے "دیوان" میں ملتا ہے۔ آج کے زمانے میں ٹھگ کا لفظ چالاک اور مطلب پرست آدمی سے لے کر دھوکے باز، جرائم پیشہ افراد تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی لفظ امریکہ میں ڈاکوؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اپنی شناخت یا نیّت چھپانے کا تردد نہیں کرتے۔ لیکن اصلی تے وڈّے ہندوستانی ٹھگ، اپنے شکار پر آخر تک اپنی شناخت یا نیّت ظاہر نہیں کرتے تھے۔ یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اگر ایک ٹھگ ناکام رہتا تو وہ اپنے شکار کو دوسرے علاقے کے ٹھگ کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔ ان کا بڑا ہتھار رومال یا پھندا ہوتا تھا، جس سے وہ آناً فاناً اپنے شکار کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے۔ یہ لوگ کالی دیوی کے پچاری تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کالی دیوی ہی ان سے یہ جرائم کراتی اور ان کی حفاظت کرتی ہے۔ لاکھوں آدمی ان کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ ان ٹھگوں نے تین سو سال تک ہندوستان میں خوف و دہشت پھیلائے رکھی۔ اگر انگریز ہندوستان نہ آتے تو شاید یہ ٹھگ کبھی ختم نہ ہو پاتے۔

‎انگریز ہندوستان پر قبضے کے دوران اپنی جن سماجی کامیابیوں کا تذکرہ بہت فخر سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک ٹھگوں کے منظم گروہوں پر قابو پانا ہے، جو کہ پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تین سو سال تک ہندوستان بھر کے راستوں میں دھڑلے سے منڈلاتے رہے۔ ان کی وارداتیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے قابو پانے کے لیے کیپٹن ولیم سلی مین کی سربراہی میں ایک سپیشل سیل تشکیل دیا گیا۔ اس سیل کی تفتیش اور کارروائی کی تفصیلات نے انگلستان میں اتنی سنسنی پھیلا دی کہ رڈیارڈ کپلنگ سمیت بہت سے لوگوں نے ٹھگوں کے قصے لکھ لکھ کر ٹھگ کا لفظ انگریزی زبان میں مستقلاً شامل کر دیا۔ سنسنی کا مزید اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور کی ملکہ وکٹوریا نے اسی موضوع سے متعلق ایک ناول "کنفیشن آف اے ٹھگ" چسکے لے کر پڑھا، جس میں ایک حقیقی سلطانی گواہ سیّد امیر علی نامی ٹھگ کے اعتراف جرم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

‎ولیم سلی مین کی اس زمانے (1830-1840) کی تفتیش کے مطابق ٹھگ توہم پرست قاتلوں کا گروہ تھا جو بھوانی نام کی دیوی کے پجاری تھے، اور نسل در نسل ٹھگی سے وابستہ تھے، ان کا پختہ یقین تھا کہ صرف ان کو اس کام کا خدائی حق ہے اور جرائم پیشہ لوگوں کا کوئی اور گروہ اس نام سے کام کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ (یعنی جملہ حقوق محفوظ)

بھوانی کے پجاری:
ان ’ٹھگوں‘ کی اپنی ایک الگ دنیا تھی جو پہلے پل سے آخر تک ایک پُراسراریت کی دُھند میں لپٹی رہی۔ یہی سبب ہے جو آج تک ٹھگوں کے زمانے، اُن کی رسومات اور ٹھگی کی تکنیک پر پُراسراریت کی چادر تنی ہوئی ہے۔ ’ٹھگی‘ کے عمل کو جائز قرار دینے کے لیے دیومالائی داستانوں کا سہارا لیا گیا اور ایک مضبوط کہانی کو بنیاد بنا دیا گیا۔ یہ کہانی ہم کو ضرور سُننی چاہیے کہ اِس کہانی کے نشیب و فراز نے ایک مضبوط انسانی جتھا بنانے کا کام کیا۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ، ’پرانے زمانے کی بات ہے کہ اس دنیا میں ایک عفریت کا قبضہ ہوگیا تھا اور وہ ان تمام انسانوں کو، جو پیدا ہوتے تھے، ہڑپ کرجاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں دنیا سے آبادی ختم ہونا شروع ہوگئی۔ آخرکار کالی دیوی انسانوں کے بچاؤ کے لیے آگے آئی، اس نے عفریت پر حملہ کر کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، مگر ہوا یہ کہ اُس کے خون کے ہر قطرے سے ایک عفریت پیدا ہوگیا، البتہ دیوی ان کو قتل کرتی رہی، مگر اُن کے خون کے قطروں سے عفریتوں کی تعداد برابر بڑھتی رہی، یہاں تک کہ اُن کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ گئی۔ دیوی نے تھک ہار کر اور مایوس ہو کر سوچا کہ انہیں قتل کرنے کا دوسرا طریقہ ڈھونڈنا چاہیے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ دیوی نے اپنی ذاتی کوششوں کو ترک کر دیا اور اپنے پسینے سے دو آدمیوں کو پیدا کیا اور انہیں رومال دیے تاکہ وہ ان عفریتوں کا خون بہائے بغیر رومال سے گلا گھونٹ کر ماریں۔ حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور عفریتوں کو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ کام کی انجام دہی کے بعد ان دونوں نے اپنے رومال دیوی کو واپس کرنے چاہے، لیکن دیوی نے رومال واپس لینے سے انکار کر دیا اور دونوں سے کہا کہ، ان رومالوں کو وہ اپنے شاندار کارنامے کی یاد میں اپنے پاس رکھیں، بلکہ ان کو استعمال کرکے منافع بخش ٹھگی کے پیشے کو اختیار کریں تاکہ ان کی آنے والی نسلیں پھلیں پھولیں۔‘

ایسی ہی کہانیوں نے عقیدے کا روپ دھار لیا اور گناہ کا تصور ان تصورات کے جنگل میں کہیں بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح گم ہوگیا۔ تاریخ کے صفحات میں سب سے پہلے ہمیں ’تاریخ فیروز شاہی‘ (1358ء-1266ء) میں ٹھگوں کا ذکر ملتا ہے۔ مگر اس تذکرے میں بھی ٹھگوں سے نہایت نرم رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاریخ فیروز شاہی کے مصنف ’ضیاء الدین برنی‘ جن کی زندگی کے آخری برس ’فیروز خان تغلق‘ کے قید خانے میں گزرے وہ تحریر کرتے ہیں، ’کچھ ٹھگ شہر میں گرفتار کیے گئے۔ ان ایک ہزار سے زائد ٹھگوں میں سے ہی ایک نے انہیں گرفتار کروایا تھا۔ سلطان جلال الدین نے اُن میں سے ایک کو بھی قتل نہیں کیا اور سب کو حکم دیا کہ کشتیوں میں سوار کر کے ان کو بنگال کی طرف لکھنوتی کے علاقے میں لے جاکر چھوڑ دیں تاکہ یہ ٹھگ مجبوراً لکھنوتی کے علاقے ہی میں پڑے رہیں اور پھر اس طرف نہ آسکیں۔‘ یہ احکامات تقریباً 700 برس قبل ایک سلطان نے جاری کیے تھے۔ ان احکامات میں ایک چھپی ہوئی پُراسراریت اور عجیب ڈر محسوس ہوتا ہے۔

جس طرح کسی نے چغلی کھا کر ٹھگوں کے کسی گروہ کو قانون کے حوالے کیا اور اتفاق سے وہ خود کسی بیماری میں مبتلا ہوکر مرگیا یا پھر کسی وبائی کی وجہ سے اُس کے خاندان کے کچھ لوگ مرگئے یا بیمار پڑگئے تو یہ ’کالی ماتا‘ کا انتقام ہی سمجھا جاتا تھا۔ ٹھگوں نے کالی ماتا پر جو بھروسہ رکھا اور جو ایمان رکھا، وہ کمال حد تک تھا۔ ٹھگوں کے گروہوں میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ ویسے تو یہ افراد مذہبی طور پر اپنی اپنی جگہ پکے ہندو اور پکے مسلمان ہوتے، مگر جیسے ’ٹھگ برادری‘ میں آجاتے تو وہ کالی ماتا کے بھگت ہوجاتے اور ٹھگوں کی بنائی ہوئی روایات پر سچے دل اور ایمان و یقین کے ساتھ عمل کرتے۔ 1843ء میں جرمن سیاح ’لیوپولڈ اورلچ‘ نے ٹھگوں کے حوالے سے انتہائی باریک بینی سے تحقیق کی، وہ لکھتے ہیں کہ، ’یہاں ٹھگوں میں ہندو اور مسلمانوں کے سوا برہمن ٹھگ بھی ہیں۔ ٹھگوں کی اپنی علیحدہ زبان کے ساتھ اشارے اور علامتیں بھی الگ ہوتی ہیں۔ یہاں مختلف ٹھگوں کی کئی اقسام ہیں، جیسے ’جمالدھی ٹھگ‘، ’ملتانی ٹھگ‘، ’چنگیزی‘ یا ’ناٹکی ٹھگ‘ جو ملتانیوں کی ایک شاخ ہے۔ ’سوسی ٹھگ‘ بھی ہیں اور یہاں دریائی ٹھگ ہیں جو دریاؤں میں کشتیوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔‘

مسافروں کے شکار کے لیے ٹھگ پہلے سفر پر جانے والی ٹولی کے متعلق معلومات حاصل کرتے، معلومات کے لیے شہروں میں اُن کے اپنے ذرائع ہوتے، پھر ملی ہوئی معلومات کے مطابق وہ راستے کے متعلق پلاننگ کرتے اور بڑے سکون سے شکار تک پہنچتے۔ اگر قافلے کے لوگوں کو ان پر شک ہوجاتا تو وہ ان سے الگ ہو جاتے اور دوسری ٹھگوں کی ٹولی بھیس بدل کر اس قافلے میں شامل ہوجاتی۔ کبھی کبھار 5 سے 6 ٹولیوں کے بھیس بدلنے تک وہ اپنے شکار کا پیچھا کرتے رہتے۔ ٹھگوں کی یہ ٹولیاں صرف مضبوط اعصاب رکھنے والوں کی ہی نہ ہوتیں بلکہ وہ اچھے اور ذہین فنکار بھی ہوتے۔ مختلف روپ دھارنے کے لیے اپنے ساتھ ضرورت کا ہر سامان رکھتے، غریب چرواہے سے لے کر مالدار زمیندار تک کا بھیس بدلنے کے لیے ضروری ہر سامان ان کے پاس ہوتا۔ جب وہ سمجھ جاتے کہ قافلے کے لوگ ان پر اعتبار کرنے لگے ہیں تو پھر وہ وقت آجاتا جس کے لیے وہ ٹھگ ساری محنت کرتا جاتا اور انتظار کرتا۔ اُس کی کوشش ہوتی کہ آخری لمحات جن میں سارے قافلے کو موت کی نیند سُلانا ہے، وہ عمل جتنا جلد ہوسکے اُتنا اچھا۔ وہ یہ سارے کام ایک منظم حکمت عملی کے تحت کرتے، ان کی پوری ٹیم کو مخصوص زبان اور اشاروں کے ذریعے بتا دیا گیا ہوتا تھا کہ یہ آخری لمحے کس جگہ پر ہوں گے، اس طرح ان کے دیگر ساتھی اتنے گڑھوں کا پہلے سے انتظام کر دیتے کہ لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں دیر نہ ہو، کیونکہ اس راستے سے مسافروں کی دوسری ٹولی یا قافلہ کسی وقت بھی آسکتا تھا۔ اپنا ہدف حاصل کرنے کے بعد وہ اکثر اُسی جگہ ڈیرہ ڈال لیتے اور دفن لوگوں کی قبروں کے اوپر کھانا وغیرہ بناتے، وہیں رات کا قیام کرتے اور صبح ہوتے ہی نکل پڑتے۔ ایسا وہ محض اس لیے کرتے تھے کہ کھدائی کا کوئی نشان باقی نہ رہے اور لوگوں کو اس جگہ پر کسی قسم کا شک نہ ہو۔ یہ اس قدر سفاک اور ظالم ہوتے تھے کہ عورتوں، بچوں اور شیر خواروں تک کو نہیں چھوڑتے تھے۔

فینی پارکس (Fanny Parkes) نے 1840ء میں ایک کتاب تحریر کی تھی ’واڈرنگ آف اے پلگرم این سرچ آف دی پکچریسک‘، اس میں ٹھگوں کے متعلق بنیادی اور مشاہداتی معلومات درج ہیں۔ اس کتاب میں ایک باب ہے، ’ایک ٹھگ کے اعترافات‘، جس میں ٹھگ کہتا ہے کہ، ’ہمارے ہاں پُرانے ٹھگوں کی عزت ہوتی ہے، اور وہ ٹھگ جو ضعیفی کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے، اُن کے شاگرد جنھوں نے ان سے رومال استعمال کرنا سیکھا ہوتا ہے، وہ مالی طور پر اُن کی مدد کرتے ہیں۔‘ میں، ’گورنمنٹ گزٹ‘ میں چھپے اُس خط کو یہاں نقل کرنا چاہتا ہوں جو ’فینی پارکر‘ نے بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ چونکہ یہ ایک طویل خط ہے اس لیے مکمل نہیں، البتہ اُس کے کچھ حصے یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔

جناب اعلیٰ!
میں ان 11 ٹھگوں کی پھانسی کے وقت موجود تھا جو بھیلسہ کے قریب گرفتار کیے گئے تھے۔ اُن پر 35 مسافروں کے قتل کا الزام تھا (جن کی لاشیں بھوپال اور ساگر کے راستے میں مختلف جگہوں پر ملی تھیں) اس جرم کی سزا کے طور پر گورنر جنرل کے ایجنٹ ’مسٹر اسمتھ‘ نے انہیں پھانسی کی سزا دی تھی۔ جیسے ہی سورج طلوع ہوا اور ان 11 آدمیوں کو جیل سے باہر لایا گیا تو وہ لوگ پھولوں کے ہار پہنے ہوئے تھے اور بڑے سکون و اطمینان سے پھانسی کے تختے پر آئے، ان کے چہروں سے کسی بھی قسم کی پریشانی ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ جب انھیں پھانسی کے پھندے کے سامنے ایک ایک کرکے کھڑا کیا گیا، تو ان کے چہروں پر بشاشت آگئی اور سب نے مل کر ہاتھ بلند کیے اور یہ نعرے لگائے۔ ’بندھا چل کی جے، بھوانی کی جے‘۔ اگرچہ ان میں چار مسلمان، ایک برہمن اور دوسرے راجپوت و مختلف ہندو ذاتوں والے بھی تھے، مگر سب کا نعرہ ایک ہی تھا۔ اس کے بعد وہ پھانسی کے تختے پر گئے اور اپنے ہاتھوں سے پھانسی کے پھندے گلے میں ڈال کر ایک بار پھر بھوانی کا نعرہ بلند کیا۔

ان کا سالانہ میلہ مرزاپور سے چند میل دور مغرب میں بارشوں کے موسم میں لگتا ہے۔ اس میلے میں پورے ہندوستان سے قاتل اور لٹیرے جمع ہوتے ہیں۔ جب وہ اس میلے کے لیے سفر کرتے ہیں تو کوئی جرم نہیں کرتے۔ یہ کسی مہم کے لیے نکلنے سے پہلے جو رسومات ادا کرتے ہیں اُن کا زیادہ تر تعلق فطرت سے ہوتا ہے۔ شگون کے لیے وہ، دائیں طرف کو اچھا اور بائیں کو بُرا سمجھتے ہیں۔ یہ تیتر، ہرن کے شگون کو اچھا سمجھتے ہیں جبکہ اگر اُن کے سامنے بھیڑیا راستہ پار کرلے تو وہ اُس کو بُرا سمجھتے ہیں۔ اگر وہ کسی سیار کو دن میں اور تیتر کو رات میں بولتا سُن لیں تو وہ اُس علاقے کو فوراً چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ کسی واردات پر جانے سے پہلے باقاعدہ مہورت نکالتے تھے۔ اگر واردات پر جاتے وقت گھر سے نکلتے ہی گدھے کے رینکنے کی آواز سنائی دیتی تو یہ بدشگن تصور کیا جاتا اور یہ اپنا ارادہ ملتوی کر کے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ان کی اپنی ایک خفیہ زبان اور کوڈ ورڈز بھی ہوتے تھے جنہیں صرف ٹھگ ہی سمجھ سکتے تھے۔

ٹھگوں کی پُراسرار ٹولیاں ہندوستان کے سفری راستوں پر اپنی موت کا جال بچھاتیں اور لوگوں کو اُن میں پھنسا کر مار ڈالتیں۔ 1830ء میں ایک ہزار سے زائد ٹھگ اپنے اس عمل میں مصروف تھے، اور ایک برس میں اندازاً 30 ہزار لوگوں کو قتل کردیتے تھے۔ یہ صورتحال انگریزوں کے لیے ٹھیک نہیں تھی، کیونکہ اس طرح راستے غیر محفوظ ہوئے، اور تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انگریزوں کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کریں اور تجارت کو فروغ دیں۔ (ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں، ’اس مقصد کے لیے گورنر جنرل ’ولیم سلیمن‘ کو ٹھگی کے خاتمے کے لیے مقرر کیا گیا۔)

‎آیندہ برسوں میں ولیم سلی مین نے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں، جس سے ٹھگوں کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ اس نے ایک منظم طریقے سے کام کیا اور 1831ء سے 1837ء تک 30 ہزار ٹھگوں پر مقدمہ چلا کر انہیں سزا دی گئی۔ ان میں سے اکثر کو پھانسی کی سزا دی گئی اور سلی مین لوگوں کا ہیرو بن گیا۔ جبل پور کے شمال مشرق میں سلی مین نام کا گاؤں اب بھی موجود ہے۔ 1855ء میں وہ مختلف اہم عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد اپنے وطن روانہ ہوا تو برصغیر قریب قریب ٹھگی سے نجات پا چکا تھا۔ سلی مین دفتر میں بیٹھ کا ماتحتوں کو احکامات جاری کرنے کے بجائے، میدان عمل میں خود اترا۔ وہ عام لوگوں میں گھل مل جاتا تاکہ مقامی رسوم و رواج سے آگاہی حاصل کر سکے۔ وہ سرکاری کاغذات کو پڑھنے میں بڑی مغز ماری کرتا۔ اٹھارہ سو تیس میں پہلی بار اس نے ٹھگوں کو پکڑا اور انھیں سزائیں ملنا شروع ہوئیں۔ پرانے اور گھاگ ٹھگوں کو اس نے وعدہ معاف گواہ بنایا اور ان سے ٹھگوں کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کیں۔ ان کی زبان کو جاننے کی کوشش کی۔ وعدہ معاف گواہوں کی بڑی دیکھ بھال ہوتی اور ان کے بچوں کو الاؤنس بھی ملتا۔ اس نے ٹھگوں کا باقاعدہ اندراج کیا۔ ان کے اجداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ ان کی مخصوص زبان رماسی کی لغت بنائی۔ مذہبی عقیدوں کے بارے میں جانا۔ بھرتی کے طریقہ کار کے بارے میں تحقیق کی۔ ٹھگوں کے بارے میں اس کی معلومات سے خود ٹھگ بھی حیران رہ جاتے۔ اس نے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے ٹھگوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی اور ایسے قوانین بنائے کہ وہ ساری عمر جیل میں رہیں۔ ٹھگ جیلوں میں گئے، کالے پانی گئے، پھانسی گھاٹ کو اپنے لیے منتظر پایا۔ سزا کے خلاف اپیل ہوتی اور نہ ہی سزا کی معافی۔ جج اور سلی مین کے دوست ایف سی اسمتھ کا خیال تھا کہ کوئی ٹھگ رحم کا مستحق نہیں۔ سلی مین بتدریج اپنی مہم کا دائرہ وسیع کرتا گیا۔ 1836ء میں تبدیلی قانون کے بعد وہ پورے ہندوستان میں انسداد ٹھگی کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا گیا۔ دوسرے مجرموں کے ساتھ رو رعایت پھر بھی ہو جاتی لیکن ٹھگوں سے کسی قسم کی نرمی نہ برتی جاتی۔ عظیم دربار میں جب ملکہ وکٹوریا کو قیصر ہند قرار دیا گیا تو کالے پانی کے سزا یافتگان بہت سے ٹھگوں کو جیل سے رہائی تو مل گئی، لیکن وہ جزیرے کے صدر مقام سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔

‎ان لوگوں کا بنیادی مقصد اجنبی مسافروں کا قتل تھا۔ جو کسی بھی محّرک کے بغیر صرف اور صرف خون کی پیاس (ھڑک) بجھانے کے لیے ہوتا تھا۔ مال کی لوٹ مار ان کے لیے ثانوی چیز تھا۔ ٹھگوں کے اقبالی بیانات کے مطابق یہ لوگ کسی بھی مسافر کے مال اسباب کا لالچ کیے بغیر، بلا تخصیصِ مذہب، امیر اور غریب دونوں کو بلا امتیاز کاٹ ڈالتے تھے۔ (البتہ انگریزوں پر پکڑے جانے کے ڈر سے ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ ویسے اپنے ملک میں انگریزوں پر کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈالتا۔) یہ لوگ ایک کھلاڑی کی طرح اپنا "سکور" بہت فخر سے بیان کرتے تھے۔ ایک سلطانی گواہ بہرام نے سلی مین کے سامنے چالیس سال میں کم از کم نو سو اکتیس قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ (اس کا کہنا تھا کہ نو سو اکتیسویں قتل کے بعد اس نے گننا چھوڑ دیا تھا)۔ ایک اور سلطانی گواہ فتح خان نے اکیس سال میں پانچ سو چار مسافروں کو مارنے کا بتایا۔

‎ذیل میں بہرام ٹھگ سے کی گئی تفتیش کا ایک اقتباس ٹھگ ذہنیت کو عیاں کرتا ہے۔

‎"سلی مین: معصوم لوگوں کو دوستی کا جھانسہ اور جھوٹا احساس تحفظ دلا کر بعد میں سفاکی سے قتل کرنے پر کبھی پچھتاوا ہوا؟
"بہرام: بالکل نہیں صاحب! آپ خود شکاری ہیں۔ کیا آپ جانور کا پیچھا کر کے اس کو اپنی چالاکی سے زیر کرنے کے بعد، اس کا سر اپنے قدموں میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ نہیں؟ ٹھگ انسانوں کا شکار کر کے اسی طرح کی راحت محسوس کرتے ہیں۔ صاحب! آپ کے لیے درندے کی جنگلی جبلت پر قابو پانا کھیل ہے، جبکہ ٹھگ کو ذہین اور اکثر اوقات مسلح مسافروں کے خوف، ذہانت اورشک پر قابو پانا ہوتا ہے، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو راستے کی خطرناکی کے پیش نظر پہلے ہی چوکنّے ہوتے ہے۔ ذرا اس خوشی کا اندازہ کریں جو ہمیں اس طرح کے لوگوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے، ان کا شک دوستی اور اعتماد میں بدلتے ہوئے دیکھ کر ہوتی ہے، حتٰی کہ ہمارا رومال ان کو شکار کر لیتا ہے۔ پچھتاوا؟ کبھی بھی نہیں۔ بس صرف خوشی، سکون اور اطمینان!"

‎ٹھگ ٹولیوں میں شکار کرتے تھے۔ ٹولی کے ہر ٹھگ کا کام مختلف ہوتا تھا۔ مثلاً ایک کا کام شکار کے گلے کو رومال سے جکڑنا ہوتا تھا۔ جبکہ باقی ٹھگ ٹولے کے ذمہ شکار کے ہاتھ پاؤں قابو کرنا اور اس کے نازک حصوں پر ضربیں لگانا ہوتا تھا حتٰی کہ رومال والا ٹھگ شکار کا گلا دبا کر اس کا کام تمام کر دے۔ ٹھگ اپنے شکار کو مارنے کے لیے رومال کے علاوہ کسی قسم کے ہتھیار کا استعمال نہیں کرتے تھے، کیونکہ ٹھگی کے اصول و ضوابط کے تحت قتل کے دوران مقتول کا خوں بہانا ممنوع تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ لاش کے ٹکڑے کرتے تاکہ دفنانے کے بعد لاش پھولنے سے زمین اوپر ابھر نہ آئے اور خوامخواہ وہاں سے گزرنے والے کو شک پیدا نہ ہو۔ دفنانے کا کام اتنی ہوشیاری اور جلد بازی میں کیا جاتا کہ ٹھگ خود بھی کچھ عرصہ بعد قبر کی نشاندہی نہیں کر سکتے تھے۔ اس تمام کام کی انہیں بچپن سے تربیت ملتی تھی۔

‎یہ لوگ غضب کے اداکار تھے۔ اگر انہیں محسوس ہوتا کہ شکار ان کی طرف سے مشکوک ہے، تو یہ اس سے کسی بہانے سے بچھڑ کر کسی اور سمت میں نکل جاتے اور ٹھگوں کی دوسری متحرک ٹولیوں کی طرف پیغام رساں بھیج کر ان کو شکار کی انٹیلی جنس فراہم کرتے۔ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا کہ کوئی ان کے ہاتھ سے بچ کر نکل جانے میں کامیاب ہو جاتا۔ ٹھگ پورے کے پورے قافلے بھی قتل کر دیتے تھے۔ وہ اس طرح کہ ٹھگوں کی ٹولی غریب مسافروں کے بھیس میں کسی قافلے سے درخواست کرتی کہ انھیں رستے میں جان کے ڈر کی وجہ سے قافلے کے ساتھ سفر کی اجازت دی جائے، جو کہ اہل قافلہ (جو کہ اکثر اوقات مسلح ہوتے تھے) ان کی تھوڑی سی غیر مسلح تعداد اور بےسروسامانی دیکھ کر دے دیا کرتے تھے۔ اگلے چند دنوں میں یہ اہل قافلہ سے دوستی اور اعتماد کا رشتہ قائم کر لیتے۔ اس دوران ٹھگوں کی دوسری ٹولیاں، آہستہ آہستہ اسی طریقے سے قافلے میں ہوتی رہتیں، حتٰی کہ اصل اہل قافلہ کے مقابلے ٹھگوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی۔ ایسا ہونے کے بعد ہر مسافر کے ساتھ ایک یا زیادہ ٹھگ نتھی ہو کر حملے کے سگنل کا انتظار کرتے۔ حملے کا سگنل عموماً "تمباکو لے آؤ" کا نعرہ ہوتا، جس کے سنتے ہی ٹھگ اپنے شکاروں کے گلوں میں رومال کس کر اتنی مہارت سے ان کا دم نکال دیتے کہ مسافر کو لڑنے یا فرار کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس کے بعد مقتولین کو طے شدہ مقامات پر پہلے سے کھدی ہوئی قبروں میں یا پھر قافلے والوں کے خیموں کے نیچے ہی قبریں کھود کر دفن کر دیا جاتا۔ ایک اور طریقہ واردات میں، قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک ٹھگ شدید بیماری کی اداکاری شروع کر دیتا، جس کا دوسرے ٹھگ کئی طریقوں سے ناکام علاج کرنے کی کوشش کرتے۔ آخر کار، اہل قافلہ کو یہ باور کروا کر ایک پانی کے پیالے کے گرد گلے ننگے کروا کر بٹھا دیتے کہ اب ایک خاص جادو سے اس کا علاج کیا جائے گا۔ اس کے بعد سب کو آسمان کی طرف منہ کر کے تارے گننے پر لگا دیا جاتا، اور پھر اچانک رومال پھینکے جاتے اور۔۔۔۔۔۔

‎ٹھگوں کے پاس اس طرح کے ان گنت داؤ تھے جنہیں وہ اپنے شکار کے مطابق استعمال کرتے۔ لیکن ان سب داؤ میں ایک ہی چیز استعمال ہوتی تھی، ٹھگ کا رومال جس کے دونوں کونوں میں انہوں نے گرہیں دی ہوتیں۔ ان کے بارے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ سال کے زیادہ تر حصہ میں ٹھگ عام لوگوں کی طرح اپنے علاقہ میں معزز اور ذمہ دار شہری بن کر رہتے، جبکہ "سالانہ چھٹیوں" میں اپنے علاقے سے دور جا کر، اجنبی مسافروں کو اپنی نرم گفتاری اور چالاکی سے لبھا کر، ان کی عمر، جنس، رنگ، نسل، کردار دیکھے بغیر سفاکی سے قتل کر دیتے اور پھر دوبارہ اپنے علاقے میں واپس جا کر عام آدمی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے۔ ہر واردات کے بعد یہ ایک خاص طریقے سے بھوانی کی پوجا اور نذر یا بھینٹ بھی چڑھاتے تھے۔ ٹھگوں کے جرائم عرصہ دراز تک منظر عام پر نہ آتے کیونکہ یہ عمومی طور سے جرم کے کسی گواہ کو زندہ نہ چھوڑتے۔ مزید یہ کہ اس زمانے میں جو شخص کلکتہ سے دہلی تک جاتا تھا، اس کو پہنچتے پہنچتے کئی ماہ لگ جاتے، جس کی وجہ سے رستے میں ہوئی کسی بھی واردات کا پتہ مہینوں بعد لگتا، جب کافی دیر ہو جانے کے بعد اس شخص کی ڈھنڈیا مچتی اور پورے قافلے کے غائب ہونے کا پتہ چلتا۔ اس وقت تک ٹھگ کوئی بھی ثبوت چھوڑے بغیر واپس اپنی عام زندگی کی طرف لوٹ گئے ہوتے۔

امیر علی ٹھگ:
‎جب ہندوستان میں انگریزوں نے ٹھگوں کے خلاف مہم شروع کی تو سید امیر علی کو 1832ء میں اپنے ہی دو ساتھی ٹھگوں کی غداری کی وجہ سے سوگر سے گرفتار کر کے نظام دکن کے علاقے میں بھیجا گیا، جہاں کافی مزاحمت کے بعد امیر علی نے سلطانی گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی، اور اپنے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کروا دیا۔ اپنی اسیری کے دوران میں اس نے اپنی پوری زندگی کے واقعات بیان کر دیے جن کو یکجا کر کے مصنف نے یہ ناول ترتیب دیا۔ یہ ناول 1839ء میں کیپٹن فلپ میڈو ٹیلر نے انگریزی زبان میں لکھا تھا۔ اپنے زمانے کا یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول رہا ہے۔ ملکہ برطانیہ نے بھی اس ناول میں بڑی دلچسپی لی تھی۔ آخری گرفتاری کے وقت امیر علی کی عمر لگ بھگ 40 سال تھی۔

امیر علی کے اصل باپ کا نام یوسف خان تھا اور وہ پٹھان تھا۔ وہ لوگ دہلی کے نزدیک مالوہ کے ایک گاؤں ایکلیرا میں رہتے تھے۔ کسی وجہ سے یوسف خان نے ایکلیرا چھوڑ کر اندور جانے کا ارادہ کیا اور ایکلیرا کے اپنے سارے اثاثے بیچ کر اپنی بیوی اور امیر علی کے ساتھ اندور کی راہ لی۔ اپنی بیٹی کو اس نے گاؤں میں ہی چھوڑ دیا کیونکہ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ سفر کے قابل نہ تھی۔ ان کی حفاظت کے لیے گاؤں کے چند مسلح نوجوان بھی ساتھ تھے۔ اس وقت امیر علی کی عمر شائد 5 سال رہی ہوگی۔ راستے میں اسماعیل نامی ایک ٹھگ نے یوسف خان کا اعتماد حاصل کر لیا اور دونوں پارٹیاں اب ساتھ سفر کرنے لگیں۔ اندور کے کافی نزدیک پہنچ کر اسماعیل کے مشورے پر یوسف خان نے اپنے محافظ واپس ایکلیرا بھیج دیے۔ اس کے بعد ٹھگ ان پر ٹوٹ پڑے۔ یوسف خان کو اسماعیل نے اور اس کی بیوی (امیر علی کی ماں) کو گنیشا نامی ٹھگ نے گلے میں پھندا ڈال کر مار ڈالا۔ گنیشا نے امیر علی کو بھی مارنے کی کوشش کی مگر اسماعیل نے اسے بچا لیا اور اسے بیٹے کی طرح پال پوس کر بڑا کیا اور ٹھگ بنا دیا۔ اسماعیل کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ امیر علی کو بچپن کے یہ واقعات یاد نہیں تھے مگر جب جیل میں ایک بوڑھے ٹھگ نے جو چشم دید گواہ تھا، امیر علی کے سامنے پوری کہانی دہرائی تو امیر علی کو بھی سب کچھ یاد آ گیا۔ اس وقت اس کا منہ بولا باپ اسماعیل جھالون کے راجا کے ہاتھوں ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کچل کر سزائے موت پا چکا تھا۔ مرنے سے چند منٹ پہلے اس نے امیر علی کو بتا دیا تھا کہ میں تمھارا باپ نہیں ہوں اور اس وقت امیر علی اس بات پر بڑا حیران ہوا تھا۔

انگریزوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد امیر علی نے سب سے پہلے گنیشا کو گرفتار کروایا جسے 20 ساتھیوں سمیت پھانسی دے دی گئی۔ سید امیر علی نے اقرار کیا کہ اس نے 719 انسانوں کو قتل کیا ہے اور اسے افسوس تھا کہ اگر اس کی زندگی کے 12 سال قید میں نہ گزرتے تو یہ تعداد 1000 سے اوپر ہوتی۔ سید امیر علی پانچ وقت کا نمازی تھا، باقاعدگی سے روزے بھی رکھتا تھا لیکن اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اپنی بِیٹی کو رقم پہنچانے کے لیے اس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم بھی کھائی تھی۔ نادانستگی میں اس نے خود اپنی اکلوتی سگی بہن کو بھی رومال کے پھندے سے ہلاک کر دیا تھا۔

اگرچہ بے شمار مصنفین نے فرنگیا کو سید امیر علی کا دوسرا نام بتایا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ فرنگیا ایک دوسرا ٹھگ تھا جو عمر میں امیر علی سے لگ بھگ دس سال چھوٹا تھا۔
‎فرنگیا بھی امیر علی کی طرح ٹھگوں کا ایک مشہور لیڈر تھا اور وہ بھی گرفتاری کے بعد سلطانی گواہ بن گیا تھا۔‬ سلیمین نے لکھا تھا کہ اگر 1824ء میں نرسنگپور میں، جہاں کا میں انچارج تھا، کوئی مجھے یہ کہتا کہ پیشہ ور قاتلوں کا ایک گروہ میرے کورٹ سے صرف 400 گز کی دوری پر کنڈلی نامی گاؤں میں رہ رہا ہے تو مجھے ہرگز یقین نہ آتا اور میں اسے پاگل سمجھتا۔ لیکن سوگر اور بھوپال کے درمیانی رستے پر صرف ایک دن کی مسافت پر منڈے سر نامی گاوں کے پاس سینکڑوں مسافروں کی لاشیں دفن تھیں حالانکہ میں اس پورے ضلع کا میجسٹریٹ تھا اور وہاں کے سارے چور ڈاکوؤں سے واقف تھا۔ وہاں کے دو زمیندار بھی ٹھگوں کو معاونت فراہم کرتے تھے۔ سلطانی گواہوں کی نشان دہی پر بہت سی قبروں کی قبر کشائی پر میں خود موجود تھا اور ہر قبر سے کئی کئی لاشیں برآمد ہوئیں۔‫ چند انگریز افسروں کی تدبیر سے ہز‬اروں ٹھگوں پر مشتمل ان منظم گروہوں کا چند سال کے اندر قلع قمع ہوگیا۔

(اس مضمون کی تیاری میں ڈان میڈیا گروپ پر ابوبکر شیخ صاحب کے آرٹیکل، جوانی پٹے کا بلاگ، چند ویب سائٹس، امیر علی ٹھگ کے تاریخی کارنامے، کنفیشنس آف اے ٹھگ اور وکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے۔)