روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے - ارشد علی خان

پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی رواں دواں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے جو بھی وعدے کیے، وہ اُن کو پورا کرنے میں دل و جان سے لگے ہوئے ہیں، چاہے اس میں کسی کا جتنا بھی نقصان ہو۔ ماہرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا گیا ہے اور اُن کو پانچ سال کا عرصہ بہرصورت مکمل کرنا چاہیے، تاہم اب ایسا بھی نہیں کہ آپ سو دفعہ کی ہوئی اپنی باتوں سے یوٹرن لے لیں اور کوئی کچھ بھی نہ کہے۔

تبدیلی سرکار کو حکومت سنبھالے دو ماہ سے زائد ہوچکے ہیں، تاہم ان پچاس دنوں میں حکومتی سمت کی سمجھ کم از کم مجھے تو نہیں آرہی۔ کسی کو حکومتی سمت کی سمجھ آئی ہو تو مجھ نالائق کوبھی سمجھایا جائے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے 50یا100دن کچھ بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس طرح سے حکومتوں کی کارکردگی جانچی جا سکتی ہے، تاہم تحریک انصاف نے 100روزہ پلان کا اعلان کرکے خود ہی اپنے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر وہ خودکشی کو سمجھتے ہیں، یاد رہے ان کا یہ بیان حکومت میں آنے سے قبل کا ہے جب وہ ببر شیر کی دھاڑا کرتے تھے۔ وزیر خزانہ اسد عمر بھی مسند سنبھالنے کے بعد یہی باور کراتے رہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس کسی صورت نہیں جائے گی اور اسی لیے قوم نے منی بجٹ میں ہرقسم کے اضافے کو دل سے قبول کیا، تاہم اب موصوف اپنی ٹیم کے ساتھ آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات اور مذاکرات کرنے کے لیے انڈونیشیا سے ہو آئے ہیں۔ منی بجٹ سے پہلے گیس و بجلی سمیت کئی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ منی بجٹ میں بھی ضروریات زندگی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس بات کی تکرار وزیراعظم عمران خان سمیت ان کے دیگر اعلی دماغ تواتر سے کر رہے ہیں کہ ان کے اٹھائے گئے اقدامات امیروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ہیں اور ان اقدامات کا اثر متوسط اور غریب طبقے پر نہیں پڑے گا۔ یہاں ایک بات شاید تحریک انصاف کی غریب پرور حکومت کی توجہ کے لیے بتانا ضروری ہو کہ امیروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے جو بھی اقدامات وہ اٹھا رہے ہیں، اس کی سزا مجھ جیسے متوسط طبقے کے لوگوں کو ہی برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ انڈسٹری کے لیے گیس مہنگی کرنے کا نتیجہ میں یوں بھگت رہا ہوں کہ سیمنٹ کی بوری 500 سے 700 روپے پر چلی گئی ہے۔ سریے کا ایک ٹن 11000ہزار روپے مہنگا ہوگیا ہے۔ ٹول ٹیکس، سی این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کو ہی منتقل ہوتا ہے۔ اگر سیمنٹ اور سریا مہنگا ہوتا ہے تو ٹھیکیدار کا کچھ نہیں جاتا، مجھ جیسا متوسط طبقے کا فرد ہی وہ اضافہ برداشت کر رہا ہے۔ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا بھی یہی حال ہے ۔پس خدارا تحریک انصاف کے کرتا دھرتا کم از کم یہ تکرار چھوڑ دیں کہ ان کے اقدامات کا اثر غریب طبقے پر نہیں پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے سے قبل ہی ڈالر آسمان سے باتیں کرنا لگا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن میں ڈالر کی قیمت میں 9روپے کا اضافہ ہوا۔ آج بھی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 135.50 روپے پر فروخت ہوا۔ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ جاری ہے اور ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ڈالر کی قیمت 150روپے تک جائے گی۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کی صور ت میں امریکی ڈالر مزید مہنگا ہوگا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے سونے سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں۔ ایک تولہ سونے کی قیمت 62000 روپے کی بلندترین سطح تک جا پہنچی ہے۔ معاشی صورتحال کے قابو سے باہر ہونے اور ڈالر کے قیمت میں اضافے پر وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی زیر گردش ہیں، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے سے ایک بیان بھی میڈیا کی زینت بن چکا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ کو معیشت کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام روکنے کی وجہ سے بھی سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے جس سے سٹاک ایکسچینج میں لگے لوگوں کے اربوں روپے ڈوب رہے ہیں، لیکن پرواہ کسے ہے۔ جن کو پرواہ کرنی چاہیے، وہ تبدیلی لانے میں لگے ہوئے ہیں۔ تبدیلی کے لیے ووٹ دینے والوں کو اب اتنی قیمت توا دا کرنے ہی پڑے گی۔

وزیراعظم نے اپنے تازہ فرمان میں فرمایا ہے کہ ان کے اقدامات کے اثرات کا پتہ ایک سال کے اندر اندر لگے گا جبکہ اثرات پہلے 100دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہوں گے۔ آخر میں ایک بار پھر دعاگو ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور عمران خان پانچ سال تک بطور وزیراعظم پاکستان خدمات سرانجام دیں تاکہ کم از کم یہ گلہ نہ رہے کہ انہیں پورا وقت نہیں دیاگیا۔ ذرائع کے مطابق منصوبہ بھی یہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ سال دے کر نوجوان نسل کو سیاست اور سیاستدانوں سے ہی متنفر کر دیا جائے تاکہ نوجوان نسل نے جو سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی ہے وہ ختم کی جاسکے۔