بیٹیاں اور ان کے ساون کے اندھے ورثاء - محمد سلیم

ناجی عبدربہ (فرضی نام) ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والا یمنی تاجر ہے اور میرا بہت ہی پیارا دوست۔ صوم و صلاۃ کی پابندی تو تربیت سے ہے مگر اخلاق اُتم اور انکساری بے مثال۔

ناجی کی میرے سامنے شادی ہوئی اور اس کے بچے میری شفقت سے مستفید رہے۔ بڑی بیٹی شہد (فرضی نام) جو اب اٹھارہ کی ہے، کی آنکھوں کا ٹیسٹ ہم دونوں اس وقت کرانے گئے تھے جب وہ گیارہ سال کی تھی، اس کی پہلی عینک میں نے بنوا کر ہدیہ کی تھی۔

ناجی شہد کی نظر کی کمزوری کے اسباب بتا رہا تھا کہ شہد موبائل کی دیوانی ہے اور سوشل میڈیا (سنیپ چیٹ، واٹس ایپ اور چند دیگر میڈیاز) کے لیے بالکل پاگل۔ نہ موبائل ہاتھ سے رکھتی ہے اور نہ ہی اس سے نظر ہٹاتی ہے۔ شہد کے موبائل توڑے گئے، چھپائے گئے، شہد کو ڈانٹا ڈپٹا گیا، سرزنش کی گئی، مارا گیا مگر نتیجہ منفی رہا۔

کچھ ماہرین امراض نفسانی اور بہی خواہوں کے کہنے اور مشورے کے بعد اصلاح کا عمل گھر کے باقی افراد سے شروع ہوا۔ ناجی نے گھر میں رہتے ہوئے اپنا موبائل بالکل ترک کیا، بیوی کا چھڑوایا، چھٹی کے دن بچوں کے ساتھ اپنے پرائیویٹ ڈیرے “منتزہ” پر جا کر فٹبال کھیلنا، گھر پر بچوں کے ساتھ مل کر کیے جانے کھیل اور مشاغل، گھر سے باہر کیمپنگ، آؤٹنگ، سیاحت، بار بی کیو اور سیر و تفریح سے بچوں اور خاص طور پر بیٹی کی جان چھڑوائی گئی۔

ایک بیٹی کی عادت ترک کروانے کے لیے سارے گھر کا نظام تبدیل کر لینا؟ یہ سب کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کیا؟

نہیں جناب! ہرگز نہیں۔ ہر وہ، جو سمجھتا ہے کہ بیٹی کی تربیت اور اہتمام کا بدلہ جنت کی بشارت ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اور زمین و آسمان کی وسعتوں والی جنت مفت میں نہیں مل جایا کرتی، وہ بیٹی کو ایک کل وقتی ذمہ داری، قیمتی اثاثہ اور سرمایہ حیات سمجھتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔

اگر معاشرتی برائیوں کو ان ڈور اور آؤٹ ڈور میں تقسیم کیا جائے تو میرا ایک عرب دوست مجھے بتا رہا تھا کہ سعودی والدین تو گویا اس بات کو دل سے مان چکے ہیں کہ ان کی بیٹیاں سوشل میڈیا پر بہت خراب ہیں۔ مگر اچھا ہے کہ کم از کم گھر پر تو بیٹھی ہیں۔ (کچھ لائیو سٹریم میڈیا ایپس کے شوقین اس بات کو اچھا خاصا جانتے ہیں)۔ اور یہاں پر کسی مادر پدر آزاد معاشرے کی بات نہیں ہو رہی، ایک ایسے معاشرے کی بات ہو رہی ہے جو کئیوں کے لیے مثالی معاشرہ کہلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کی بنائی دنیا - محمد عامر خاکوانی

تمہید سے ہٹ کر ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ گویا ہمارے ہیرو کی محبوبہ کسی کی بہن یا بیٹی نہیں ہوتی ہوگی، کیونکہ اگر کوئی اس کی بہن کی طرف میلی آنکھ بھی دیکھ لے تو قیامت آ جائے۔ بس یہی سوچ کر لائیو سٹریم میڈیا پر کسی پاکستانی گروپ میں چلے جائیں، آپ کو کسی بچی کی "براڈ" پر ہزار سے کم لفنگے نہیں ملیں گے۔ اور یہ سب کے سب وہ لفنگے ہیں، جن کی اپنی بہنیں کسی اور "براڈ" پر ہزار پندرہ سو دوسرے لفنگوں کو تفریح دے رہی ہوں گی۔ پرائیویسی کا یہی تو فائدہ ہے کہ مستعار نام اور ناک سے لیکر پیروں تک دکھائے جا رہے، جسم کو کون پہچانتا ہے کہ یہ طیفے کی بیٹی ہے یا غلامے کی بہن۔

ضروری نہیں ہے کہ پاکستان میں ہر شخص اپنی بیٹیوں کی تربیت سے کنارہ کش ہے۔ کئی وہ بھی جو صبح چیخ پکار کرتے ہوئے اور دھاڑ دھاڑ کر بچوں بچیوں کو تیار کروا کر سکول پھینکنے اور واپس لانے جاتے ہیں۔ باقی کے وقت میں خاتون خانہ ہوتی جو باقی کی ذمہ داری کے لیے۔ اور اگر خاتون خانہ بھی کسی سوشل میڈیائی مرض کا شکار ہو تو ٹیوشن، سیپارے والا مولبی، سہیلی کا گھر، دوپٹہ پیکو کرانے جانے والا کام، نوٹس لینا، کمبائن سٹڈی، سہیلی کی بڑی کی مہندی، اُبٹن، مایوں اور سینکڑوں دوسرے کام ہوتے ہیں ناں بچیوں سے جان چھڑوانے کے لیے۔ (یہ کچھ زیادہ ہو گیا ہے ناں، چند مثالیں دیدوں پھر؟)

تھانے والے لیڈیز سٹاف کو "انٹرٹینمنٹ" کہتے تھے، اب باجی/بیٹی کہتے ہوں تو کچھ بعید نہیں۔

لوکل پروازوں میں ائیرہوسٹس کو انٹرنیشنل پروازوں تک رسائی کے دام پہلے تو کافی سخت تھے، اب صرف قابلیت اور لیاقت پر دے دیتے ہوں تو کچھ بعید نہیں۔

پوری بستی کی بچیوں کو مفت قران پڑھانے والی حاجن کے بیٹے کچھ بچیوں سے خاص فیس کا مطالبہ کرتے تھے، اب یہ تعلیم مکمل مفت ہوگئی ہو تو کچھ بعید نہیں۔ (ساون کے اندھے مت بنیے، میری ہر بات کے پیچھے ایک کہانی ہے جسے لکھا نہیں جا سکتا)۔

لاہور کے بڑے عالم دین کی بیٹی کا ٹیوٹر کے ساتھ معاشقہ روزناموں میں چھپتا تھا۔ اب ٹیوٹر نظریں نیچی کر کے پڑھاتے ہوں تو کچھ بعید نہیں۔

دیہات میں کپاس چننے والی، گوڈی اور بجائی کرنے والی دس دس سالہ بچیاں زمیندار کی دسترس سے محفوظ نہیں تھیں، اب یہ عمل رک چکا ہو تو کچھ بعید نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سماج کی روح کا بہترین عکس کیا ہے؟ عبدالباسط ذوالفقار

خبردار: سیالکوٹ کے دیڑھ بالشت داڑھی والے انگریزی کے استاد پر واویلا کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داریوں پر نظر ڈالیے۔ جہاں بچی کو بھیج رہے ہیں ادھر کا ماحول، فی میل اساتذہ کی موجودگی، مرد پرنسپل، مہتمم یا دیگر ذمہ دار کی اندر عدم موجودگی (بھلے وہ مرد اسلام کو سہارا دینے والا کھمبا ہی کیوں نہ ہو) آپ نے خود دیکھ لیا ہے؟

گھر میں آپ کا رویہ کیسا ہے؟ بچیوں کو کتنا اور کیسے وقت دے رہے ہیں؟ بچی کو کتنی شفقت، محبت اور اہمیت دیتے ہیں؟ بچیوں کو فزیکل ایکٹیویٹی، گھریلو مصروفیت اور خانہ داری میں کتنا شامل کیا جاتا ہے؟

آپ کی کتنی عمر ہے؟ عمر کے حساب سے آپ کے چونچلے اور معاشقے ماند پڑے ہیں یا آپ ابھی بھی اپنے آپ کو بچیوں بچوں پر فوقیت دے رہے ہیں؟

کیا آپ بچوں بچیوں سے جڑے ہر مسئلے کا حل پیسے سے نکالنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ بچے بچیوں کو فون کمپیوٹر پر لگا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ بچوں بچیوں کو باہر بھیج کر گھر میں اپنا سکون اور طمانیت محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ روزی روٹی کے چکر میں گھر میں مہمان اور زیارتی کے طور پر آتے ہیں؟

ساون کے اندھے نہ بنیے۔ عمران نعت خواں بھیڑیوں کی نسل کا ایک استعارہ ہے جو بے نقاب ہوا ہے۔ اس راہ میں ہر بھیڑیے نے ایک نیا بہروپ ڈھال رکھا ہے۔ گز بھر کی داڑھی رکھ کر، عملیات اور تعویذ لکھنے والا پیر بن کر، ٹیوٹر بن کر، سیپارے والا مولبی بن کر، محلے میں ایمبرائیڈری کی دکان کھول کر، حاجی کا لقب لگا کر، بیٹھک میں دکان کھول کر، خاندانی رنجشیں دور کرانے والا عامل بن کر۔

یاد رکھیے!
بیٹیوں کو رب کریم کی عطا و رحمت سمجھنا، ان سے شفقت، پیار اور رحم دلی والا معاملہ کرنا، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے تئیں بھرپور کوشش کرنا، ان کے دکھ درد کو سمجھنا، ان کو وقت دینا، ان کی سننا، ان سے لاڈ پیار اور دل جوئی کرنا، ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کرنا کسی "ہفتہ رحمت" یا "میری بیٹی میری عزت" کمپین سے مشروط نہیں ہوا کرتا۔ بیٹی ایک کل وقتی ذمہ داری ہے، بالکل ویسے باقی امور کی طرح جن کی تکمیل پر جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اور زمین و آسمان کی وسعتوں والی جنت مفت میں نہیں مل جایا کرتی۔