کوزے میں سمندر اور نامعلوم بیماری - ارشدعلی خان

قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بل 2018ء کثر ت رائے سے منظور کرلیا۔ منی بجٹ پر بحث کے دوران ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بمع اپوذیشن لیڈر شہباز شریف کے، ساری ایوان پر بازی لے گئے۔ انہوں نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک ہی جملے میں حکومت وقت کے طرزعمل کو بیان کیا اور کہا کہ چندے سے معیشت،گالی سے سیاست اور جادو سے حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔ کوزے میں سمندر بند کرنا اسی کو کہتے ہیں، ایوان میں ہوئی دیگر تقاریر ایک طرف اور بلاول کا یہ ایک جملہ دوسری طرف رکھا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ حکومت چلانے میں اور کنٹینر پر کھڑے ہو کر دوسروں پرتنقید کرنے میں بہت فرق ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ یہ پارلیمان ہے کوئی کنٹینر نہیں، یہاں آپ نے پالیسی سازی کرنی ہے۔ سنجیدہ فیصلے لینے ہیں، فیصلوں پر یوٹرن نہیں لینے، جس کا اثر کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے۔ اپنی بجٹ تقریر میں حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ منی بجٹ میں کہیں بھی حکومت کے 100دنوں کا پلان نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے حکومت کو اپنے وعدے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی، صحت اور تعلیم کی بات کی، صاف پانی کا وعدہ کیا تاہم صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافے کی بجائے کٹوتی کر دی۔ جن لوگوں نے دو نہیں ایک پاکستان کی خاطر پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، آج وہ بھی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے بھی منی بجٹ پر بحث میں حصہ لیا تاہم ان کی تقریر وہی روایتی تقریر تھی جس میں اپنی حکومت کے کارنامے بھی انہوں نے نیم دلی سے بیان کیے اور چلتے بنے۔ بلاول کی بجٹ تقریر اپوزیشن لیڈرسے بدرجہ بہتر تھی۔

وزیرخزانہ اسدعمر نے منی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے گزشتہ حکومتوں پر تنقید کی اور کہا کہ جوکام یہ 40سال میں نہ کرسکے، ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے40 دنوں میں کیوں نہیں کیے۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان بھی تقریبا دوڑتے ہوئے آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں ملک میں کوئی کرائسز نہیں۔ ان کی حکومت نے بیواؤں کی پنشن روکی ہوئی تھی، پی آئی اے کا جہاز پرواز نہیں کرسکا کیوں کہ ادارے کے پاس تیل کے پیسے نہیں تھے اور قرض اتنا بڑھ چکا تھا کہ پی ایس او مزید قرض دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان، ایک سال میں کیا حاصل کیا؟ محمد عامر خاکوانی

گردشی قرضوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صرف پچھلے سال گردشی قرضے 453 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ مجموعی گردشی قرضے 1200ارب روپے سے زائد ہیں اور یہ کہ صرف گیس کے شعبے میں454 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ اسد عمرنے بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کا ذکر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی حکومت کی ترجیحات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں اور کم ترقی یافتہ علاقوں کو ٹرانسمیشن لائنز میں نظر انداز کیا گیا، اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کی تنصیب میں واقعی تعصب سے کام لیا، جس کی وجہ سے اگر بجلی ہو بھی تو ان علاقوں تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی اور اتحادی ایم این ایز کو بجٹ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی، اگرچہ وہ دیر سے پہنچے تاہم ایوان میں موجود رہے جس کے بعد انھوں نے اپنے چیمبر میں وزارء اور پارٹی رہنماوں سے ملاقاتیں بھی کی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنے دو مہینے ہونے لگے ہیں، تاہم ابھی تک حکومت کی سمت واضح نہیں۔ سفارتی محاذ پر بھی وہ کامیابیاں حاصل نہیں کی جا سکیں جس کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے اگر چہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی تاہم اگر وزیراعظم عمران خان بذات خود جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے تو اور بات ہوتی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے پورا زور لگایا کہ شاہ محمود قریشی کے دورہ نیویارک کو کامیاب ترین دکھایا جا سکے تاہم وہ اس میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے۔

ایک طرف بلاول بھٹو زرداری کے تقریر کی بازگشت ہے تو دوسری جانب کسی نامعلوم بیماری کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما ڈاکٹر امجد کے مطابق سابق ڈکیٹیٹر پرویز مشرف کو ایک نامعلوم بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ سنگین غداری کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی نامعلوم بیماری کے بارے میں فی الحال تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم ان کی بیماری کے حوالے سے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کی جائیں گی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب ثاقب نثار کے یہ ریمارکس ریکارڈ پر ہیں جو انہوں نے پرویز مشرف کے ملک واپسی کے بارے میں دیے۔ انہوں نے پرویز مشرف کو واپسی کی صورت میں کچھ نہ کہنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے چک شہزاد میں واقع اُن کا فارم ہاؤس بھی کھولنے کا حکم دیا۔ یوں لگ رہا ہے کہ ایک طرف تو ملک کی اعلی ترین عدالت، پیش ہونے کے لئے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے منت ترلے کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد نیلامی کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدالت عدم پیشی کے حوالے سے نیب کی درخواست پر ان کی جائیداد ضبطی اور نیلامی کا حکم جاری کیا ہے جس کے بعد پاکستان میں موجود ان کی 25جائیدادوں کی نیلامی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   لمبے خطبے، بڑے رتبے اور انصاف کی اصل کہانی - سید طلعت حسین

اسحاق ڈار نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں دعوی کیا کہ 25 میں 17جائیدادیں یا تو فروخت کر چکے ہیں یا ٹرسٹ کے نام کر چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس نے ملک کا آئین معطل کیا، جس پر بینظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کے قتل سمیت دیگر الزامات ہیں، عدالت اسے تو ریلیف دی رہی ہے۔ اس کا سیل کیا ہوا گھر دوبارہ کھلوایا جا رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے عدالتی رویہ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سب کے پیچھے دیگر طاقتوں کا ہاتھ ہے۔

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.