چھوٹے لوگ ، بڑے دل - عبداللہ فیضی

میں اکثر کہا کرتاہوں کہ کسی بھی انسان کو قطع نظر اسکے رنگ ونسل ذات برادری ، جنس اور سماجی ومالی رتبے کے سب سے پہلے صرف اور صرف ایک انسان کی حیثیت سے دیکھنا چاہیئے۔ اس طرح نا صرف آپ خود کو دوسرے انسانوں کے قریب تر محسوس کریں گے بلکہ آپکے لیئے انکو سمجھنا بھی آسان ہوگا۔ امرواقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنے مختصر مشاہدات میں جن لوگوں کو ہم "چھوٹے لوگ" کہتے ہیں یا مالی طور پر کمزور حیثیت والوں کو اپنی سوچ اور دل کے معاملے میں صاحب حیثیت افراد سے کہیں بڑا اور غنی پایا ہے۔ دیس دیس کے لوگوں سے، دوردراز کے اسفار میں گدھا گاڑی سے لے کر جہاز کی بزنس کلاس تک ، ہاسٹلز، ہوٹل ، موٹل اورچارپائی والی سرائے تک میں گزارے ایام میں، مجھے اللہ نے ہزارہا افراد سے بات چیت اور گھلنے ملنے کا موقع دیا۔ اس ضمن میں اپنے سینکڑوں ذاتی مشاہدات میں سے صرف دو آپکی خدمت میں پیش کرتاہوں۔ میں میلان (اٹلی) کے بس اسٹیشن پرفلورینس جانے والی بس کے لیئے ٹکٹ کی قطار میں کھڑا تھا کہ ایک سیالکوٹ کا نوجوان جس نے اپنی کمر پر ایک دیگچہ لادا ہوا تھا کو چلتے پھرتے بریانی بیچتے دیکھا۔ پاکستانی نین نقش دیکھ کر وہ میری طرف آیا اور پوچھا کا بھائی صاحب بریانی کھائیں گے؟

مجھے کوِئی مہینہ بھر سے پاکستانی کھانا نصیب نہیں ہوا تھا میں نے فورا کہا ہاں ضرور، اس اثنا میں ہلکی پھلکی بات چیت ہوئی جس سے اندازہ ہوا کہ اسے یوں چلتے پھرتے بریانی کے کوئِی زیادہ گاہک نہیں ملتے اور وہ خود غیرقانونی طوراچھے مستقبل کی جدوجہد میں وہاں چھپ چھپا کر رہنے پر مجبور ہے۔ بریانی دیتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیسے آئے ہیں وزٹ پر یا اسی کی طرح کشتی پر غیرقانونی طور پر کام کی تلاش میں۔ میں جو وہاں یوروپین یونیورسٹی میں ایک کورس کے سلسلے میں گیا ہوا تھا پتہ نہیں کیا سوجھی کہ کہہ ڈالا کہ یار میں بھی تمہاری طرح کشتی سے ہی آیا ہوں اور کام ڈھونڈ رہا۔ یہ سن کر اسنے مجھ سے بریانی کے پیسے لینے سے صاف انکار کردیا کہنے لگا کہ پہلے ہی تمہارے پاس پیسے نہیں ہونگے اوپر سے میں تم سے کھانے کے پیسے لے کراسمیں مزید کمی نہیں کرسکتا اور اس وقت اسکی اپنی حالت یہ تھی کہ اسکے پاس مجھے چینج دینے کے لیئے بھی پیسے نہیں تھے۔ خیر میں نے اسے اپنی اصلیت بتائی تو بڑا خوش ہوا اور پیسے رکھ لیے۔

اسی طرح پہلی رات جب میں فلورینس پہنچا تو اتنا دیر ہوچکی تھی کہ شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ بند تھی۔ میں نے اپنے موبائیل میپ سے ہوٹل تلاش کرنے کے لیئے پیدل ہی سفر شروع کیا کچھ دیر بعد اندازہ ہوا کہ میں غلط سمت میں ہوں اور راستہ بھٹک کر کافی دور نکل آیا ہوں، ہوٹل کال کی لیکن اٹالین زبان والے عملے کو میری انگریزی بلکل سمجھ نا آئی۔ اجنبی ملک اجنبی زبان اور رات دو بجے کا عمل ایک عجیب کیفیت تھی کہ ایک نوجوان کو روک کر راستہ پوچھا تو اسنے فورا پنجابی میں سمجھانا شروع کردیا۔ پھرخود ہی اس نے متعلقہ ہوٹل فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں سے خاصہ دور واقع ہے اور اب صبح ہی چیک ان ہو پائے گا۔ وہ سائیکل پر سوار تھا مجھ سے پوچھنے لگا کہ اب آپ کہاں جائیں گے میں نے کہاں کے واپس شہر کے مرکز میں اور وہیں کسی ہوٹل میں رات گزار لونگا۔ سن کر کہنے لگا کہ نہیں اس وقت آپکو ٹرانسپورٹ نہیں ملی گی آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں جو قریب ہی ہے۔ میرے پاس اس پر اس وقت اور کوِئی چارہ نہیں تھا سو میں چل پڑا۔ گھر میں اور بھی افراد موجود تھے جو سب کے سب مزدوری کرتے تھے ۔ نہایت گرمجوشی سے ملے رات گئے میرے لیئَے ڈنر بنایا، صاف بستر لگا کردیا اورصبح ناشتہ کروا کہ خود مجھے میرے ہوٹل چھوڑنے آیا۔ میں نے انہیں پیسے دینے کی پوری کوشش کی لیکن انہوں نے یکسر انکار کردیا کہ نہیں آپ مہمان ہیں۔

اب میں ان کی پتلی حالت اور ایثار دیکھ دیکھ کر حیران اور دل میں شرمندہ کہ کیا ہم اچھے بھلے لوگ اس طرح راہ چلتے کسی مسافر کو اپنے گھر لاسکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔ پھر میرے ساتھ انہوں نے ایک لمحہ مجھے اجنبیت کا احساس نہِیں ہونے دیا خوب باتیں کیں وہاں کے معاشرت اور حالات بتائے جو ایک الگ داستان ہے۔ اس طرح کے درجنوں مشاہدات ہیں کہ جس میں غریب لوگ اپنا کھانا دوسروں کے ساتھ بنا کسی غرض کے شئیر کرتے دیکھے، کسی کو اپنے بوجھ کے ساتھ ساتھ دوسرے کمزور کا بوجھ اٹھائے اٹھائے دیکھا، کہیں کسی کو کسی دوسرے انجان کے لیئے فیس جمع کرتے دیکھا الغرض ایک دنیا ہے ان "چھوٹے لوگوں" کی جو نام نہاد بڑے لوگوں کے بنا کسی لالچ اور غرض کام آتی چلی جارہی ہے۔ غریب یا امیر پیدا ہونا کسی کے اختیار میں نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان دل کا غنی ہو کیونکہ دل کی فقیری صرف پیسوں سے دور نہیں ہوتی۔ انسان اپنے پیشے یا سماجی حیثیت کے اعتبارسے چھوٹے بڑے نہیں ہوتے بلکہ یہ ہماری سوچ، فکر اور دوسروں کے ساتھ رکھا جانے والا برتاؤ ہے جو ہیں چھوٹا یا بڑا ثابت کرتا ہے۔
اللہ ہم میں سے کسی کو فقر کی آزمائیش میں مبتلا نا کرے اور دلوں کا غنی کرے آمین۔

ٹیگز

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.