میں حرافہ، اور وہ کیا؟ مدیحہ ریاض

میرے باز پرس کرنے پر میرے سابقہ شوہر نے طلاق نامہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا کہ رفعت بیگم! تم خواتین چاہے جتنا بھی حقوق نسواں کا واویلا مچا لو، یہ معاشرہ مردوں کا تھا، ہے اور رہے گا۔ صدیوں قبل کی یہ سوچ تم خواتین کے واویلے سے کبھی ختم نہیں ہوگی، چاہے جتنی مرضی آواز بلند کر لو۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ میرے میاں (سابقہ) کی علیک سلیک مرد حضرات کے ساتھ خواتین سے بھی تھی۔ حلقہ مستورات بہت وسیع تھا، جس پر مجھے بےحد اعتراض رہتا۔ میں انھیں اکثر سمجھاتی رہتی کہ آپ خواتین سے دوستی نہ رکھیں، جس پر وہ کبھی کان نہ دھرتے۔ میرے روز روز کہنے پر بھی نہ مانے۔ اکثر ہم میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت سے شروع ہونے والی گفتگو کا اختتام تلخ کلامی پر ہوتا۔ میں انھیں اکثر سمجھاتی رہتی کہ بچے جوان ہو رہے ہیں، اب تو اپنی حرکات سے باز آجائیں۔ لیکن وہ میری بات یونہی چٹکیوں میں نظرانداز کر دیتے۔ اب تو ان خواتین میں سے بعض گھر بھی تشریف لے آتیں، میاں صاحب کی بابت پوچھتیں اور میرا خون جلاتیں۔ جب میرے میاں ان سے مہمان خانے میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہوتے تو میں جلے پیر بلی کی طرح مہمان خانے کےگرد چکر لگاتی اور کلستی رہتی۔

میاں کی ایسی حرکات دیکھ کر میرے اندر انتقام کی ایسی آگ بھڑکی کہ میں نے انٹرنیٹ پر غیر مردوں سے روابط قائم کر لیے۔ اب ہر وقت میں ان سے باتیں کرتی رہتی۔ جب بھی میاں گھر آتے تو میں انھیں کمپیوٹر کے سامنے براجمان ملتی۔ اب آہستہ آہستہ میں نے میاں صاحب کو فراموش کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں کسی صاحب سے محو گفتگو تھی کہ اچانک میاں نے چھاپہ مارا، ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر رسید کیا، اور کہا کہ تم جیسی بدچلن اور حرافہ عورت اب ایک سیکنڈ کے لیے بھی برداشت نہیں۔ میں عبدالماجد بقائم ہوش و حواس رفعت بیگم تمھیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔

ٹیگز