کیا حقیقت ہے اک فسانے کی - کرم احمد صدیقی

میں نیویارک سے واپس اپنے گھر کی طرف گرین وچ جا رہا تھا۔ ٹریفک میں کوئی رکاوٹ نہ آئے تو تیس چالیس منٹ کا راستہ ہے۔ امریکہ میں فاصلہ میلوں کے بجائے گھنٹوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ ڈیک پر پرانے گانے سنتے ہوئے فلم آوارہ کا گانا چل رہا تھا "اس پار کسی سے ملنے کا اقرار نہیں"۔ اس وقت گاڑی کے ڈیش بورڈ پر آنے والی فون کال کر نمبر آیا۔ انجانا نمبر تھا۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق اسے سنا۔ اکثر ایسے فون اجنبی لوگوں کے ہی ہوتے ہیں۔ کچھ چندہ مانگنے والے ہوتے ہیں جو پاکستان میں کچھ فلاحی کام کرتے ہیں اور آپ کی پسند کے شہر یاگاؤں میں وہ خدمت انجام دینا چاہتے ہیں۔ نہ معلوم وہ میری وطنیت کہاں سے ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ کوئی آپ کو مکان خریدنے اور بیچنے میں مدد کرنا چاہتا ہے۔ ایک دفعہ جب میں نے کہا کہ میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں تو مجھے مکان خریدنے کے فوائد بتائے گئے۔ قرضہ دلانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں فون سنتا ہوں کہ کسی دوست یا جاننے والے کا نہ ہو۔ میرے کالج کا کوئی جونیئر لڑکا تھا، اپنا تعارف کرایا کہ کالج کی پرانے لوگوں کی انجمن سے تعلق رکھتا تھا۔ پوچھا” آپ ڈاکٹر ارجمند کو جانتے ہیں ۔ انہوں نے کل آپ کو ٹائمز اسکوئر میں دیکھا تھا “ انہوں نے آپ کا فون نمبر مانگا تھا جو ہم نے اپنی پرائیویسی پالیسی کے تحت انہیں نہیں دیا۔ انکا نمبر ہمارے پاس ہے اگر آپ چاہیں تو آپکو دے سکتے ہیں ۔بشرطیکہ آپ انہیں جانتے ہوں۔

میں ارجمند کو جانتا تھا لیکن اس وقت وہ کالج میں پڑ ھتی تھی . مجھے سب سے پہلے تو ٹائمز اسکوائر کے بارے میں کہی جانے والی اس بات کا خیال آیا کہ “اگر آپ ٹائمز اسکوائر پر تا دیر کھڑے رہیں تو وہاں دنیا بھر کے لوگوں سے ملاقات ہو سکتی ہے” کتنی دیر کھڑے رہیں یہ نہیں بتایا گیا۔ ایک دو ماہ پہلے میں ریاست کنیکٹیکٹ کے شہر ریڈنگ گیا ہوا تھا۔ وہاں مارک ٹوین کی لائبریری میں جانا ہوا۔ان کی ایک “ کہاوت بہت اچھی لگی ۔ “ اچھی اچھی چیزیں ان لوگوں کو ملتی ہیں جو انتظار کرتے ہیں اور دریں اثنا مر نہیں جاتے۔ انہوں نے وقت کا تعین کر دیا تھا۔پھر مجھے وہ خط یاد آیا جو ارجمند نے مجھے لکھا تھا جس نے میری زندگی کا ایک بڑا فیصلہ کرنے میں بلکہ زندگی کو ڈھالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ بہت عمدہ رائٹنگ ہیڈ پر اس سے بھی زیادہ خوشنما لکھائی میں لکھا ہوا وہ خط آج بھی میں نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ “آپ نے مجھ سے شادی کی اپنی خواہش کا اظہار کیا تو پہلے تو مجھے بہت عجیب لگا۔۔ ۔پھر میرے بتانے پر کہ میں بچپن میں پولیو سے متاثر ہو گئی تھی آپ نے کہا کہ آپ کو کچھ کچھ اس بات کا اندازہ تھا اور اسکے با وجود آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور کسی ہمدردی کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ ان مختصر سی ملاقاتوں کے بعد مجھے پسند کرنے لگے ہیں تو مجھے ایک خوش گوار حیرت بھی ہوئی اور جو مایوسی مجھ پر طاری رہتی تھی وہ بھی چھٹتی نظر آنے لگی

میرے والد نےقریبی لوگوں کو بتا رکھا تھا کہ اگر کوئی مجھ سے شادی ہر رضامند ہو تو وہ اسے اپنے کاروبار میں شراکت دار بھی بنا سکتے ہیں۔ مجھے اس بات کا بہت دکھ تھا کہ میں ایک بہت بڑا بوجھ ہوں اور شائد زندگی بھر بوجھ ہی رہوں۔ مجھے یقین ہے کے آ پکی اس بات کو بابا بخوشی منظور کر لینگے آپ کی پیشکش سے مجھے ایک نئ زندگی کے خواب آنے لگےلیکن میں ایک عجیب کشمکش مین پڑ گئی اور کئی راتوں سے ٹھیک طرح سو بھی نہیں پائی ۔ان تمام باتوں کے باوجود میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہےکہ میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی ۔ ہم دونوں جانتے ہیں کے آپ کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے میرے والد سے میری چھوٹی بہن کے ساتھ آپ کے رشتہ کی بات کی تھی۔ اب اگر میں رضامند بھی ہو جاؤنں تو تمام عمر میں اور میری بہن اس بات کو سوچ سوچ کر پریشان ہوتے رہینگے ۔ بابا نے کھانے کی میز پر آپکا ذکر کیا تھا ۔وہ ۔ آپ سے ملکر بہت متاثر ہوۓ تھے بابا کے دوست جو بابا کے ساتھ آپ سے ملے تھے انکا ایک بیٹا آپ کا شاگرد تھا انہوں نے بھی بابا سے آپکی بہت تعریف کی تھی اور اسی وجہ سے آپ کو گاؤں آنے کی دعوت بھی دی تھی ۔میں آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتی ہوں۔ مجھ میں جینے کا حوصلہ آگیا ہے ۔ میں اپنی تعلیم جاری رکھوں گی۔ مستقبل اپنا فیصلہ خود کرے گا۔

مجھے اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ آپ میری چھوٹی بہن پر مجھے ترجیح دے رہے ہیں۔ کیا اس بات کا امکان ہے کہ آپ اب اس سے شادی پر رضامند ہوجائیں؟ میری درخواست ہے کہ اب ایسا مت کیجۓ گا۔ وہ ابھی کم عمر ہے خوبصورت بھی ہے اور تندرست ہے اسکی شادی ضرور کسی اور اچھی جگہ ہو جائیگی ۔ اگر آپ اب اس سے شادے کرینگے تو میں آپ کا سامنا کرنے سے پریشان ہوا کرو نگی۔ امید ہے کہ آپ میری اس بات جو سمجھ لینگے ۔ اور آپ کو بھی کوئی دوسرا رشتہ مل ہی جائیگا اس خط کے ملنے کا ایک فائدہ ہوا ۔ چند ہفتوں سے بیرونی ملک سے کچھ لوگ کچھ انجینئر س کی تلاش میں آۓ ہوۓ تھے۔ کچھ لوگ مل بھی گۓ تھے اب انہیں انجینئرنگ سروے کے کام کے ماہر کی تلاش تھی ایسے بہت سے لوگوں سے میں نے انہیں ملوایا تھا۔ ہمارے ملک میں جو اس کا م میں مہارت رکھتے تھے زیادہ تر ڈپلوما رکھتے تھے جن کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری تھی وہ یہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ کچھ تو سروے کےبانسذترومنٹ کا استعمال بھی نہیں کر سکتے تھے ۔اس ملک کی شرائط میں ڈگری ہونا لازمی تھا ۔ جو ٹیم باہر سے آئ تھی اس میں ایک فرنچ تھا اور دو عربی بولنے والے نہ معلوم کس ملک سے تھے ۔

اتفاق سے میں یہی مضمون پڑھاتا تھا۔ میرے پاس ڈگری بھی تھی اور فیلڈ میں کام کرنے کا تجربہ بھی تھا اور طالبعلموں کو انہی چیزوں کو استعمال کرنا سکھاتا تھا ۔ مجھے دوسرے ملک میں کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ان دنوں “دوبئی چلو”قسم کی کوئی دوڑ ملک میں شروع نہیں ہوئی تھی ۔وہ لوگ مجھے زیادہ سے زیادہ مشاہرہ بھی دینے کو رضامند تھے ۔ مجھے اس وقت نہ تو پیسوں کی ضرورت تھے اور نہ ہی زیادہ پیسوں کے بہت سے فوائد کا پتہ تھا ۔ارجمند کا خط ملنے پر میں نے اچانک ہی فیصلہ کر لیا۔ شائد یہ قدرت کی طرف سے اشارہ تھا۔ میں نے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ صرف ایک سوال پوچھا تھا“ ہفتہ میں چھٹی ایک ہوگی یا دو” اس بات پر وہ تینوں بیک وقت اور بہت زور سے ہنسے ۔” “ بتا یا گیا کہ دو چھٹیوں میں بھی کام کی جگہ سے کہیں جانا ممکن نہیں ہوگا ۔ چھ ہفتے مسلسل کام اور اس کے بعد دو ہفتے کی چھٹی اور آپ کی پسند کے کسی یوروپی ملک کا جہاز کا ٹکٹ۔ کام پر رہنا اور کھانا پینا کمپنی کیطرف سے یعنی ساری تنخواہ کی بچت ۔کھانے سے زیادہ پینے کا ذکر بڑا زور دیکر کیا گیا تھا

ایک انجانا سفر
پہلی بار جہاز میں بیٹھنے کا اتفاق ہو تھا ، سیٹ بیلٹ ائر ہوسٹس کے مظاہرہ کرنے سے باندھ تو لیا تھا ۔ ایک ضرورت کے تحت اٹھنے کےلۓ سیٹ بیلٹ کھولنے کے لۓ ساتھ والی سیٹ کے مسافر سے مدد لی ۔ چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا سفر تھا ، جہاز کئی دفعہ مختلف ملکوں میں کبھی کم اور کبھی زیادہ دیر کے لۓ رکتا تھا مسافروں کو کسی کسی جگہ جہاز سے باہر جانے کی اجازت ملتی تھی ۔ ۔جہاز کے سفر کے اشتہاروں میں خاص طور پر ٹائم میگزین کے آرٹ پیپر پر ایک اچھے سے سوٹ میں ملبوس اور ایک دھلی دھلائی ائر ہوسٹس ایک رومانوی منظر پیش کرتے تھے وہ رومانس تو پہلے ہی گھنٹے میں زائل ہو گیا تھا . مجھے کراچی سے لاہور کا ایک سفر بہت یاد آیا ۔ سب سے نچلے درجے کے ڈبے میں لکڑی کی بنچ نما سیٹیں تھیں ۔ لیکن پاؤن پھیلانے کی بہت گنجائش تھی ۔ جہاں گاڑی کچھ دیر رکتی وہاں اتر کر ٹہل بھی لیتے تھے اور کہیں وہ مشروب بھی پی لیتے تھے جسے ریلوے والے چاۓ کہنے پر بضد ہوتے ہیں۔ جہاز میں کھانا اور پینا وافر مقدار میں مہیا کیا گیا تھا۔ ۔ ہمارا سفر آدھی رات کے بعد شروع ہوا تھا تھکن بھی بہت تھی لیک نیند کادور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔کتاب اور رسالے پڑھنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی آنکھیں بند کرکے پچھلے چند دنوں کے واقعات پر غور کرتا رہا۔

کچھ دن پہلے وائس چانسلر صاحب نے جو ہمارے قریبی عزیز تھے مجھے اپنے گھر بلا یا تھا۔ کہنے لگے ان کے ایک بہت عزیز دوست اپنی بیٹی کےلۓ رشتہ کی تلاش میں ہیں تم ابھی تک اکیلے پھر رہے ہو پوری یونیورسٹی میں صرف تم ہی “ آوارہ گردی “ کرتے نظر آتے ہو۔ تمھارے سبھی دوستوں کی شادیاں ہو گئی ہیں تمھارے والد نے بھی ایک آدھ دفعہ ذکر کیا تھا اس بارے میں ۔ ۔مجھے اس معاملہ میں کوئی جلدی تو نہیں تھی لیکن میں انہیں انکار نہیں کرسکتا تھا دوسرے یہ کہ بات رشتہ کی تھی کوئی عدالت کا سمن تو نہیں تھا۔ آخری فیصلہ تو اپنے ہاتھ میں ہوگا۔ کچھ دن بعد وہ صاحب مجھ سے ملنے آۓ اپنے کسی دوست کے ساتھ ۔ میرے کمرے میں بکھری ہوئی کتابوں کی ورق گردانی کرتے رہے ایش ٹرے کو بھی غور سے دیکھا۔ساتھ میں رکھے کرےون آۓ کے پیکٹ پر بھی نظر ڈالی ۔ اس سے میری سگریٹ نوشی کی بری عادت کا اندازہ لگانا تھا یا مہنگے سگریٹ سے میرے معیار اچھے ذوق کا ! مجھے اس کا اندازہ نہیں ہوا ۔ میرے گھر والوں کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں پوچھا شائد وی سی صاحب سے پتہ چل گیا ہوگا۔ میرے ملازم کی بنائی ہوئی چاۓ کی تعریف کی اور مجھے اپنے گاؤن میں آنے کی دعوت دی۔ کرسمس کے دنوں میں یونیورسٹی کچھ دن بند رہتی تھی ان د نوں کا پروگرام بنا۔

انکا گاؤں شہر سے چند میل کے فاصلے پر تھا آخر کا ایک میل کچی سڑک سے گزرنا پڑا۔ گاؤں کا نام بھی ان کے خاندان کے نام پر تھا . ان دنوں ہلکی ہلکی سردی تھی شائد گلابی جاڑا اسے ہی کہتے ہیں۔ ناشتہ مجھے کمرے میں ملتا اور پھر گیارہ بجے چاۓ کے لۓ بیٹھک میں جسے اوطاق کہتے ہیں وہاں محفل جمتی ارجمند وہیں بیٹھی ملتی چھوٹی بہن اور ایک چھوٹا بھائی جو لندن میں پڑھتا تھا اور چھٹیوں پر آیا ہوا تھا بعد میں آتے ۔ چاۓ کے دوران کبھی ایک روائتی بڑی پھپھو بھی چکر لگاتیں ۔ بھائی اظہر بھی تھوڑی دیر بعد گھڑ سواری کے لۓ چلا جاتا۔ گھر میں کام کرنے والی خواتین صفائی اور جھاڑ پونچھ کے بہانے منڈلاتی رہتیں۔ کمرے میں میرے ساتھ وہ دونوں بہنیں ہوتی تھیں. گفتگو ابن صفی سے شروع ہوئی ارجمند نے کہا بابا نے بتایا کہ آپ ابن صفی کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ میں نے اسے ہونے والی سالی کا مذاق کرنے کا انداز سمجھا۔میں نے بتایا کہ یہ عادت بہت پرانی اور بہت پختہ ہے ۔ میں نے بتا یا کہ انجینئرنگ کالج کے ہوسٹل میں جب میں جاسوسی دنیا یا عمران سیریز کی نئی کتاب لیکر آتا تھا تو میرے بعد اس کتاب کو پڑھنے والوں کی لائن لگ جاتی تھی ۔ایک بار میں نے میس میں بیٹھ کر کہا کے کچھ پڑھائی کرنے کے بعد میں رات دس بجے سے بارہ بجے تک پڑھ کر ختم کرلونگا تو ایک دوست نے بارہ بجے مجھ سے کتاب اسے دینے کا وعدہ لیا اور ایک دوسرے نے اس کے بعد کی “بکنگ” کر وائی ۔

دوسرے بہت سے لکھنے والوں کا بھی تذکرہ ہوا ۔ جس میں شفیق الرحمان کا ذکر پیش پیش ہوتا تھا ۔ مجھے انکی تمام کہانیاں معہ ڈائیلاگ کے از بر تھیں ۔اسکول کے دنوں سے پڑھ رہا تھا ۔ (میرے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے پسندیدہ تارڑ صاحب کی کتابیں اس وقت تک منظر پر نہیں آئی تھیں)۔ کبھی کبھی لطیفے بھی چلتے فلموں کی باتیں بھی ہوتیں سہ پہر کو میں نزدیکی نہر پر سیر کو چلا جاتا میرے ساتھ ایک ملازم اور ایک کتا بھی ہوتا تھا کبھی کبھی اظہر بھی میرے ساتھ چلتا تھا۔ اظہر نے دو ایک بار میرے ساتھ ٹیبل ٹینس بھی کھیلی۔ نہر میں تیرنے کی بات بھی کی ۔مجھے تیرنے کے لۓ بھی کہا۔ مجھے تیرنا نہیں آتا تھا لیکن میں نے سردی کا بہانہ بنا کر انکار کردیا ۔ میں نے غور کیا کہ ارجمند کی ٹانگوں پر ایک خوبصورت سا شال پڑا رہتا تھا مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا کے شائد اسے کو ئی مسئلہ ہے ۔ اور یہ بات سوچ کر یقین ساہو گیا کہ ارجمند سے پہلے اس کی چھوٹی بہن کی شادی کی بات کیوں ہو رہی ہے ۔ان ملاقاتوں میں ،میں نے ارجمند سے بہت متاثر ہوا۔ اسکی حس ء مزاح ، سنجیدگی اور شائستگی مجھے اچھی لگی چھوٹی بہن کچھ شوخ بھی تھی اور اس میں مجھے کچھ بچپنا سا دکھا۔

ایک دن موقعہ دیکھ کر میں نے ارجمند سے اپنی دل کی بات کہ دی۔ اسے کہا کہ ہمدردی کی وجہ سے نہیں بلکہ میں اسے پسند کرنے لگا تھا ۔میں نے کہا کہ وہ سوچ کر مجھے جواب دیدے اور اس کے بعد میں۔ وی سی صاحب کے توسط سے اس کے با با سے بات کرونگا۔ اس پس منظر میں مجھے پہلا “ محبت نامہ “ ملا تھا ۔جس کے نتیجہ میں، میں ایک بڑے صحرا میں ملازمت کرنے جا رہا تھا۔مجھے اچھی طرح اس بات کا ادراک تھا کہ نہ تو یہ محبت کی ناکامی تھی اور نہ ہی کسی کی بے وفائی کا شاخسانہ تھا ۔۔

ٹیگز