ماں جی کے مہمان (1) - فرح رضوان

بالآخر ماں جی کو وہ ترکیب سوجھ ہی گئی۔ وہ بہت دیر تک رب تعالیٰ کا شکر کرتی رہیں، جس نے ان کے ذہن میں یہ باتیں ڈالیں۔ ساتھ ہی خوب دعا کرتی رہیں کہ یہ مشن کامیاب رہے۔ فورا ہی انھوں نے ساجد کو فون کیا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے والدہ اور بہنوں کو سیالکوٹ سے ان کے گھر بلا لے، آخر ان کا اتنا کشادہ گھر کس دن کام آئے گا۔ جب انھوں نے ساجد کے سامنے اپنا پورا منصوبہ رکھا تو اس نے ہنستے ہوئے کہا، پھپھو رقم کی آپ پرواہ نہ کریں، یہ سارے کام بھی میں آرام سے کروا لوں گا، آپ بے فکر رہیں مما لوگوں کو ان شاءاللہ پتہ نہیں چلے گا کہ یہ سب ان کے ساتھ سکیم کے تحت ہو رہا ہے۔ بس دعا کریں کسی طرح ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ماں جی کا بھتیجا ساجد، تین سال قبل لاہور شفٹ ہو چکا تھا اور اکثر ہی شام کو اپنے آفس سے ان کے پاس ملنے آجایا کرتا، ساتھ ہی باتوں باتوں میں اپنی والدہ اور دونوں بہنوں کے بارے میں اکثر ہی کچھ نہ کچھ شکایت کر کے جی ہلکا کرتا، ماں جی اسے بیچ میں ہی روک دیا کرتیں کہ نہ پتر!گھر کی بات باہر نہیں کرتے یا کبھی غیبت کے خوف سے بات پلٹ دیا کرتیں۔ لیکن ان کی آخرت اور اپنی باز پرس کے بارے فکرمند وہ بھی کم نہ تھیں۔

پچھلے سات آٹھ سالوں سے ساجد کے گھر کی یہ خواتین باقاعدگی سے قرآن سیکھ رہی تھیں۔ ترجمہ تو قابل تحسین حد تک اچھا ہو چکا تھا، کس موقع پر کون سی حدیث اور کون سی آیت کوٹ کی جا سکتی ہے، تمام علم پختہ ہو چکا تھا۔ بس ایک نہیں تھا تو عمل ہی نہ تھا، باقی علم تو وہ خود میں خوب محنت سے کوٹ کوٹ کر بھرتی جا رہی تھیں، جس کی وجہ سے ایک عجیب سی تمکنت بھی ان میں آتی جا رہی تھی کہ انھیں سب کچھ پتہ ہے، دوسرے سب لاعلم ہیں، خاص کر ان کے سسرال والے اور شوہر جن سے اکثر ہی لڑ جھگڑ کر دونوں بیٹیاں ماں کے گھر آجایا کرتی تھیں۔ماں جی بھی جب کبھی سال میں ایک آدھ بار ان کو بلاتیں یا ملنے جاتیں تو بہت سی ناگوار عادات ان میں راسخ دیکھ کر خوب دعا کیا کرتیں کہ اللہ ان کے اس علم کو ان کے لیے نفع بخش بنا دے۔ ساجد غصے میں کبھی کچھ کہہ جاتا ان کے بارے میں تو دیر تک وہ اپنی بھاوج اور بھتیجیوں کے لیے دعا گو رہتیں۔ بہرحال آج کچھ خیال آتے ہی اپنی بہو اور ساجد سے مشورہ کرنے کے فوری بعد عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا شوہر بیوی پر زبردستی تعلق قائم کر سکتا ہے - حمزہ زاہد

ادھر سیالکوٹ میں دیر رات ساجد کی ماں ہاتھوں میں ٹکٹس لہراتی ہوئی بولیں تو پھر کیا کرنا ہے؟ بھائی تمہارا یاد بھی اتنا کر رہا تھا، اوپر سے دو دن بعد کے بزنس کلاس کے ٹکٹ بھیج بیٹھا ہے، جھلا نہ ہو تو! تینوں ابھی ابھی مہندی کی تقریب سے واپس لوٹی تھیں، ابھی نہ ان پر سے من بھر وزنی کام کے جوڑے ہی اترے تھے نہ گہرا میک اپ اور نہ ہی تھکن، لیکن اس سوال پر دونوں بہنوں کی آنکھیں چمک اٹھیں، ”چلتے ہیں مما، پھوپھو سے بھی نہیں ملے کب سے“، ساتھ ہی باتیں کرتے کرتے علینہ نے فون پر فیس بک دیکھنا شروع کر دیا تھا، اچانک اس کے منہ سے چنی منی سی گالی برآمد ہوئی تو نزہت بیگم نے حیران ہو کر پوچھا، ”کیا ہوا“؟ علینہ نے سکرین ان کے سامنے کرتے ہوئے حقارت سے ماموں زاد بھائی کا نام لے کر بتایا کہ "اس ...... نے سب کزنز کے ڈانس کی ساری پکس بھی اپ لوڈ کر ڈالیں" بے عقل نہ ہو تو! کچھ عقل کرتا ہے بندہ کہ چلو گھر گھر والے تھے ہم، چاچے مامے کے بچے، کزن کی خوشی میں سب ڈانس کر رہے ہوتے ہیں پر، منہ چک کر ساری دنیا کے آگے تصویریں ڈال دیں۔علیشا نے جھٹ سے اسی کزن کو فون لگایا؛ "او بے حیا! باز آجا، چل چل ابھی سونے کی ایکٹنگ نہ کر، جا کر تصویریں ہٹا پہلے، شرم نہیں آتی بہنوں اور پھوپھو، خالہ، مامی کی مہندی کی تصویریں کون ڈالتا ہے ؟

....ہیں! تو پھر؟ دوسری طرف کی بات سن کر وہ زور سے چیخی، پھر کھسیانی ہنسی ہنستی ہوئی بولی، او چپیڑ کھا کر ہی سمجھ لگنی ہے تجھے! وہ تو سارے گھر کے بندے تھے نا! خالو، پھوپھا، بہنوئی سب اپنے ہی تو ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کزن نے کچھ یاد دلایا تو تڑخ کر بولی "اچھا! میرا چہرہ تھوڑا ہی ہوتا ہے، فیس بک پر، ادھر سے فوری جواب آیا، دکانوں پر ڈمی کی بھی کھوپڑی نہیں ہوتی، پر سارے ان سرکٹوں کو ہی دیکھ کر کپڑے خریدتے ہیں۔ علیشا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا، " چل ٹھیک ہے، اچھا بس آئندہ نہ کرنا" نزہت اس پر مسکراتے ہوئے بولیں تم بچوں کی باتیں بھی نا! پھر کمسن نوکرانی کو دبنگ آواز میں پکار کر بولیں، "او سکینہ کتھے جا مری ہے بھئی، چائے لا بھی دے"۔ وہ رات کے اس پہر نیند میں جھولتی چائے، بنا کر لائی تو چائے کا رنگ دیکھ کر ہی نزہت کا منہ بن گیا۔ جھلا کر کپ اس سے قریبا چھینتے اور پھر غصے میں نگینوں والی سینڈلز اتارتے ہوئے بولیں، "ڈبے میں واپس یہ جوتی تمیز سے رکھنا، دھیان نال، پھر پہلا گھونٹ بھرا ہی تھا چائے کا کہ بھڑک ہی اٹھیں، ہڈ حرام کہیں کی، ہر وقت موت پڑی ہوتی ہے، ہم جاتے ہیں باہر تب سو مر لیا کر بھئی! چل دفع ہو یہ چائے لے کر جا، اور دوجی لے کر آ، کڑک اک دم، پتا بھی ہے کہ رات جاگنا ہوتا ہے مجھے۔" سکینہ نے مدھم آواز اور دیہاتی لہجے میں کہا "سوری آنٹی" تو علیشا نے ہنستے ہوئے کہا، چل سکینہ مما کی دھلائی سے تیری نیند تو اڑ ہی گئی ہوگی، جب واپس آئے تو میرے سر میں تیل لگا دینا۔ وہ دھیمے سے "چنگا جی" کہہ کر جا رہی تھی کہ پیچھے سے نزہت چڑ کر بولی، "بہت ہی کوئی نکمی سست روح ہے اس میں"، پھر ذرا غصہ کم ہوا تو اٹھ کھڑی ہوئیں، "چلو جی اپنا تو تہجد کا ٹائم ہوگیا ہے، آپ لوگ سو جاؤ، میں تو چلی" ..... دو قدم آگے چل کر ان کو کسی کا خوبصورت لباس یاد آگیا، کچھ حسد اور غصے سے بڑبرائیں؛ "بیٹا دبئی کیا گیا، لٹ مچا چھوڑی ہے پیچھے، سنا ہے، جم بھی جانے لگ پڑی ہے، سنڈریلا نہ ہو تو .....ہونہہ "....

یہ بھی پڑھیں:   ہماری کچھ عجیب عادات‎ - بشارت حمید

بیٹیوں نے ماں کی اس پریشانی میں بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا، اور انسٹاگرام پر اپنی حالیہ مہندی میں شرکت پر لی گئی تصاویر کی تفصیلات پوسٹ کرتی رہیں، جیولری، فلاں جگہ کی، لباس، سینڈلز، پرس، میک اپ .... لگتا تھا سبھی جاگ رہے تھے اور فری بھی تھے، دھڑا دھڑ لائکس اور کمنٹس ملنے لگے، دونوں جھٹ پٹ جواب بھی دے گئیں اور کچھ تصاویر کو کراپ کر کے سر کٹی پکچر ز فیس بک پر بھی لگا دیں، جس پر ایک کمنٹ پسند نہیں آیا، تو علیشا نے غصے میں جواب دیا کہ، "اتنی بھی سختی نہیں ہے جی اسلام میں، ہمیں بھی سب پتہ ہے، رشتہ داروں کو چھوڑ تو نہیں سکتے نا"... پھر جھلا کر ڈیلیٹ ہی کر ڈالا ،ٹویٹ میں دو ڈیزائنرز کو ہیش ٹیگ کرتے ہوئے خوب سراہا، ادھر سے انہوں نے ان کو سراہا .... کتنا ہی وقت اس میں گزر کیا کہ تب تک نزہت بیگم بھی واپس آ گئیں۔ انہوں نے اپنا ٹیبلٹ نکالا اور فیس بک سٹیٹس اپ لوڈ کیا، "یا اللہ، تیرا شکر کہ تہجد کی توفیق دی .... آہ! یہ سونے والے کیا جانیں اس دم کی ملاقات اور تیرے بندوں کی آہیں اور زاری۔ اے اللہ امت مسلمہ کے معصوم بچوں پر رحم فرما، یارب! کیسا ظلم ڈھا رہے ہیں کافر ان ننھی جانوں پر"، ساتھ ہی لمبی آنسو کی لڑی والے دو روتلو اموجی ....... پھر ذرا سستانے کو چل دیں کہ فجر پر دو سو لائکس اور حسرت بھرے کامنٹس کہ ...."اللہ ہمیں بھی آپ کی جیسی توفیق دے، ہمارے لیے دعا کیجیے پلیز"،
(جاری ہے)

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.