افسوس، میں غلطی پر تھا- سجاد میر

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہم آئی ایم ایف کی دہلیز پر جا پہنچے ہیں اور سجدہ ریز ہو کر ملتجی ہیں کہ ہماری خالی جھولی بھر دی جائے کہ ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے ہیں۔

میرا معاشیات سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے مگر یہ بات میں بھی سمجھ گیا تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ چھ ماہ سے چیخ رہا تھا کہ ہماری اقتصادی اسٹیبلشمنٹ کیا کرنے جا رہی ہے۔ میں سارا الزام موجودہ حکومت پر نہیں لگا رہا۔ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔

بقول کسے ہاتھیوں کی لڑائی میں ہم مارے جا رہے ہیں۔ سپرپاورز کی لڑائی میں پھنس کر ہم روندے جا رہے ہیں۔ میں اس پر جتنا سوچتا ہوں، اتنا اس کا قائل ہوتا جارہا ہوں کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔

دو سال پہلے ہم ٹھیک ٹھاک جا رہے تھے۔ ہماری معیشت بھی ٹھیک تھی۔ اسٹاک مارکیٹ 52ہزار پوائنٹ پر جا پہنچی تھی۔ عالمی اقتصادی اداروں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے منافع بخش قرار دیا تھا۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب سے اوپر تھے۔ مہنگائی کنٹرول میں تھی، سنگل ڈیجٹ میں تھی۔

شرح نمو 5.8 تک جا پہنچی تھی۔ سرمایہ کار یہاں آنے کے لیے پرتول رہے تھے۔ امن و امان قائم ہو چکا تھا، انرجی کا مسئلہ قابو میں آ گیا تھا، انفراسٹرکچر کی تیز رفتار تعمیر ہورہی تھی۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ دنیا ہی بدل گئی۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ سیاسی بحران نے ملک تباہ کیا ہے۔

اس کا ذمہ دار نہ نوازشریف ہے، نہ عمران خان، نہ مقتدر قوتیں نہ کوئی اور، ہم سب ہیں۔ چلئے یوں کہہ لیجئے یہ سب ہیں۔ یقین نہیں آتا تھا کہ معاملات جس تیزی سے خراب ہورہے ہیں، ایسے میں ملک کے اندر کوئی ایسی قوت نہ ہو گی جو اس کو روک لگا سکے۔ ہم سب نے مل کر اس ملک کی معیشت کو تباہ کیا ہے۔

ہم یہ تک نہ سمجھ سکے کہ عالمی قوتیں ہمارے خلاف ڈٹ گئی ہیں۔ صاف کہہ رہی ہیں ہم سی پیک کو نہیں چلنے دیں گے۔ یہ اتنی ہی بری چیز ہوتی تو ہم اسے چھوڑ دیتے۔ اس وقت بھی اور اب بھی ملک کی تمام محب وطن قوتوں کا خیال تھا اور ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے جو پاکستان کو ملا ہے۔

ہمیں اسے کھونا نہیں چاہیے۔ اس سے نہ صرف ملک میں ترقی ہوگی بلکہ پاکستان خطے میں ایک غیر معمولی تزوینی اہمیت حاصل کرلے گا۔ امریکہ نے پہلے کہا، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔دیکھتے دیکھتے امریکہ اور بھارت ہم زبان ہو گئے کہ اس منصوبے کو نہیں چلنے دیں گے۔ یہ دونوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا تھا۔

چین، بھارت اور امریکہ کے حریف کے طور پر ابھر رہا تھا۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ سی پیک میں شامل ہو کر پاکستان چین کی مدد کر رہا ہے حالانکہ ہم اپنی مدد کر رہے تھے۔ ہم اپنا انرجی کا مسئلہ حل کر رہے تھے، سڑکوں کا نیٹ ورک بچھا رہے تھے، انڈسٹریل زون بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

یہ خطہ ایک ایسی گزرگاہ بننے جارہا تھا جس پر رشک کیا جاسکتا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں پر معاشی طور پر اس کے اثرات پڑ سکتے تھے۔ کسی نے مشاہد حسین سے پوچھا کہ بھارت سے ہماری دوستی کیوں نہیں ہوسکتی۔ ان کا جواب تھا، بھارت اس کی وہ قیمت مانگتا ہے جو ہم دے نہیں سکتے۔

پوچھا گیا، کیا کشمیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا، کہنے لگے نہیں، سی پیک۔ مشاہد حسین ہمارے خارجہ امور سے ایک طویل عرصے سے وابستہ ہیں، ان کی یہ بات اہم ہی نہیں، یہ بھی بتاتی ہے کہ خطے کا اصل مسئلہ کیا ہے جو کشمیر اور افغانستان کے مسئلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔

لگتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے حضور پیش ہونے پر مجبور کیا جائے گا جس کے نتیجے میں سی پیک کی رفتار کو سست کرنے کا کہا جائے۔ میرا خیال تھا، ایسا نہیں ہوگا۔

اس منصوبے کی ضامن تو پاک فوج بھی ہے۔ آپ دیکھ نہیں رہے یہ سب ہورہا ہے۔ ایک طرف تو سیاسی بحران نے معیشت پرمنفی اثرات ڈالنا شروع کئے، اس لیے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عالمی طاقتوں نے یہ بحران دانستہ طورپر پیدا کیا ہے تو دوسری طرف ہماری اقتصادی اسٹیبلشمنٹ نے وہ اقدامات کرنا شروع کردیئے جو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے ضروری تھے۔

اس کا پہلا اثر اس وقت ہوا جب نوازشریف منظر سے ہٹے۔ حکومت مسلم لیگ کی تھی، مگر بہت خطرے میں تھی۔ اس پر دبائو ڈالنا ممکن بھی تھا۔ اسحاق ڈار کے آخری دنوں میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تو انہوں نے فوراً قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک کو فارغ کردیا۔ غالباً وہ آہستہ آہستہ قیمت میں تبدیلی چاہتے تھے۔ اندازہ ہوگیا تھا دبائو تھا۔

بعد میں مسلم لیگ کی حکومت نے بھی ڈالر کی قیمت میں قدرے اضافہ کیا۔ یہ مفتاح اسماعیل کا زمانہ تھا۔ اسحاق ڈار نے لندن سے بیان دیا، جو ان دنوں ان کا واحد بیان تھا کہ اگر میری پالیسیوں پر عمل جاری رہتا تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانانہ پڑتا، آغاز ہو چکا تھا۔ نگران وزیر خزانہ تو یہ ایجنڈہ لے کر آئی تھیں مگر وہ بھی رک رک کر قدم اٹھاتی رہیں۔ صاف نظر آتا تھا کہ شرح سود کو بڑھانا، روپے کی قدر کم کرنا اور ایسے دوسرے اشارے کرنا کس بات کی علامت ہے۔

خیر جب سے یہ نئی حکومت آئی ہے تو کیا اب یہ بات ڈھکی چھپی ہے کہ اس نے کھل کر سی پیک کے خلاف کام شروع کیا اور وہ سب اقدام کئے جو آئی ایم ایف کی طرف جاتے تھے۔ ایسی بے یقینی کی صورت حال پیدا کی کہ معیشت ڈانواں ڈول نظر آنے لگی۔

ڈالر تیزی سے ملک سے باہر جانے لگا۔ دو سال سے یہ عمل جاری تھا مگر اس نئی حکومت کے زمانے میں یہ عمل مزید تیز ہوگیا۔ اسی لیے اب حکومت ایف آئی اے کو کہہ رہی ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑے۔

سب کچھ تلپٹ ہو گیا۔ سٹاک مارکیٹ 15ہزار پوائنٹ نیچے آ گئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کہتے ہیں ڈیڑھ ماہ کے رہ گئے ہیں ،شرح سود ½ 8 فیصد کردی گئی ہے۔ ڈرہے یہ 11 فیصد کی جا سکتی ہے اور ڈالر مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کو کیا ملے گا۔ بیروزگاری، غربت، شرح نمو میں خوفناک حد تک کمی۔

میں کبھی کبھی سوچتا تھا کہ ہم اس راستے پر چل نکلے ہیں کہ شاید اپنی زندگیوں ہی میں ہم پاکستان کو بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا دیکھ سکیں مگر اب جو عمل چل پڑا ہے اس سے یہ توقع ٹوٹ گئی ہے۔ اگلے ماہ وزیراعظم نے چین جانا ہے۔

مجھے نہیں معلوم وہ کیا ایجنڈا لے کر جائیں گے۔ چین اب بھی ہماری راہیں ہموار کرنا چاہے گا۔ سوال صرف یہ ہوگا، ہم اس کیلئے کتنا تیار ہیں۔ ہماری مقتدر قوتیں امریکہ سے ڈرتی ہیں۔

بہت کچھ بدل چکا مگر ہمارا خوف ابھی تک باقی ہے۔ خوف ہی نہیں ہمارے اندر وہ لالچی انسان بھی مضبوطی سے پنجے جمائے بیٹھا ہے جسے امریکہ اور مغرب سے تعلقات ہی میں فائدہ نظر آتا ہے۔ ہم ہار گئے۔ امریکہ جیت گیا۔ چین کا کچھ نہیں گیا۔ وہ ان منصوبوں کو مکمل کرلے گا جن سے سی پیک کے حوالے سے اس کا مفاد ہے مگر جو فائدہ ہمیں پہنچنا تھا، شاید ہم وہ نہ اٹھا سکیں۔ چین نے اتنی لمبی چوڑی سرمایہ کاری اس لیے نہیں کی کہ سب ضائع ہو جائے۔

اچھی طرح یاد رکھیے، چین اپنے سرمایہ کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے فائدے سے کیسے دستبردار ہوتے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔ اقتدار کی جنگ بڑی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں سب سے پہلا خون حب الوطنی کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے قومی گناہ حب الوطنی کے نام پر کئے جاتے ہیں۔

ہم نے ان دو برسوں میں جو کچھ کیا ہے، وہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا ہو گا۔ مگر وطن کو لہولہان کر بیٹھے ہیں۔ ہم سب گناہگار ہیں۔ میرا خیال تھا کہ ملک کے اندر ایسے محب وطن مقتدر حلقے ہیں جو ملک کو اس حد تک نہیں جانے دیں گے۔ افسوس میں غلطی پر تھا۔