عفوو درگزر یا احتساب- ارشاد احمد عارف

انقلاب کے بعد ایرانی حکومت نے شاہ کے وفاداروں اور عوام دشمن سرگرمیوں میں ملوث سابقہ حکومتی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا، گرفتاریاں ہوئیں اور سرسری سماعت کی عدالتوں کے ذریعے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں سنائی گئیں تو ایک اخبار نویس نے آیت اللہ خمینی سے دوران انٹرویو سوال کیا کہ آپ اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بجائے عفو و درگزر سے کام کیوں نہیں لیتے؟ آپ کے جدامجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا تھا مگر آپ نے جیل خانے بھر دیئے، پھانسی گھاٹ آباد کیے۔

انقلابی رہنما نے جواب دیا کہ ذاتی مخالفین کے حوالے سے میں بھی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہوں مگر قومی مجرموں کے ساتھ رو رعایت کو جائز نہیں سمجھتا۔ قدرے توقف کے بعد بولے ’’فتح مکہ کے بعد عام معافی کے اعلان سے فیض یاب ہونے والوں نے مگر میدان کربلا میں درگزر سے کام نہیں لیا۔ آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سلوک کیا جو کمینہ دشمن اپنے ناقدین سے کرتا ہے۔

‘‘ یہ واقعہ میاں نواز شریف کا بیان پڑھ کر یاد آیا جس میں میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی پریس کانفرنس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا ’’ہم نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو جن کے خلاف مقدمات درج تھے ان سے تعرض نہیں کیا موجودہ حکومت بھی ملک کو آگے بڑھانے کے لیے درگزر سے کام لے‘‘ بجا کہ میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت کی لاج رکھی جنہیں وہ اپنے پہلے دو ادوار میں قومی لٹیرے قرار دیا کرتے تھے اور میاں شہباز شریف لاڑکانہ اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان فرماتے، ان کو ہاتھ نہیں لگایا، شعوری کوشش کی کہ نیب رعایت سے کام لے اور یہ آسانی سے قانونی موشگافیوںکے علاوہ نیب کی نرمی سے فائدہ اٹھا کر مقدمات سے بری ہو جائیں اور حسب توفیق مزید لوٹ مار کرتے رہیں مگر میاں صاحب نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے نام پر اپنے ذاتی مخالف سابق آرمی چیف اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا۔

یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا جب راولپنڈی میں دو مذہبی فرقوں کے تصادم کے سبب حالات انتہائی کشیدہ تھے اور حالات کو پرسکون رکھنے میں حکومت کی ناکامی کا تذکرہ ہر زبان پر تھا۔ یہاں درگزر کی پالیسی کسی کو یاد نہ رہی اور یہ سوچنے کی توفیق بھی نہ ہوئی کہ ایک سابق آرمی چیف پر غداری اور بغاوت کا مقدمہ کیا گل کھلائے گا۔ قومی لٹیروں سے درگزر اور سابق آرمی چیف سے انتقام کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا ۔

میں نے میاں صاحب کے بیان پر مختصر ٹویٹ کی تو کئی احباب نے تبصرہ کیا کہ موجودہ حکمران آخر شہادت حضرت عثمان رضی تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے طرز عمل سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے؟ خلیفہ چہارم نے ملکی استحکام اور معاشرے کو اتھل پتھل سے بچانے کے لیے قاتلین عثمان سے درگزر کیا اور احتساب پر استحکام کو ترجیح دی۔

بظاہر دلیل میں وزن ہے حضرت علیؓ کے مخالفین کا مؤقف یہی تھا کہ پہلے خلیفہ مظلومؓ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، پھر نئے خلیفہ کا تقرر ہو اور کاروبار حکومت چلے جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم چاہتے تھے کہ شہادت عثمانؓ کی وجہ سے معاشرے میں جوبد امنی اور بے چینی پائی جاتی ہے، اس پر قابو پا لیا جائے پھر احتساب ہو، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ استحکام؟ یا مزید بے چینی اور انتشار؟ داماد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالفین نے خلیفہ وقت کو چین لینے دیا نہ قاتلینِ عثمانؓ ریشہ دوانیوں سے باز آئے۔ حتیٰ کہ نواسۂ رسولؐ امام حسن رضی اللہ عنہ نے اُمت کو مزید انتشار اور ریاست مدینہ کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے اقتدار کی قربانی دی قدر اس جذبہ کی بھی نہ کی گئی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تدبر،حسن معاملہ اور عفو و درگزر کا بھرپور فائدہ باغیوں اور ان کے پشت پناہ عناصر نے اٹھایا اور بدترین قبائلی عصبیت کو بروئے کار لا کر خلافت راشدہ کو ملوکیت میں بدل دیا۔ سیاسی عصبیت کے علمبرداروں کے لیے اس واقعہ میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ کسی عادی مجرم، لٹیرے اور بددیانت سے محض اس بنا پر درگزر، کہ وہ اپنے جیسے لوگوں میں مقبول ہے اور انہیں سڑکوں پر لا کر ریاست میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے مفید ہے نہ ریاست کے استحکام کی ضمانت۔ ایوب خان نے سیاستدانوں کے دبائو پر شیخ مجیب الرحمن کو معافی دی جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں بغاوت اور بھارت کی مداخلت کی صورت میں نکلا اور بالآخر پاکستان دو لخت ہو گیا۔

عمران خان کو قدرت نے یہ سنہری موقع دیا ہے کہ وہ بلا تفریق احتساب کا عمل پایۂ تکمیل تک پہنچا کر لوٹ مار، حرام خوری، کام چوری اور قومی وسائل کی بیرون ملک منتقلی کے کلچر کی بیخ کنی کرے تا کہ آئندہ کوئی شخص یا گروہ سیاسی استحکام کے نام پر ریاست کو بلیک میل کر سکے نہ قومی دولت اور اثاثوں کو مال مفت سمجھ کر بے رحمی سے ذاتی اور خاندانی تصرف میں لاسکے۔

بلاشبہ یہ مشکل ترین ٹاسک ہے۔معاشرہ ذہنی طور پر تیار ہے نہ سیاست زدہ بیورو کریسی تعاون پر آمادہ اور نہ معاشی حالات سازگار، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نا مساعد حالات کے بہانے حکومت قومی مفاد دائو پر لگائے، لٹیروں کو ملک میں لوٹ مار جاری رکھنے اور افراتفری پھیلانے کی اجازت دے اور نیب و احتساب عدالتوں کو تالے لگا کر ملک و قوم کو تباہی و بربادی کے کنارے پہنچانے والوں سے داد حاصل کرے۔

حکومت کو پھونک پھونک کر قدم ضرور رکھنا چاہیے۔ ہیجان کا شکار نہ ہو اور معاشرے میں بلاوجہ اضطراب پیدا نہ کرے۔ معاشی اور اقتصادی معاملات میں زیادہ تدبر و تحمل کی ضرورت ہے فیصلے اور تقرر و تبادلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں اور پھر ان پر ثابت قدمی دکھائی جائے مگر یہ توقع عبث ہے کہ مختلف مافیاز جذبہ تشکر کے تحت تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ میں اونچ نیچ ہو گی نہ ذخیرہ اندوز، گراں فروش اور قبضہ گروپ مہنگائی کا طوفان برپا کریں گے۔

حکومت اگر مناسب تیاری اور عوام کی ذہنی بیداری کے بغیر،بھرپور میڈیا مہم کے ذریعے عوام کو ہر فیصلے اور اقدام کے نتائج و عواقب اور مضمرات سے آگاہ کیے بنا کوئی پیش رفت کرتی اور مخالفت کی تاب نہ لا کر پیچھے ہٹتی ہے تو قصور اس کا ہے کسی اور کا نہیں ۔ حکومت کو اپنے طرز عمل کا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ وہ میڈیا کے محاذ پر ناکام کیوں نظر آتی ہے؟ لیکن اقتصادی و معاشی معاملات اور احتساب کے عمل میں اس کی سمت فی الحال درست ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے میڈیا منیجرز اگر اپنی بے عملی، نا سمجھی یا نا رسائی کی بنا پر ناکام ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے تو اصلاح احوال ضروری ہے۔

ایک ایک محکمے میں وزیروں، مشیروں، معاونین خصوصی کی بھرمار ناقابل فہم ہے اور کاٹھی پر کاٹھی ڈالنے کی عادت نقصان دہ، ناتجربہ کاری کہیں لٹیا ہی نہ ڈبو دے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو عمران خان بار بار تھپکی دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ مشک آن است کہ خود ببوید، نہ کہ عطار بگوید(خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہر سو پھیلے نہ کہ عطر فروش اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلاب ملائے) لٹیروں سے درگزر البتہ حکومت کو کرنا چاہئے نہ یہ قومی مفاد میں ہے۔

حکومت قومی مجرموں سے درگزر کرکے دیکھے یہ موقع ملنے پر کبھی بدلہ چکانے سے باز نہیں آئیں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مخالفین کے باب میں عفو و درگزر سے کام لیا، حضرت علیؓ نے سیاسی استحکام کی خاطر قاتلین عثمانؓ کا معاملہ مستقبل پر اٹھا رکھا، مگر میدان کربلا میں دونوں نے مل کر آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس نیکی کا چن چن کر بدلہ لیا۔ کسی کو عفو و درگزر یاد رہا نہ ریاست کا سیاسی استحکام۔ جذبہ انتقام نے سب کچھ بھلا دیا۔