ایک فیشن سٹار کا آخری پیغام- محمد اظہارالحق

کیوبا سے سبھی واقف ہیں۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوب میں واقع ملک، کیوبا، کیریبین جزائر کا حصہ ہے۔ یہاں اور ممالک بھی ہیں جو نسبتاً کم معروف ہیں۔ انہی میں ایک ملک ڈومینیکن ری پبلک ہے۔ ہسپانوی زبان بولنے والا یہ ملک کبھی ہسپانیہ کے قبضے میں رہا، کبھی اپنے پڑوسی ملک ہیٹی کے اور کبھی امریکہ کے! کیرزادہ روڈ۔

ری گوئز 1978ء میں یہیں پیدا ہوئی۔ پہلے ملازمت کرتی رہی۔ اس ملازمت کے دوران اس نے انٹرنیٹ پر اپنا بلاگ آغاز کیا۔ اس میں تازہ ترین فیشن کے حوالے ہوتے تھے۔ ساتھ ہی اس نے بوطیق شروع کر دی۔ ہر تین ماہ بعد لاس اینجلز جاتی اور بوطیق کے لیے تازہ ترین فیشن کے ملبوسات جوتے اور پرس خرید کر لاتی۔

فیشن سے دلچسپی لینے والوں کے لیے وہ ایک آئیڈیل شخصیت تھی۔ اپنے دن کی ابتدا ساڑھے پانچ بجے جم جا کر ورزش سے کرتی۔ ایک بیٹی تھی۔ اس پر پوری توجہ دیتی۔

بلاگ زیادہ مقبول ہونے لگا تو ملازمت کو خیر باد کہا اور فُل ٹائم بلاگر بن گئی۔ پانچ لاکھ سے زیادہ اس کے فین یعنی دلدادگان تھے۔ امریکہ کے تمام فیشن میگزین اس کی سرگرمیاں شائع کرتے تھے، انٹرویو لیتے تھے۔ ٹیلی ویژن شوز میں بھی ہر جگہ وہ موجود رہتی۔ دس ماہ پیشتر اسے بتایا گیا کہ اُسے معدے کا کینسر ہے۔ جو ابتدائی مراحل سے گزر کر خطرناک حدود میں داخل ہو چکا ہے۔

کیرزادہ نے علاج شروع کر دیا مگر اپنے معمولات میں فرق نہ آنے دیا۔ بوطیق چلاتی رہی، بلاگ پر اپنے دلدادگان کے لیے مسلسل لکھتی رہی۔ ورزش اور فیشن کی تلقین کرتی رہی اور اپنے پڑھنے والوں کو کہتی رہی کہ زندگی میں رویہ مثبت رکھیں۔ اس عرصہ میں اپنی بیماری کے متعلق بھی جب علاج کارگر نہ ہوا تو اس نے لکھا: ’’میں کیموتھراپی بند کر رہی ہوں کیوں کہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ میں زندگی کے باقی دن اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رہ کر لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں۔

‘‘ کیمو تھراپی سے سر کے بال اتر گئے تو وِگ پہنی نہ اپنے گنجے سر کو چھپایا۔ دس ماہ لڑنے کے بعد 9ستمبر 2018ء کو وہ ہار گئی اور کینسر جیت گیا۔ یہ سب تمہید تھی۔ اصل بات جو بتانی ہے اس کا آخری پیغام ہے جو اس نے اپنے چاہنے والوں کو دیا۔

ذرا غور سے پڑھیے۔ ’’باہر میری نئی نویلی قیمتی کار کھڑی ہے مگر وہ میرے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ میرے پاس بہترین ڈیزائنر ملبوسات، بیگ اور جوتے ہیں مگر وہ بھی میرے لیے بیکار ہیں۔ بینک میں بہت سا پیسہ پڑا ہے وہ بھی میرے کام نہیں آ سکتا۔ میری ملکیت میں بہت بڑا گھر ہے جو بہترین فرنیچر سے آراستہ ہے، یہ بھی میرے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ مجھے دیکھو! میں ہسپتال میں، ایک بستر پر پڑی ہوں۔

چاہوں تو کسی بھی دن جہاز چارٹر کرا سکتی ہوں مگر وہ بھی تو بیماری میں کوئی مدد نہیں دے گا۔ چنانچہ کسی کو کبھی اس امر کی اجازت نہ دو کہ وہ تمہیں احساس دلائے فلاں شے تمہارے پاس نہیں! جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے، اس سے لطف اٹھائو اور خوش رہو۔

اگر تمہارے سر پر چھت ہے تو کوئی یہ سوچے گا نہ دیکھے گا کہ اندر فرنیچر کیسا ہے۔ زندگی میں سب سے زیادہ اہم شے محبت ہے۔ فقط محبت! اور آخری بات، اس بات کو یقینی بنائو کہ جن سے تم محبت کرتے ہو، ان کے ساتھ اچھا وقت بھی بسر کرو۔‘‘ ایک بے خدا کیرزادہ کو وہ بات معلوم تھی جس کا ہم نام نہاد اہلِ ایمان کو نہیں پتہ! رات دن سڑ رہے ہیں، کسی کے پاس کوئی شے دیکھیں جو ہمارے پاس نہیں تو جل کر کوئلہ ہو جاتے ہیں۔ حسد دل کے اندر نارِ جہنم کی طرح دہک رہا ہے۔

اپنی آگ میں خود ہی بھسم ہو رہے ہیں۔ فلاں کا مکان ایسا ہے۔ فلاں کی گاڑی بڑی ہے، فلاں کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں۔ فلاں کا منصب عالی شان ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ بڑا مکان، بڑی گاڑی، بیرون ملک پڑھتے بچے اور بلند منصب، خوشی کی گارنٹی نہیں۔ تفتیش کرتے ہیں تو منہ کی کھاتے ہیں۔ بڑے مکان والا رو رہا ہے کہ بھائیں بھائیں کرتا محل جن کے لیے بنایا تھا وہ باہر سے پلٹ کر آ ہی نہیں رہے۔ جہازی سائز کی کار والا ایک چپاتی نہیں ہضم کر سکتا۔

بڑے منصب والے کو اس کے ما تحت رات دن جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے ہیں۔ جو نعمتیں میسر ہیں، وہ نظر نہیں آتیں۔ اپنے آپ پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ شیخ سعدی نے لکھا ہے، کہیں جا رہے تھے۔ جوتے نہیں تھے۔ رنجیدہ خاطر تھے۔ شاید پروردگار سے شکوہ کناں بھی۔

راستے میں ایک شخص کو دیکھا جس کے پائوں ہی نہیں تھے۔ نادم ہوئے اور شکر بجا لائے۔ انہیں دیکھیے جو گردہ بیچ کر معیشت کی تنگی کو کشادہ کرتے ہیں، وہ بھی کچھ دیر کے لیے، وہ بھی ہیں جو گردوں کو مشین سے ہفتے میں دوبار صاف کراتے ہیں اور لاکھوں روپے لگاتے ہیں۔ آپ چل پھر رہے ہیں، بھوک لگتی ہے، نیند آتی ہے، سانس کی ڈوری چل رہی ہے،دل دھڑک رہا ہے، جگر کام کر رہا ہے۔ دورانِ خون صحت مند ہے اور کیا چاہیے۔ بچے نارمل ہیں، انہیں دیکھیے جن کے گھروں میں ایک نہیں، دو دو تین تین جسمانی طور پر اپاہج اور دماغی طور پر ناکارہ بچے لیٹے ہیں۔

ماں باپ ہِل نہیں سکتے۔ ایک مستقل روگ ہے جو زندگی کو مسلسل کاٹ رہا ہے۔ مادی خوشحالی کے لیے محنت کرنا جرم نہیں۔ عمودی ترقی(Vertical Mobility)کے لیے کام کرنا ہر شخص کا حق ہے۔

یہ واعظین جو غربت کے فضائل بیان کرتے ہیں، چندہ غریبوں سے نہیں، امرا سے مانگتے ہیں۔ مگر مادی خوشحالی کی دھن میں نفسیاتی مریض بن جانا قابلِ مذمت ہے۔ کُڑھنا، حسد کرنا، خوشحالی ہونے کے لیے حرام جمع کرنے پر اتر آنا، مادی طور پر تو کیا خوشحال کرے گا، ذہنی طور پر بھی لعنت زدہ کر دے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے نواز شریف، زرداری صاحب، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، یہ سب معززین کیا خوش ہیں؟ آئے دن عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں۔ برائی کا ذکر ہو تو مثالیں ان کی دی جاتی ہیں۔ ان کے چہروں کو غور سے پڑھیے۔انہوں نے سامانِ تعیش جمع کیا ہے۔

سامانِ تعیش (Comforts)اور شے ہے۔ خوشی اور شے! ؎ تڑپ نہ اتنا بھی کمخواب و پرنیاں کے لیے سکونِ دل ہے میسر تو خاک پر سوجا انگریزی، سنسکرت، لاطینی، رومن، فرانسیسی، جرمن، عربی، چینی، فارسی، اردو، ہندی، غرض دنیا کی ہر زبان میں لکھی گئی داستانیں، ناول، کہانیاں سب ایک مضمون کے حوالے سے مشترک ہیں۔

وہ یہ کہ مال و اسباب کے لیے بائولا کُتّا بن جانے کا انجام خوفناک ہے، اور ہمیشہ خوفناک، جس طرح سورج حرارت دیتا ہے جس طرح پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے، جس طرح بیج پھوٹ کر زمین سے باہر نکلتا ہے، اندر کی طرف نہیں، اسی طرح یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ وسائل اکٹھے کرنے کے لیے حسد، جھوٹ اور فریب کو بروئے کار لانے والا کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔

ایک اور اٹل حقیقت بھی ہے۔ برے مقصد کے لیے باہمی تعاون کرنے والے آخر میں ہمیشہ لڑ پڑتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ختم کر دیتے ہیں یا پکڑوا دیتے ہیں۔ عدالتی زبان میں انہیں وعدہ معاف گواہ کہا جاتا ہے۔