اکتوبر سے اکتوبر تک - اعزاز سید

پانچ اکتوبر 1998کی صبح دس بجے وزیراعظم نواز شریف کی گاڑیوں کا قافلہ مری کی طرف رواں تھا۔ نوازشریف مرسیڈیز کار کی فرنٹ سیٹ پر براجمان تھے ، شہباز شریف ڈرائیونگ کررہے تھے جبکہ پچھلی نشست پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی بیٹھے تھے۔ تینوں خاموش تھے اور میوزک چل رہا تھا۔ صرف ایک روز قبل ہی آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیول کالج میں خطاب کے دوران نیشنل سیکورٹی کونسل طرز کے ادارے کے قیام کی تجویز دی تھی، جسے فوجی ترجمان کی درخواست پر ٹی وی اور ریڈیو پر خوب نشر کیا گیا تھا۔

پچھلی شام جب وزیر اطلاعات مشاہد حسین آرمی چیف کے بیان کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کررہے تھے تو انہوں نے باتوں باتوں میں وزیراعظم کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سعید مہدی سے کہیں کہ آرمی چیف سے بات کرلیں کیونکہ کرامت اور سعید مہدی کی اچھی سلام دعا تھی۔ مگر وزیراعظم نے سختی سے منع کر دیا تھا اور واضح ہدایت کی تھی کہ کوئی آرمی چیف سے رابطہ نہیں کرے گا۔ اس سارے پس منظر میں گاڑی میں وزیراعظم کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ مری میں وزیراعظم نے سعودی انٹیلی جینس چیف پرنس ترکی الفیصل کو ظہرانہ دے رکھا تھا جہاں جنرل جہانگیر کرامت بھی مدعو تھے۔ جونہی گاڑی نے بھارہ کہو کراس کیا ، نوازشریف کی آواز بلند ہوئی ، "میں نے جہانگیر کرامت کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر آپ میں سے کسی نے کوئی بحث کی تو میں وہ سننے کے لیے تیار نہیں، مجھے صرف اگلے آرمی چیف کا نام بتائیں"۔۔ نوازشریف توقف کے بعد گاڑی چلاتے شہباز شریف کی طرف دیکھتے ہوئے بولے، " شہباز ناں دس" ۔

شہباز شریف بولے، " سعید مہدی ہمارے سینئر ہیں اور کافی جنرلز بھی ان کے کلاس فیلو ہیں، میرے خیال میں نام یہ بتائیں۔" نوازشریف نے پیچھے بیٹھے سعید مہدی پر نظر دوڑائی تو سعید مہدی بولے، " بات یہ ہے کہ۔۔۔۔" اس پر نوازشریف نے ان کا جملہ کاٹا اور کہا کہ بات نہیں کرنی، مجھے نام بتانا ہے۔ سعید مہدی پھر بولے مجھے پتہ ہے کہ آپ علی قلی کو آرمی چیف نہیں لگائیں گے، اس لیے میرے خیال میں جنرل مشرف ہی سب سے زیادہ موزوں ہیں"۔ میں اتفاق کرتا ہوں، شہباز شریف نے سعید مہدی کافقرہ مکمل ہوتے ہی کہا کہ جیسے وہ پہلے سے جانتے ہوں کہ سعید مہدی کی رائے کیا ہوگی۔ بات مکمل ہوتے ہی نوازشریف نے سعید مہدی کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پڑی فائل دیتے ہوئے بتایا ، "اس میں میرے دو خالی لیٹرز ہیں جن کے نیچے میں نے دستخط کر دیے ہیں۔ ہمارا کھانا چار بجے تک ختم ہوگا، آپ سیکرٹری دفاع جنرل افتخار کو بلالیں اور ساڑھے چار بجے تک آرڈر جاری کر دیں"۔ دو خطوط کا واضح مقصد تھا کہ ایک خط جہانگیر کرامت کی برطرفی کا اور دوسرا پرویز مشرف کی تعیناتی کا۔

مری میں ظہرانے کے بعد وزیراعظم شام تقریباََ پانچ بجے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو سعید مہدی نے ہیلی پیڈ پہ ان کا استقبال کیا ۔ وزیراعظم نے ہاتھ کے اشارے سے مہدی سے اپنے احکامات کے اجرا کے بارے پوچھا جس پر مہدی نے نفی میں سر ہلایا۔ ظاہر ہے وزیراعظم ناراض ہوئے۔ وزیراعظم مہدی سے پھر مخاطب ہوئے، "آپ نے آرڈر کیوں نہیں نکالا؟ "۔ سر اس لیے کہ اس حکم پر عملدرآمد نہ ہوتا، مہدی نے جواب دیا ، تو نوازشریف غصے میں بولے، وزیراعظم میں ہوں یا آپ؟ سعید مہدی جو شاید پہلے ہی اس صورتحال کے لیے تیار تھے، بولے، سر وزیراعظم تو آپ ہی ہیں لیکن میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ کو درست مشورہ دوں۔ نوازشریف نے کہا کہ مجھے وہ پیپر دیں اور آپ جا کر اپنے او ایس ڈی ہونے کے آرڈر نکلوائیں۔ شام چھ بجے وزیراعظم کا سعید مہدی کو فون آیا اور انہوں نے ہدایت کی کہ فی الحال رک جائیے ۔ معاملہ رکا لیکن ٹلا نہیں۔

اگلے روز چھ اکتوبر کی صبح آٹھ بجے ہی وزیراعظم نے دوبارہ اپنے پرنسپل سیکرٹری کو فون کیا اور بولے، " آپ نے جہانگیر کرامت کو میرے پیچھے لگا دیا ہے۔" سعید مہدی نے کہا، سر! میری جہانگیرکرامت سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ نوازشریف نے پھر ٹوکا اور بولے، وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ سعید مہدی نے جواب دیا، سر! اس سے اچھی کیا بات ہے، آپ مل لیں۔" نہیں میں نے لاہور جانا ہے، گورنر نے لنچ پر بلایا ہے۔ سعید مہدی پھر بولے سر! وہ تو ایک بجے ہے ۔ نوازشریف نے کہا، نہیں، میں نے ابا جی سے بھی ملنا ہے۔ سعید مہدی نےکہا سروہ بھی مل لیجیے گا مگر ان سے ضرور مل لیں۔اس پر نوازشریف نے ہار مانتے ہوئے سعید مہدی کو اپنے پاس بلایا تاکہ آرمی چیف سے ملاقات سے قبل مہدی سے تبادلہ خیال کر لیا جائے۔ سعید مہدی وزیراعظم ہاؤس میں ملٹری سیکرٹری کے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر میں آرمی چیف آگئے اور وزیراعظم سے ملاقات شروع ہوگئی جو پینتالیس منٹ تک جاری رہی۔ تاہم اس سے پہلے مہدی وزیراعظم سے نہ مل پائے۔ پھر سعید مہدی نے وزیراعظم کو آرمی چیف کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے الوداع کرتے اور آرمی چیف کو وزیراعظم کو سیلوٹ مارتے دیکھا۔ مہدی سمجھے کہ معاملہ سلجھ گیا ہے۔ مہدی آگے بڑھ کر وزیراعظم سے ملے تو وزیراعظم انہیں لے کر گاڑی میں سوار ہوگئے اور گاڑی ایک بار پھر ہیلی پیڈ کی طرف چلنے لگی۔ جونہی گاڑی رکی، وزیراعظم نے میوزک آن کرایا اور ڈرائیور اور ملٹری سیکرٹری کو گاڑی سے نکلنے کا حکم دے دیا، پھر سعید مہدی کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے، "مہدی صاحب بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے احکامات پر عملدرآمد نہ کیا، آپ نے میرے احکامات نہ ماننے کی وہ ہمت دکھائی جو شہباز بھی نہ دکھا سکتا تھا"۔

وزیراعظم نے بتایا کہ جہانگیر کرامت نے ملاقات میں انھیں وضاحت کی تھی کہ وہ تجویز ایک معصومانہ سوال کے جواب میں دی گئی تھی۔ جس پر انہیں کہا گیا کہ اگر ایسا ہی تھا تو اسے نشر کیوں کرایا گیا؟ اس پر جہانگیر کرامت نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ اس بارے میں اپنا بیان جاری کر دیں، جس پر نوازشریف نے کہا کہ اگر وہ بیان دیں گے تو ملک میں حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات کی بحث چھڑ جائے گی۔ اس پر جہانگیر کرامت نے وزیراعظم سے کہا کہ سر آپ بتائیں کہ میں کیا کروں۔ جس پر نوازشریف نے کہا کہ حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہم اکٹھے نہیں چل سکتے۔ جس پر کرامت بولے، سر! فوج میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ جب سینیئر اور جونیئر میں اختلاف ہوجائے تو وجہ جو بھی ہو، جونیئر گھر جاتا ہے۔ میں آپ کوشام تک استعفیٰ بھیج دوں گا۔

نوازشریف نے سعید مہدی کاپھر شکریہ ادا کیا اور انہیں اپنے دستخط شدہ وہی خطوط دوبارہ دیے اور ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے پہلے کہا کہ اگر شام تک استعفیٰ نہ آئے تو دونوں آرڈر جاری کردینا۔ شام کو نوازشریف کے اسلام آباد اترتے ہی آرمی چیف کا استعفیٰ آگیا اور مشرف کو بلا کر اسے ملٹری سیکرٹری کے بیجز پہنا کر نیا آرمی چیف تعینات کر دیا گیا۔ ٹھیک ایک سال بعد اسی اکتوبر کی بارہ تاریخ کو اسی جنرل مشرف نے ملک پر قبضہ کرلیا اورنو سال تک سیاہ و سفید کا مالک رہا۔

مجھے یہ واقعہ ایک بیوروکریٹ دوست نے سنایا تھا۔ میں اس کی تصدیق کے لیے کل ہی سعید مہدی کے پاس گیا، جو ان دنوں اپنی مثالی یادداشت کے سہارے خودنوشت Mirror on the Wall لکھنے میں مصروف ہیں۔ ان کی کتاب ایسے ہی کئی دوسرے آنکھوں دیکھے واقعات و تجربات پر مبنی ہوگی۔

اسے محض اتفاق ہی سمجھیں یا کچھ اور کہ اب ہمیشہ طاقتوروں سے بات چیت کا بھاشن دینے والے شہباز شریف بھی اکتوبر میں ہی گرفتار ہوئے ہیں۔