شہباز کرے فریاد - سہیل وڑائچ

ازطرف سابق خادم اعلیٰ حال مقیم دفتر نیب۔ لاہور

عزیز ہم وطنو!
آزاد تھا تو شہباز پرواز کرتا تھا گرفتار ہوں تو شہباز فریاد کرتا ہے۔ اقتدار تھا تو خادم اعلیٰ کہلاتا تھا، 2018کا الیکشن جیت جاتا تو خادم اعظم کہلاتا، مگر افسوس میرے ترقیاتی ایجنڈے، اورنج ٹرین، میٹرو بس اور دانش اسکولوں جیسے معرکۃ الآراء کارناموں کی تعریف و توصیف کرنے کے بجائے مجھے ہرادیا گیا، اگر آج میں خادم اعظم ہوتا تو اورنج ٹرین چل رہی ہوتی۔اسلام آباد میں موٹر وے تک میٹرو بن رہی ہوتی میں پشاور کی میٹرو بس بھی چلوا چکا ہوتا، مگر افسوس ملک کے اس خادم اعلیٰ کی خدمات کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا اور بجائے اس کے کہ بجلی کے کارخانوں سے جو اربوں روپے بچائے گئے اس پر مجھے تمغے اور میڈل دئیے جاتے مجھ پر بدعنوانی کا الزام لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھجوادیا گیا ہے۔ وطن کی خدمت کا یہ اجر سمجھ میں نہیں آیا۔ میں چین میں پیدا ہوتا اور اس طرح کے کارنامے انجام دیتا تو کمیونسٹ پارٹی نے مجھے بہت بڑا عہدہ دیدیا ہوتا اور اگر میں ترکی میں ہوتا تو صدر اردوان نے مجھے سونے میں تلوا دینا تھا اور اگر میں کہیں بھارت میں اس طرح کی ترقی کرواتا تو جگہ جگہ میری مورتیاں اور مجسمے نصب ہوگئے ہوتے، مگر وائے افسوس میری یہاں قدر ہی نہیں کی جارہی ، میں کسی اور ملک میں ہوتا تو آپ دیکھتے لوگ میرے ہاتھ چومتے.....

اے قابل احترام اصلی حکمرانو!
میں خادم اعلیٰ تھا تب بھی اداروں کے ساتھ مل کر چلتا تھا، ان کی تجاویز کو سر آنکھوں پر رکھتا تھا اپنی پارٹی اور اپنے وزیر اعظم بھائی کو بھی یہی تلقین کرتا تھا کہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، میرے بھائی کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیدیا اور دوسرے اہم ترین اداروں سے دوریاں پیدا ہوگئیں لیکن میں نے ہمیشہ ان دونوں اداروں کے ساتھ اپنا رویہ احترام والا رکھا۔خود عدالتوں میں پیش ہو کر سر جھکاتا رہا۔ ملک کے محافظ ادارے سے مسلسل رابطہ رکھا، دفاع وطن کے لئے اس ادارے کے ہر حکم کی پیروی کی۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود میرے ناکردہ گناہ معاف نہیں ہوئے اور مجھے پس دیوار زنداں بھجوادیا گیا ہے۔ ایک طرف میری پارٹی کے انتہا پسند مجھے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ گردانتے ہیں، مجھے طعنے دیتے ہیں، میری صلح ِکل پالیسی کو مصلحت پسندی اور بزدلی سمجھتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود میں اپنے راستے سے نہیں ہٹا اور ہمیشہ مفاہمتی راستہ اپنایا پھر بھی میری گرفتاری کیوں ہوئی؟ میرے مخالف مجھے پہلے بھی کہتے تھے تم لاکھ صلح صفائی کی کوششیں کرلو ، ہزار بار اسٹیبلشمنٹ کے وکیل بن جائو آخر کار تم بھی شکنجے میں آئوگے آج مجھے محسوس ہورہا ہے کہ وہ سچے نکلے!

جب مجھے گرفتار کیا جارہا تھا تو مجھے یاد آرہا تھا کہ میں نے تو ہمیشہ اس قدر احتیاط کی ہے کہ میری پارٹی کے جس بھی شخص سے اصلی حکمرانوں کو شکایت ہوئی ہے میں خود اس سے ناراض ہوجاتا ہوں۔ پرویز رشید کی مثال ہی دیکھیں میں نے عرصہ دراز سے اس سے بات ہی کرنا چھوڑ دی ہے۔ میں تو اسے اپنے پارٹی اجلاس میں بھی نہیں بلاتا کیونکہ مجھے علم ہے کہ وہ ذہنی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اور تو اور میں نے اپنے بھائی نواز شریف کو بھی ہمیشہ مفاہمت کی طرف راغب کیا۔ اپنی بھتیجی مریم نواز کو تو میں نے لمبے لمبے لیکچر دئیے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ گفتگو نہ کیا کرو، ادارے اور سیاستدان مل کر چلیں گے تب ہی ملک میں ترقی ہوگی۔ مریم نے میری نصیحتوں پر زیادہ عمل نہیں کیا لیکن میں اپنی رائے پر اب بھی اسی طرح قائم ہوں جیسے پہلے قائم تھا ، جیل کی سختی یا اقتدار کا تخت دونوں کے حالات میرے نظریات پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔

اے میرے دل اور ریاست کے اصل حاکمو!
میں زندگی بھر آپ کی تعریف و ثنا کرتا رہا کوئی آپ کے خلاف بات کرتا تو میں اس سے آمادہ جنگ ہوجاتا، اپنے خاندان تک میں، میں آپ کے لئے اپنے عزیزوں کو ناراض کرلیتا رہا ہوں، لیکن آج میں آپ سے شکوہ کناں ہوں ، گلہ گزار ہوں کہ آپ اپنوں کے ساتھ بھی وہی ناروا سلوک کر رہے ہیں جو مخالفوں کے ساتھ کرتے ہیں، ایسا ہی ہوتا رہا توپھر کون آپ کا ساتھ دے گا۔ لوگ آپ کے سائے میں پناہ لیتے ہیں کہ آپ کا حصار مضبوط ہے، آپ کی پناہ میں وسعت ہے اور آپ کی سرپرستی میں خیر ہی خیر ہے لیکن اگر آپ نے اپنی پالیسی بدل لی ہے اور ہم جیسے دوستوں کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں رہی تو پھر کل کو آپ کا وکیل کون بنے گا، آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟

میری آپ سے دست بستہ درخواست ہے کہ ملک کے حالات کو سنبھالیں، حکومت کو مخلصانہ مشورہ دیں کہ وہ ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنے کے بجائے معیشت کی اصلاح پر توجہ دے اور ملک کے اندر انتشار کی صورت حال پیدا نہ کرے ہماری پارٹی تو چاہتی تھی کہ عمران خان کو ان کے ایجنڈے پر کام کے لئے فری ہینڈ دیا جائے نہ ہم دھرنے دینا چاہتے ہیں اور نہ ہڑتالیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہم واقعی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل کریں مگر میری گرفتاری اور حکومت کے مستقبل کے عزائم سے تو ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم احتجاجی تحریک شروع کریں۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کو جوں جوں احساس ہورہا ہے کہ حکومت چلانا مشکل ہے اور ان کے پاس ایسی صلاحیت بھی نہیں کہ ملک چلا سکیں وہ ملک میں سیاسی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے تاکہ احتجاجی تحریک شروع ہو تو یہ بہانہ سازی کرسکے کہ پی ٹی آئی کام اس لئے نہیں کرسکی کہ دھرنے اور احتجاج جاری تھا لیکن ن لیگ اسے ا س طرح کے بہانوں کا موقع نہیں دینا چاہتی۔

میرے اصل سرپرستو!!
میں نہ تو وزیراعظم عمران خان سے مخاطب ہوں اور نہ ہی اپنی پارٹی کے لوگوں سے، میں آپ سے اس لئے مخاطب ہوں کہ آپ معاملات کو تہہ تک جانتے ہیں آپ دس سال تک میرے انداز حکمرانی کی داد دیتے رہے۔ میری گورننس کی مثالیں دی جاتی رہیں۔ میں نے کہیں کوئی غلطی نہیں کی۔ میں نے تو پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے تک کی ضد نہیں کی۔ میں اگر ڈٹ جاتا تو پنجاب سے چند اضافی ووٹ لیکر ایک چیلنج بن سکتا تھا۔میں نے مصالحت اور مصلحت کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے علم ہوگیا تھا کہ آپ ایسا ہی چاہتے ہیں اتنی لچک کون دکھاتا ہے؟ میں نے تو نوازشریف اور مریم نواز کی لاہور ایئرپورٹ آمد کے موقع پر جارحانہ انداز تک نہیں اپنایا۔ لڑائی جھگڑا کئے بغیر، پرامن احتجاج کرکے واپس چلا گیا، حالانکہ اس دن ایئرپورٹ جانے کی کوشش کی جاتی تو اچھا خاصا ہنگامہ ہوسکتا تھا، نگران حکومت عدم استحکام کا شکار ہوسکتی تھی لیکن میں جارحانہ سیاست کا قائل ہی نہیں، میری پرامن اور مصالحانہ سیاست کی قدر کی جائے اور ملک کو آگے چلانے کے اقدامات کئے جائیں، اگر یہی انتقامی احتساب جاری ر ہا تو ملک کے اندر جاری سیاسی کشمکش، ریاست کو عدم استحکام کا شکار کردے گی۔ اس پرآشوب دور میں جبکہ پاکستان نہ صرف بیرونی دشمنوں میں گھرا ہے بلکہ معاشی بحران کا بھی شکار ہے، سیاسی بحران بھی پیدا ہوگیا تو ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے بغیر نہیں ٹلے گا۔ باقی جیل ہو یا اقتدار میں مطمئن ہوں، فیصلے آپ نے کرنے ہیں جو بھی کرینگے میں راضی برضا ہونگا۔

فقط شہباز شریف