لبرلزم کی انتہا پسندی: "زنا بہ زنِ غیر" بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان میں اسلامی قانون کی رو سے مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی تعلق کی عدم موجودگی میں جنسی تعلق (زنا ) کی ہر صورت قابلِ سزا جرم تھی۔ انگریزوں نے جب 1857ء کے بعد ہندوستان کو برطانوی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بنا دیا اور اسلامی قانون کا یکسر خاتمہ کردیا تو اس کے بعد 1860ء میں یہاں انھوں نے اپنا فوجداری قانون "مجموعۂ تعزیراتِ ہند" کے نام سے نافذ کیا۔ اس قانون کی رو سے مرد و عورت کا جنسی تعلق صرف دو صورتوں میں قابلِ سزا جرم قرار پایا:
ایک یہ کہ عورت کسی اور کی بیوی ہو اور ابھی وہ ازدواجی تعلق برقرار ہو؛ اور
دوسرا یہ کہ عورت کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ مباشرت کا ارتکاب کیا جائے۔
پہلی صورت کو adultery کا نام دیا گیا اور دوسری صورت کو rape کا۔

یہاں انگریزی قانون کا ایک اور اہم اصول یاد رکھنا ضروری ہے اور وہ ہے crime اور tort میں فرق۔ کرائم کو اجتماعی حق کی خلاف ورزی مانا جاتا ہے اور اس میں ریاست فریق بنتی ہے جبکہ ٹارٹ کو انفرادی حق کی خلاف ورزی مانا جاتا ہے اور اس میں متاثرہ شخص ہی فریق بن سکتا ہے۔ کرائم کا مقدمہ فوجداری عدالت میں اور ٹارٹ کا مقدمہ دیوانی عدالت میں جاتا ہے۔ کرائم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا دی جاتی ہے جبکہ ٹارٹ ثابت ہونے پر متاثرہ فریق کو تاوان کے طور پر "زر تلافی" ادا کیا جاتا ہے۔ کرائم کی معافی کا اختیار ریاست کے پاس ہوتا ہے جبکہ ٹارٹ کی معافی کا اختیار متاثرہ شخص کے پاس ہوتا ہے جو عوض لے کر یا بغیر عوض کے اسے معاف کرسکتا ہے۔

اس کے بعد یہ نوٹ کریں کہ انگریزوں کے اپنے قانون میں adultery کی حیثیت crime کی نہیں بلکہ ٹارٹ کی تھی اور اسےtort against the marital rights of the husband، /english] یعنی شوہر کے ازدواجی حق کے خلاف عدوان، کہا جاتا تھا، اور ثابت ہونے پر متاثرہ شوہر زر تلافی کا حق دار ہوتا۔ البتہ rape کو کرائم مانا جاتا تھا۔

جیسا کہ ذہین قارئین کے ذہن میں سوال ہوگا کہ عقد زواج کے بغیر مرد و عورت کے جنسی تعلق کی ایک تیسری قسم بھی ہوسکتی ہے کہ دونوں بغیر عقد زواج کے لیکن باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کر لیں، اور عورت کسی اور کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھی ہوئی بھی نہ ہو۔ اس صورت کو، جسے عام طور پر fornication کہا جاتا تھا، انگریزی قانون کی رو سے نہ کرائم مانا جاتا، نہ ہی ٹارٹ۔ بہ الفاظِ دیگر یہ قانون کی خلاف ورزی (legal wrong) /english]نہیں تھی، اگرچہ کچھ لوگ اسے اخلاقی برائی (moral wrong) /english] مانتے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے کہ انھیں برا کہنے والے ہی اخلاقی برائی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عارضہ - احسان کوہاٹی

سوال یہ ہے کہ فورنی کیشن، ایڈلٹری اور ریپ میں یہ فرق انگریزی قانون کے کس اصول پر مبنی ہے؟ ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انگریزی قانون نے مرد و عورت کے جنسی تعلق کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: بالرضا اور بالجبر اور بالجبر کو جرم قرار دیا جبکہ بالرضا کو صرف اسی صورت میں قانون کا مسئلہ مانا جب اس سے کسی اور شخص کا انفرادی حق بھی متاثر ہوتا ہو۔ چنانچہ اگر اس سے کسی اور شخص کا حق متاثر ہوتا ہو تو اسے اس شخص کا مسئلہ قرار دیا گیا لیکن بالجبر کی صورت میں اسے پورے معاشرے کا مسئلہ قرار دیا۔ گویا انگریزی قانون کے مطابق جنسی تعلق کو جو چیز انفرادی مسئلے سے اجتماعی مسئلہ بناتی ہے وہ "جبر" کا عنصر ہے۔ یہ عنصر مفقود ہو تو جرم نہیں ہے۔ ہاں، اگر کسی اور شخص کا حق متاثر ہوتا ہو تو اسے زر تلافی کے حصول کا حق میسر ہے۔ پھر مزید یہ مان لیا گیا کہ جب عاقل بالغ مرد اور عورت باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں اور وہ کسی اور سے ازدواجی تعلق میں بندھے ہوئے بھی نہ ہوں، تو نہ اس سے کسی اور کا (مثلاً ماں باپ کا) شخصی حق متاثر ہوتا ہے نہ ہی معاشرے کا اجتماعی حق، خواہ اس مرد اور عورت نے آپس میں عقدِ زواج نہ کیا ہو۔

اب بھارت کی سپریم کورٹ نے "زنا بہ زنِ غیر" سے متعلق قانون کو بھارتی دستور میں تسلیم کیے گئے حقوق سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیا ہےاور کہہ دیا ہے کہ بیوی کے اس فعل سے شوہر کا کوئی حق متاثر نہیں ہوتا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ "زنا بہ زنِ غیر "کا قانون بیوی کو شوہر کی ملکیت ماننے کے مفروضے پر مبنی ہے، اور اسی لیے بیوی کی شوہر کے سوا کسی اور مرد کے ساتھ ہم بستری کو شوہر کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس مفروضے کو "مساوات" کے اصول کی خلاف ورزی قرار دیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ "زنا بہ زن غیر "کو جرم ماننا تو دستور سے متصادم ہے، لیکن اسے "انفرادی حق" کی خلاف ورزی مانا جاسکتا ہے، اور اس بنیاد پر شوہر ازدواجی تعلق کے خاتمے کےلیے مقدمہ دائر کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس مشرا نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عورت کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس طرح سوچے جیسے مرد یا معاشرہ سوچتا ہے۔ جسٹس چندراچند نے لکھا کہ یہ قانون عورت کی جنسی آزادی کا حق چھینتا ہے۔ انھوں نے مزید تصریح کی کہ یہ قانون عورت کی "مرضی" کی نفی کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس مشرا نے لکھا کہ اگر بیوی کے اس فعل کے نتیجے میں شوہر نے خودکشی کی اور شواہد سے ثابت ہوا کہ خودکشی کی وجہ بیوی کا یہ فعل تھا تو اس صورت میں بیوی کو خودکشی کی abetment یعنی ترغیب یا اعانت کا مرتکب مانا جائے گا اور اس صورت میں اس پر سزا ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلاق کے اسباب اور حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

سوال یہ ہے کہ ان "اقدار" کا ماخذ کیا ہے جن کو معیار مان کر کسی قانون کی صحت یا عدم صحت کا فیصلہ کیا جاتا ہے؟

پس نوشت:
چونکہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے چند دن قبل ایک اور فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے کے قانون کو بھی "حقوق" سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا ہے، اس لیے ہمارے بعض لبرل دوستوں نے ایسی "تحقیقات" شیئر کرنی شروع کردیں جن سے ثابت کیا جا سکے کہ ہم جنس پرستی اور زنا بلکہ استلذاذ بالاقارب (incest) کی بھی مختلف صورتیں، سلاطین یا مغلوں کے دور میں بھی ہندوستان میں رائج رہیں۔ ان "تحقیقات" کو ایک لمحے کےلیے درست مان بھی لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ قانون توڑنے والے تو ہر معاشرے میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ اس سے یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ افعال قانونا جرم ہی نہیں تھے؟

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.